امریکی پابندیاں : بھارت چاہ بہاربندرگاہ سے بھاگ گیا

امریکی پابندیوں کے باعث بھارت ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کررہا ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کردی ہے جس کے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی اجتماعی طورپر مستعفی ہوگئے ہیں۔ اسکے علاوہ IPGL کی آفیشل ویب سائٹ کو بھی غیر فعال کردیا گیا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ سے خاموشی کے ساتھ علیحدگی کے معاملے پر اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے مودی سرکار پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سوال چاہ بہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ مودی امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے؟2024 ءمیں بھارت نے 10 سال کیلئے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا تھا تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت نے ایرانی بندرگاہ سے جڑے منصوبے کو ترک کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ایران سے کئے گئے معاہدے کو امریکی دباؤ میں ترک کر دینا بھارت کی دوغلی پالیسیوں کا ثبوت ہے۔بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ بظاہر سرمایہ کاری کیلئے لی تھی لیکن در حقیقت وہ اس منصوبے کواپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کر رہا تھا تاکہ چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والا گیم چینجر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سبوتاژ کر سکے۔ لیکن امریکی پابندیوں کے باعث اس منصوبے کی سرگرمیوں اور اصل کردار سے پردہ اٹھ چکا ہے جس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کومزید نقصان پہنچا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ سے ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی سرگرمیاں جاری تھیں جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے بعد ایرانی حکام پہلے ہی چاہ بہار بندرگاہ اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر الرٹ تھے۔ عالمی سطح پر دو ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے ان دونوں ملکوں کی باہمی ترقی و خوشحالی کے تناظر میں کئے جاتے ہیں مگر بھارت کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاہدوں کو بھی اپنی سیاست کیلئے استعمال کرتا ہے ۔چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ بھی اسکے توسیع پسندانہ عزائم اور بالخصوص چین اور پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے عزائم کو ظاہر کررہا تھا۔ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کی شرانگیزیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں اور امریکی پابندیوں کے بعد چاہ بہار بندرگاہ کی ناکامی کے بعد بھارتی عزائم دنیا کیلئے مزید خطرناک ہوسکتے ہیں اس لئے دنیا کو اسکی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں