دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کشمیری عوام کا مضبوط و قابلِ اعتماد وکیل ،تحریکِ آزادی کشمیر فیصلہ کن مرحلے میں داخل
No image رپورٹ۔ نجیب الغفور خان(جموں و کشمیر لبریشن سیل) 5 جنوری کو دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام یوم حق خودارادیت کے طور پر مناتے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق فراہم کرنے کی یاد دلاتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ طور پر کریں۔ اقوام متحدہ نے 5 جنوری 1949ء کو کشمیری عوام کے اس بنیادی حق کو تسلیم کیا تھا جو آج تک بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں اور ریاستی جبر کے باعث معطل ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری عوام پر مظالم کی ایک سیاہ تاریخ رقم کر رہا ہے،بے گناہ کشمیریوں کی شہادت، خواتین کی بے حرمتی، بچوں کو یتیم بنانا، اور آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے طاقت کا بے دریغ استعمال انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی مثالیں ہیں۔ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔ہر سال اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری بلخصوص اقوام متحدہ کو یہ یاد دلانا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق،حق خودارادیت دلائیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں۔
جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یوم حق خود ارادیت کے موقع پر جموں و کشمیر ہاؤس اسلام اآبادمیں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے سیمینار کے مہمانِ خصوصی موسٹ وزیرآزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر میاں عبدالوحید تھے جبکہ صدارت نبیلہ اایوب خان وزیربرائے کشمیر کاز،کاز آڑٹس اینڈ لینگویجزنے کی۔ دیگر مہمانان گرامی میں سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان، سابق صدر سردار مسعود خان، سابق وزرائے اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان، سردارعتیق احمد خان، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیرڈاکٹرراجہ مشتاق خان، سینئر حریت رہنماء الطاف احمد بٹ، شمیم شال، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، راجہ خان افسر خا ن شا مل تھے، جبکہ نظامت کے فرائض نجیب الغفور خان نے ادا کئے۔سیمینار میں جامعات کے طلباء کی کثیر تعداد کے علاوہ، سول سوسائٹی، وکلا، سکالرز کے علاوہ قومی و بین الاقوامی میڈیا کی کثیر تعداد شریک ہوئی اور لائیو کوریج کی۔
نبیلہ ایوب (وزیربرائے کشمیر کاز، آڑٹس اینڈ لینگویجز) نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام اس سیمینار کابنیادی مقصد عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو وہ وعدہ یاد دلانا ہے جو سات دہائیاں قبل جموں و کشمیر کے عوام سے کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ یومِ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کے بنیادی حق کی علامت ہے۔ بھارت خود یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ میں لے کر گیا تھا اور کشمیریوں کو استصوابِ رائے دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر بعد ازاں اس سے انحراف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 77 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے حق کے لیے آج بھی پرعزم ہیں اور بھارتی ظلم ان کے جذبہ آزادی کو کمزور نہیں کر سکتا۔5جنوری 1949کو اقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظورکی جس میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خودکرنے کے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس میں معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور سپریم کورٹ آف انڈیا کا فیصلہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے تحت اس متنازعہ علاقے کو نوآبادیات بنانے کی کوشش ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے حصول تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں بلخصوص اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیری عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا موقع دے۔نبیلہ ایوب خان نے تحریکِ آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری جدوجہد 1832ء میں سبز علی خان اور ملی خان کی قربانیوں سے شروع ہوئی تھی۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ''ہزار سالہ جنگ'' کے نظریے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی میزائل ٹیکنالوجی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جس نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ وزیر برائے کشمیر کاز، آرٹس اینڈ لینگویجز، نبیلہ ایوب خان نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کی کارکردگی کو مزید فعال، منظم اور مؤثر بنانے کے لیے جامع اور مربوط حکمتِ عملی پر عمل درآمد جاری ہے۔ لبریشن سیل کو ایک مثالی ریاستی ادارہ بنایا جائے گا تاکہ اپنے بنیادی مقاصد کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
میاں عبد الوحید (موسٹ سینئر وزیرآزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر)نے کہا کہ یومِ حقِ خودارادیت ایک تاریخی دن ہے اور یہ قرارداد وہ واحد دستاویز ہے جس کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اقوامِ عالم کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریکِ آزادی کشمیر کسی ماہ و سال کی پابند نہیں بلکہ قربانیوں اور استقامت کی علامت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اصل فریق کشمیری عوام ہیں جنہوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق اتحاد، یکجہتی اور مضبوط قومی آواز کے بغیر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر نہیں کیا جا سکتا۔ ہم یوم حق خودارادیت منا رہے ہیں تو ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ آزادی کی تحریک میں ہم اُن کے شانہ بشانہ ہیں اور ہماری یہ جدوجہد مقبوضہ کشمیر کی بھارت کے غاصبانہ اور جابرانہ تسلط سے آزادی تک جاری و ساری رہے گی۔ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑے گی اور تحریک آزادی کشمیر انشاء اللہ جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ ا نہوں نے لبریشن سیل اور وزیر حکومت نبیلہ ایوب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ''کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں جنہوں نے اپنی آزادی کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔'' انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کی تحریکیں وقت کی محتاج نہیں ہوتیں، انشاء اللہ کامیابی ہمارا مقدر ہوگی۔ پاکستان ہمارا مضبوط وکیل ہے اور ہمیں داخلی کمزوریوں کو ختم کر کے اتحاد و یکجہتی سے دنیا تک اپنی آواز پہنچانی ہوگی۔
