دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود بچوں کی شہادتیں جاری
No image اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے اطفال (یونیسف) نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں 100 سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ یونیسف کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف ان ہلاکتوں پر مشتمل ہیں جن کی تصدیق ممکن ہو سکی ہے۔ یونیسف کے ترجمان جیمس ایلڈر نے غزہ سے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد بھی فضائی حملوں، ڈرون حملوں بشمول خودکش ڈرون، ٹینکوں اور گولہ باری کے ذریعے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کے دوران بھی تقریباً روزانہ ایک بچہ شہید کیا جا رہا ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد مجموعی طور پر 442 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 165 بچے شامل ہیں، جبکہ رواں سال کے آغاز سے شدید سردی کے باعث بھی کم از کم 7 بچوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ حملوں اور محاصرے کے باعث زخمیوں اور ہلاکتوں کی درست گنتی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد بھی غزہ کے بچے شدید خوف، عدم تحفظ اور ناقابلِ علاج نفسیاتی صدمے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگ بندی کا مقصد بمباری کو روکنا تھا، مگر اس کے باوجود بچوں کی ہلاکتیں جاری رہنا ایک سنگین المیہ ہے۔ یونیسف نے اسرائیل کی جانب سے عالمی امدادی تنظیموں کے داخلے پر پابندی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امداد کی بندش دراصل زندگی بچانے کے مواقع کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی کارروائیوں کا تسلسل اور عالمی اداروں کی محض زبانی مذمت ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسے میں عالمی برادری، خصوصاً او آئی سی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے فلسطینی بچوں اور خواتین کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
واپس کریں