
آج سے دس برس قبل، سعودی عرب کی قیادت میں قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی عرب ممالک نے یمن پر حملہ کر دیا تھا، جس کا بنیادی مقصد وہاں ایران کے پراکسی حوثیوں کا راستہ روکنا تھا۔ اس وقت پاکستان پر بھی اس جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات اور ذاتی احسانات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا، تاکہ باہمی تعلقات بھی خراب نہ ہوں اور باوقار انداز میں انکار ہو سکے۔
لیکن اس وقت وقار والوں نے اپنے لاڈلے سے بائیکاٹ ختم کروا کر پارلیمان پہنچایا، اور پھر انہوں نے حسبِ دستور پارلیمانی فورم پر ایسی غیر پارلیمانی طرزِ گفتگو اختیار کی کہ سعودی عرب سمیت سبھی ناراض ہو گئے۔ متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر نے تو باقاعدہ پاکستان کو اس کی قیمت ادا کرنے کی دھمکی دے دی۔ نواز شریف نے واقعی پھر اس کی قیمت ادا کی،
جبکہ شکریہ شریف نے بدلے میں شاہی دربار کی نوکری حاصل کی۔
لیکن وقت کا پہیہ الٹا چلا۔ دو برس بعد قطر کے ساتھ باقیوں کے تعلقات خراب ہو گئے، اور پھر آخرکار سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہوئے۔
امارات نے اتحاد کی ایک باغی گروہ "سدرن ٹرانزیشنل کونسل" (STC) کی حمایت شروع کر دی۔ اس وقت امارات کے تعاون سے ایس ٹی سی یمن کے جنوب کے بڑے حصے پر قابض ہے، جس میں سٹریٹیجک طور پر اہم صوبہ حضرموت بھی شامل ہے۔ حضرموت سعودی عرب کی سرحد پر واقع ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔
کل متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ سے اسلحے کے بھرے ہوئے دو جہاز یمن کے مکلا بندرگاہ میں بغیر اجازت داخل ہوئے، جس وقت انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کرکے ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتارنا شروع کیں ، اسی لمحے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد نے انہیں نشانہ بنایا۔
اس حملے کے بعد سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ:
“ متحدہ عرب امارات کی جانب سے سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو فوجی مدد فراہم کرنا یمن اور سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ نیز سعودی عرب کو ان اقدامات پر مایوسی ہوئی، جن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کی افواج پر دباؤ ڈال کر مملکت کی جنوبی سرحدوں پر حضرموت اور المہرا کے صوبوں میں فوجی کارروائیاں کروائی گئیں۔ ہم کسی بھی ملک کی جانب سے کسی یمنی گروہ کو فوجی مدد فراہم کرنے سے روکتے رہیں گے۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی قومی سلامتی اور یمن و خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔"
سعودی اتحاد نے امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج واپس بلانے کا الٹی میٹم دے دیا، جس کے بعد متحدہ عرب امارات کو فوری طور پر یمن میں اپنے فوجی مشنز ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔"
یاد رہے، متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے رحیم یار خان میں شیخ زاید پیلس میں متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کررہے تھے اور جس وقت یہ ملاقات ہو رہی تھی، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے باہمی تعلقات پر گفتگو کر رہے تھے۔
گزشتہ کئی برسوں سے متحدہ عرب امارات اپنے اسٹریٹیجک مفاد کے لیے سعودی عرب سمیت کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔
سعودی تحفظات کے باوجود یو اے ای سنہ 2021 سے آبنائے باب المندب میں جزیرے مایون (پریم) پر ایک فضائی اڈہ بنا رہا ہے۔ اس اسٹریٹیجک مقام پر فوجی اڈہ سعودی عرب کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
جس طرح یو اے ای کبھی بھی نہیں چاہتا کہ گوادر ترقی کرے اور دبئی کے مقابلے میں ابھرے۔
اسی طرز پر سعودی عرب کا نیا شہر نیومُ بھی متحدہ عرب امارات کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے ۔
کل ہی ایک یمنی فوجی اعلیٰ عہدیدار نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے حوثی قیادت سے رابطہ کیا اور ان سے سعودی عرب کے شہر "نیوم" پر میزائل حملے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بدلے میں امارات نے حوثی حکومت کو تسلیم کرنے، بھرپور مالی مدد فراہم کرنے اور عسکری تعاون کا لالچ دیا تھا۔
لیکن الحمد للہ، پاکستانی ملنگوں نے گزشتہ دو برسوں میں بڑوں بڑوں کی غلط فہمیاں دور کر دی ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی میں بنیادی کردار ایران اور یو اے ای کا تھا۔ ایران سے بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو اسلحہ اور یو اے ای سے مالی تعاون ملتا تھا۔ اسی طرح افغان زومبیز کو بھی یو اے ای کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ایران کا قبلہ تو درست ہو چکا ہے، دوسری جانب ملنگ خاموشی سے یمن، لیبیا اور سوڈان میں مختلف گروہوں کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ سوڈان اور لیبیا نے اسلحہ خریدنے کے معاہدے بھی کر لیے ہیں۔ یو اے ای کی یمن سے حالیہ پسپائی اس بات کا ثبوت ہے کہ یا شیخ اگر اپنے مفادات عزیز ہیں تو پھر
“ ناں چھیڑ ملنگاں نوں “
واپس کریں