سردار محمد یعقوب خان (سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر) نے کہا کہ 5 جنوری مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی اہم دن ہے اور اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اس قرارداد پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے اور میڈیا نے کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، ریاست جموں و کشمیر کے عوام مشکلات کے باوجود بھارت سے آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کی اس جدوجہد کی یاد دہانی ہے جس کا مقصد ان کے جائز حق خود ارادیت کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کشمیری عوام کئی دہائیوں سے نا انصافی اور ظلم کا شکار ہیں، عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرے اور مسئلہ کشمیر کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔ انہوں نے اگست 2019میں بھارت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے اس اقدام کو خطے کی سیاسی اور ثقافتی شناخت کے لیے تباہ کن قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ دفعہ370کی منسوخی سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خودمختاری چھین لی گئی اور ظلم وجبر کا نیا دورشروع کیاگیا جس میں جبری گرفتاریاں، دوران حراست قتل، جبری گمشدگیاں،عالمی سطح پر ممنوعہ پیلٹ گنوں سے معصوم شہریوں کو بینائی سے محروم کرنا اور دیگر مظالم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا آج کا دن اقوامِ متحدہ کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کروائے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے کشمیریوں کی پکار کو پوری دنیا میں پہنچایا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے جلد ایک ''آل پارٹیز کانفرنس'' منعقد کی جائے گی۔
سردار مسعود خان (سابق صدر آزاد جموں و کشمیر) نے کہا کہ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا مسلمہ، ناقابلِ تردید اور بنیادی حق ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید سفارتکاری نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ ہے اور شہداء کے خون کی بدولت قائم ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز دنیا تک پہنچائے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو منظم طریقے سے حق رائے دہی سے محروم کیاجارہاہے۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو درپیش سنگین سماجی و اقتصادی چیلنجوں کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی جو بقول ان کے امتیازی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کریں۔5جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دینے کی قرارداد منظور کی تھی جو آج تک عملدرآمد کی منتظر ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں سیاسی اپروچ بدل چکی ہے، ہمیں جدید تقاضوں کے مطابق سفارت کاری کرنی ہوگی۔ انہوں نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاراجہ کشمیر کے ساتھ ''سٹینڈ سٹل'' معاہدے کے باوجود بھارت نے سازش کے تحت قبضہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری اپنے پیدائشی حقِ خودارادیت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
راجہ محمد فاروق حیدر خان (سابق وزیراعظم آزاد کشمیر) نے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کی جانب سے یومِ حقِ خودارادیت پر سیمینار کا انعقاد قابلِ تحسین ہے۔5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کو غیر قانونی ہیں، یہ اقدامات کشمیری عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام کشمیری قیادت کو مل بیٹھ کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔راجہ فاروق حیدر خان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی توثیق کرنے والی اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اس حق سے انکار بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری تشدد، تباہی اور نسل کشی کے خطرے کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جوہری تنازعہ کو ٹالنے کے لیے اس مسئلے کو فوری حل کرے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جسکا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اس نے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن کشمیری ابھی تک اپنے حق خود ارادیت سے محروم ہیں۔ راجہ محمد فاروق حیدر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تجویز دی کہ کشمیری رہنماؤں کا ایک ''ان کیمرہ'' اجلاس بلایا جائے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کا ایک سال باقی ہے، اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں گڑبڑ پیدا کر کے تحریکِ آزادی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا سدِباب ضروری ہے۔ انہوں نے مہاجرینِ جموں و کشمیر کو ریاست کا ناقابلِ تنسیخ حصہ قرار دیا۔
سردار عتیق احمد خان (سابق وزیراعظم آزاد کشمیر) نے کہا کہ 5 جنوری کی قرارداد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کشمیریوں کی تحریکِ آزادی طویل اور قربانیوں سے بھرپور ہے، جس نے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش میں ناکام رہے گا، عالمی برادری کو ان رپورٹس کی روشنی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیتے ہوئے جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھارت کی ہٹ دھرمی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، تاریخ کبھی اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو معاف نہیں کرے گی کیونکہ کشمیریوں پر ظلم ہوتا رہا اور آپ خاموش رہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارتی چنگل سے آزاد ہو گا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں تقسیمِ ہند کے اصولوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی ضامن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ریاست میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے ''بنیان مرصوص'' اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی دفاعی کامیابیوں کو مسئلہ کشمیر کے لیے تقویت کا باعث قرار دیا۔
