دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فیصلہ قبل از ٹرائل؟تحریر: مطیع اللہ جان
No image ایڈوکیٹ ایمان اور ھادی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ میں بھرپور کوآرڈینیشن نظر آتا ہے، کچھ اطلاعات کیمطابق ایڈوکیٹ ایمان مزاری کیطرف سے جج مجوکہ کی عدالت سے مقدمہ کسی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو اچانک سماعت کے لئیے مقرر کر دی ہے، یہ درخواست طویل عرصے سے سماعت کی لئیے مقرر نہیں ہو رہی تھی اور اس درخواست پر فیصلے کے بغیر قانونی طور پر جج مجوکہ کی ٹرائل کورٹ کاروائی جاری رکھنے کے باوجود فیصلہ نہیں سنا سکتی تھی-
اب جبکہ جج مجوکہ نے مقدمے کو غیر معمولی رفتار سے آخری مرحلے تک پہنچا دیا ہے تو بظاہر اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمے کی دوسری عدالت میں منتقلی کی درخواست پیر کو سماعت کے لئیے مقرر کر دی ہے جسکے مسترد ہونے کی صورت میں جج مجوکہ فوری طور پر فیصلہ (سزا) سنا سکینگے اور ایڈوکیٹ ایمان مزاری مقدمے کی منتقلی کی اسدعاُہائی کورٹ سے مسترد ہونے کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی نہ کر پائینگی اور مقدمہ منتقلی کی سپریم کورٹ میں بھی اپیل غیر مؤثر ہو جائیگی۔
اگر ہائی کورٹ مقدمہ منتقلی پر پہلے فیصلہ سنا دیتی تو جج مجوکہ اسوقت فیصلہ سنانے کے مرحلے تک نہیں پہنچے تھے اور ایمان مزاری کو ہائی کورٹ سے مقدمہ منتقلی کے انکار پر سپریم کورٹ میں اپیل اور اُس پر دلائل کا مناسب وقت ملتا جس میں جج مجوکہ کی عدالت سے مقدمہ منتقل ہونے کا بھی امکان تھا اور یوں یہ مقدمہ نئے سرے سے معمول کے مطابق سنا جاتا۔
اب لگتا ہے کہ پیر یا اُس سے اگلے چند دن میں ہائی کورٹ سے مقدمہ منتقلی کی استدعا مسترد ہو گی اور ساتھ ہی جج مجوکہ ایمان مزاری اور ھادی کے کیس میں فیصلہ (سزا) سنا دینگے۔ اس ساری صورت حال سے بظاہر لگتا ہے کہ ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹس مخصوص مقدمات میں وقت کو ہتھیار بنا کر مقتدر حلقوں کی منشا اور مرضی کیمطابق سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو سزائیں سنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
کیا اس حوالے سے نام نہاد نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کوئی پالیسی وضع کریگی؟ کیا مقدمہ منتقلی کی ہائی کورٹ میں درخواست یا سپریم کورٹ سے فیصلے تک ٹرائل کو روک نہیں دینا چاہیے؟ کیا مقدمہ منتقلی کی درخواست یا اپیل پر فوری سماعت اور فیصلہ نہیں ہونا چاہئیے؟ اور کیا ٹرائل کورٹ میں فیصلہ آ جانے کے باوجود سپریم کورٹ کو مقدمہ منتقلی کے لئیے قانونی نکات پر فیصلہ نہیں دینا چاہئیے؟
فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں ایڈوکیٹ ایمان مزاری کو جس طرح قومی میڈیا پر ملک دشمن ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے اسکے بعد استغاثہ کے گواہوں اور مقدمے کے شواہد کمزور اور ناکافی ثابت ہونے کے باوجود عدالتوں پر ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی کو سزا دینے کے لئیے شدید دباؤ ہے۔
واپس کریں