دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سندھ طاس معاہدہ: امریکی جریدے کا حقیقت پر مبنی انکشاف
No image سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر امریکی جریدے ’دی نیشنل انٹرسٹ‘ نے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی اقدامات سے جنوبی ایشیا میں بڑا انسانی خطرہ بن سکتا ہے۔ جریدے کے مطابق ، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست نے نیا رخ اختیار کر لیا، سندھ طاس معاہدے کی معطلی علاقائی کشیدگی بڑھائے گی۔ بھارت کا دلہستی سٹیج ْٹو منصوبہ سندھ طاس معاہدے کے خلاف قدم ہے جسے بھارت تزویراتی ہتھیار بنا رہا ہے، بھارت کی جانب سے آبی اعداد و شمار کی فراہمی روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کی سلامتی کو تاراج کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ فالس فلیگ آپریشنز اور آبی جارحیت اس کے مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ سال 2025ء میں خود ساختہ پہلگام واقعہ کو جواز بنا کر بھارت نے پہلے سندھ طاس معاہدے کو ازخود معطل کیا، اس کے بعد پاکستان کی سلامتی کے خلاف چڑھ دوڑا جس پر پاکستان نے 10 مئی کو اسے مسکت جواب دے کر اس کا نشہ ہرن کیا۔ بھارت اپنی اس بدترین ہزیمت کے بعد امریکا کے ترلے منتیں کرکے جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوا مگر اس نے تاحال سندھ طاس معاہدے کی خودساختہ معطلی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ امریکا نے مداخلت کرکے بلامشروط جنگ بندی تو کرادی مگر سندھ طاس معاہدے کی بحالی پر نہ بھارت پر دباؤ ڈالا اور نہ اس کی بحالی کے لیے کوئی اقدامات کیے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کی معطلی اب جنوبی ایشیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے جس کا اعتراف اب مذکورہ امریکی جریدہ بھی کر رہا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ عالمی ثالثی عدالت بھارت پر واضح کر چکی ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا مگر بھارت کے اس اقدام پر اس کے خلاف عالمی عدالت انصاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اب جبکہ امریکا سمیت دنیا کو یہ ادراک ہو چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی جنوبی ایشیا کے انسانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے تو ان عالمی طاقتوں اور اداروں کو بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ معاہدہ بحال کرے اور اس کی خلاف ورزیوں سے باز رہے۔ اگر عالمی ادارے اور طاقتیں اب بھی مصلحتوں کا لبادہ اوڑھے بیٹھی رہیں تو بھارت کے ہاتھوں جنوبی ایشیا کی تباہی زیادہ دور کی بات نہیں۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں