دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خواجہ عبدالرحمن بٹ کی 38 ویں برسی۔تحریر: بشیراللہ انقلابی
No image خواجہ عبدالرحمن بٹ کی ابتدائی زندگی اور ہجرت: خواجہ عبدالرحمن بٹ کی پیدائش مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہوئی، لیکن 1949 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ یہ ہجرت کشمیری عوام کے لیے ایک سنگین لمحہ تھی، کیونکہ بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے باعث لاکھوں کشمیری اپنے وطن سے بے دخل ہو گئے۔ خواجہ عبدالرحمن بٹ اور ان کے خاندان نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد کو اپنا نیا مسکن بنایا، جہاں وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ آئے، جبکہ ان کے بھائی اور دیگر فیملی ممبران مقبوضہ کشمیر میں ہی مقیم رہے۔
پاکستان آ کر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم پر کام: پاکستان میں آنے کے بعد خواجہ عبدالرحمن بٹ نے مسلم کانفرنس پلیٹ فارم سے کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے متحرک رہے، بلکہ پاکستان کے تمام مسائل میں بھی ہمیشہ اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی سیاسی جدوجہد نے ان کے ہم عصر سیاستدانوں میں ان کی ایک ممتاز حیثیت قائم کی۔خواجہ عبدالرحمن بٹ نے مسلم کانفرنس کے ذریعے کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کی الحاق کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں متعدد سیاسی رہنماؤں جیسے چوہدری غلام عباس، سردار ابراہیم، مجاہدو اول سردار عبدالقیوم خان اور راجہ حیدر خان کے ساتھ مل کر کام کیا۔ ان کی سیاسی بصیرت اور عزم نے ان کو ایک عظیم رہنما کے طور پر اُبھرنے میں مدد دی۔
کشمیر کی آزادی اور مسلم کانفرنس کے ساتھ وابستگی: خواجہ عبدالرحمن بٹ کا ہمیشہ یہ ایمان رہا کہ کشمیر کا مستقبل پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لیے وقف کر دی تھی کہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا یہ نظریہ کسی مفاد کی بنا پر نہیں تھا بلکہ یہ ایک جذباتی وابستگی تھی جو ان کے خون میں تھی، کیونکہ وہ خود کشمیری تھے اور ان کا دل ہمیشہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں شامل رہا۔ان کی مسلم کانفرنس کے ساتھ وابستگی نے نہ صرف پاکستان بلکہ کشمیر کے مسئلے کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کی جدوجہد اور تحریکوں نے کشمیری عوام کو ایک نئی سمت فراہم کی اور اس بات کا شعور دیا کہ کشمیر کی آزادی پاکستان کے ساتھ الحاق میں ہی ہے۔
خواجہ عبدالرحمن بٹ کا سیاسی تعلق: خواجہ عبدالرحمن بٹ کا چوہدری غلام عباس اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ ان کے درمیان مشاورتی رابطے ہمیشہ مضبوط رہے۔یہ تعلق نہ صرف سیاسی طور پر اہم تھا بلکہ ان کی شخصیت کی گہرائی اور کشمیر کے حوالے سے ان کی مشترکہ فکر کو بھی ظاہر کرتا تھا۔خواجہ عبدالرحمن بٹ ہمیشہ سیاسی محاذ پر پیش پیش رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے مفادات کے لیے لڑتے رہے، خواہ ان کے لیے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں،خواجہ عبدالرحمن بٹ کا شمارمجاہداول سردار عبدالقیوم کے چند بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا جن سے اصولی مشاورت کی جاتی تھی۔
خواجہ عبدالرحمن بٹ کی زندگی کا مقصد: کشمیر کی آزادی:خواجہ عبدالرحمن بٹ کی زندگی کا مقصد ہمیشہ کشمیر کی آزادی رہا۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے اور اس کے لیے انہوں نے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کی۔ ان کا یہ عزم اور ارادہ آج بھی کشمیر کے باشندوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ خواجہ عبدالرحمن بٹ نے اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اس جدوجہد کو جاری رکھا اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس مقصد کے لیے وقف ہونے کی ترغیب دی۔
خواجہ عبدالرحمن بٹ آخری ایام: خواجہ عبدالرحمن بٹ ہزارہ سے مسلم کانفرنس کے صدر تھے۔ آخری دنوں میں بیماری کی وجہ سے جماعتی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تو مجاہداول سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ بٹ صاحب آپ کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا صدر نہیں ہوسکتا۔ مجاہداول کے یہ تاریخی الفاظ بٹ صاحب کی فیملی کے لیے ایک تاریخ رہتے ہیں جس کی وجہ سے آج بھی خواجہ عبدالرحمن بٹ کی صاحبزادی سمعیہ ساجد نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ہے۔ سمعیہ ساجد نہ صرف مسلم کانفرنس کی ایک اہم رکن ہیں بلکہ وہ اپنے والد کے نظریات اور جدوجہد کو زندہ رکھنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔سمعیہ ساجد کے خاند ان کا تعلق مسلم کانفرنس کے ساتھ 76سالہ تعلق ہے سمعیہ ساجد کا تعلق بھی صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کے بااعتماد قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ سمعیہ ساجد نے اپنی زندگی کو اپنے والد کی طرح کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے وقف کر دیا ہے۔سمعیہ ساجد کا کہنا ہے کہ ان کے والد کا خواب تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے اور اس کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی۔ ان کے والد کی یہ خواہش اب بھی زندہ ہے اور سمعیہ ساجد اسے اپنی زندگی کا مقصد مانتی ہیں۔سمعیہ ساجد مہاجرین مقیم پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے بھی پیش پیش رہتی ہیں۔
خواجہ عبدالرحمن بٹ کی 38 ویں برسی: خواجہ عبدالرحمن بٹ کی 38 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ خواجہ عبدالرحمن بٹ کی زندگی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک شخص اپنی قوم اور اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ سکتا ہے۔ ان کی جدوجہد آج بھی کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے اور ان کے خیالات و نظریات کشمیر کی آزادی کی منزل تک پہنچنے کے لیے ایک رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ ان کا یہ پیغام کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا، آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کی بیٹی سمعیہ ساجد کی قیادت میں یہ جدوجہد جاری ہے۔خواجہ عبدالرحمن بٹ کی زندگی ایک نہ ختم ہونے والی تحریک ہے جو ہمیشہ کشمیر کے عوام کو ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی رہے گی۔ ان کی 38 ویں برسی کے موقع پر ہمیں ان کی خدمات اور قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ کشمیر کی آزادی کا خواب جلد حقیقت بن سکے۔
واپس کریں