ڈاکٹر راجہ مشتاق خان (امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر) نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے ناگزیر ہے۔ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور بھارت کا ظلم و جبر اس تحریک کو دبا نہیں سکتا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قراردادوں پر فوری عملدرآمد کرائے۔ آج ضرروت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ اس منفی تاثر کو ختم کرتے ہوئے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کر وائے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خودارایت دلائے۔ چونکہ مسئلہ کشمیر ہی عالمی امن کا ضامن ہے۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو یہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے جس کی لپیٹ میں نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی وسیع پیمانے پر نقصانات ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ یہ نہ صرف یہ عالمی امن کے لئے بہتر ہو گا۔ بلکہ پاکستان بھارت سمیت جنوبی ایشاء میں امن سلامتی اور خوشحالی کا ضامن ہو گا۔
الطاف احمد بٹ (سنیئرحریت رہنماء) نے کہا کہ 1949ء سے آج تک بھارت نے اس قرارداد پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا بلکہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے اس معاملے کو ٹالتا رہا۔ چونکہ کشمیر کے متعلق اس قرارداد سے بھارت سمیت دیگر مغربی طاقتوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا جس کی وجہ سے وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ بظاہر اقوام متحدہ ایک ادارہ ہے مگر حقیقت میں یہ مغربی طاقتوں کا بغل بچہ ہے۔ 5جنوری کا دن اقوام متحدہ سمیت عالمی امن کے دعوی دار عالمی اداروں کے ضمیرجنجھوڑنے کا دن ہے کیونکہ حق خود ارادیت کشمیریوں کا پیدائشی حق ہے۔انسان چونکہ آزاد پیدا ہوا ہے اور اس کو غلام رکھنے کا حق کسی کو بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ آزادی کی تحریکوں کو اقوام متحدہ کے منشور میں جاری و ساری رکھنے کو بنیادی انسانی حقوق کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
شمیم شال(حریت رہنماء) نے کہا کہ پانچ جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا، اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ریاست بھر میں استصواب رائے کروانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ بھارت مسلسل کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی نفی کرتا رہا ہے، بھارت کے جابرانہ قبضے اور ہٹ دھرمی کے خلاف دنیا بھر میں موجود کشمیری کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔آج کے دن جموں و کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود کشمیری یوم حق خود ارادیت منا رہے ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں سے رو گردانی کرتا آ رہا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے، اور بھارتی فوج اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔
ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان(ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ) 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بنیاد اور بین الاقوامی قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ کشمیری عوام کسی صورت تقسیمِ کشمیر قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کشمیریوں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کا جائز اور پیدائشی حق دلائے۔
سیمینار کے اختتام پر ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل راجہ خان افسر خان نییہ قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام یوم حق خودارادیت کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں اورآل پارٹیز حریت کانفرنس کے زعماء کی موجودگی میں بذیل قرارداد پیش کی جاتی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ79سال سے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ان کو یہ حق اقوام متحدہ اور عالمی قوانین نے دیا ہے۔آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔یہ سیمینار 1947ء کی جدوجہد آزادی کشمیر کے زعماء کو خواج عقیدت پیش کرتا ہے۔جن کی جدوجہدسے آزاد کشمیر کا یہ خطہ آزاد ہوا۔ یہ سیمینار حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں مزید موثرطریقہ سے اجاگر کرے۔ شرکاء سیمینار مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقید حریت پسند راہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شرکاء سیمینار اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کے لئے آزاد کشمیر حکومت اور سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں گے۔یہ سیمینار عالمی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے میں اپنا کردار دا کریں۔
سیمینار میں سردارمحمد صدیق خان، راجہ پرویز احمد،،لعل حسین راجپوت، سردار علی شان،سردار ساجد محمود،راجہ راشد رضا،خواجہ عمران الحق،، ظفر مغل،راجہ بشیر،راجہ عبدالجبار،روبینہ بٹ،وسیم یونس،عبدالرافع اعجاز،خواجہ عرفان بانڈے، چوہدری شکیل احمد، یوسف ہمدانی، خالد گجر سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ تقریب کی نظامت انچارج ڈیجیٹل میڈیا سردار نجیب الغفور خان نے کی، جبکہ اختتامی دعا راجہ بشیر عثمانی نے کرائی جس میں شہدائے کشمیر و پاک فوج کی بلندیِ درجات اور کشمیر کی جلد آزادی،پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لئے دعا کی گئی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں یوم حق خودارادیت کے موقع پر منعقد ہ سیمینار کے مثبت اثرات
سیمینار میں 5جنوری1949ء کی قرارداد،حق خود ارادیت اور اقوام متحدہ کے کردار پر سیر حاصل بحث ہوئی جس سے نوجوان نسل جو کثیر تعداد میں شریک تھی کو اس حوالے سے بھر پورآگاہی ہوئی۔ سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی شرکت سے ایک مثبت پیغام گیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ جموں و کشمیر پر اپنا اختلاف رائے بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شرکاء سیمینار نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ کشمیری سیاسی نظربندوں کی حالت زار کی طرف مبذول کرائی اور حریت رہنماؤں اور دیگر سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء سیمینارنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی اہمیت کا اعادہ کیاجس سے عالمی اداروں کو ایک جامع پیغام گیا۔ لائیو الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا کوریج سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیاں نہ صرف دنیا کے سامنے آئیں بلکہ بھارت کا حقیقی اورغیر جمہوری چہرہ بھی دنیا پر واضع ہوا۔
واپس کریں