دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غیرریاستی جماعتوں کا بائکاٹ کرتے ہوئے لبریشن لیگ کے فورم سے انتخابات میں حصہ لیں گے،جموں کشمیر یوتھ کانفرنس
No image (راولپنڈی۔نامہ نگار)جموں کشمیر لبریشن لیگ یوتھ بورڈ کے زیرِ اہتمام "جموں کشمیر یوتھ کانفرنس" کا انعقاد راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔یوتھ کانفرنس میں ریاست بھر سے نوجوانان راہنماؤں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
جموں کشمیر لبریشن لیگ کے صدر خواجہ منظور قادر نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین سندھ طاس معاہدہ کے وقت کے ایچ خوشید کے بھرپور احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ معادہ دراصل جموں کشمیر کے آبی وسائل کے بھارت کے حوالے کرنا اپنی شہہ رگ کو بھارت کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبریشن لیگ کی جانب سے آزاد حکومت ریاست جموں کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جائز وارث اور نمائندہ حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ دراصل اس ریاست کے وجود کو دوبارہ بحال کروانے کا مطالبہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کو عملی طور پر فحال اور بااختیار بنا کر بین الاقوامی سطح پر ریاستی عوام کے حقِ آزادی کی نمائندہ حکومت تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس امر کیلئے جموں کشمیر لبریشن لیگ عملی طور پر انتخابات میں حصہ لے کر اپنا عملی کرنے ادا کرنے جا رہی ہے، لہٰذا ہم درخواست کرتے ہیں کہ آزاد جموں کشمیر کی عوام جموں کشمیر لبریشن لیگ کو اپنی جماعت سمجھتے ہوئے اس قافلہ میں شامل ہو اور ریاست کے وجود کو تحفظ دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔
کانفرنس کے منتظم اور میزبان چئیرمین یوتھ بورڈ جموں کشمیر لبریشن لیگ احسن لیاقت نے نوجوانانِ ریاست کو قافلہِ خورشید میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ سیکرٹری جنرل یوتھ بورڈ صہیب سلیمان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد کے حوالہ سے خطاب کیا۔
یوتھ کانفرنس میں سیکرٹری جنرل اسلام آباد بار ایسوسی ایشن عبدالحلیم بوٹو، چیف آرگنائزر جموں کشمیر لائرز فورم اویس الاسلام ایڈووکیٹ، اسٹیٹ یوتھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شاہد سعید قریشی، سینئر وزیر یوتھ اسمبلی علی شان حفیظ، صدر جموں کشمیر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن JKSO بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ہشام مظفر، سیکرٹری جنرل JKSO معاذ خان، سابق صدر JKSO سردار آریان ظفر، چییرمین نمل گلگت بلتستان کونسل رانا اسرار، عبادت یونیورسٹی کشمیر کونسل کی نمائندگی عثمان علی، چیف آرگنائزر نمل کشمیر کونسل حمزہ صدیر، راہنما عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان و آزاد جموں کشمیر عابد رشید، صحافی دانش ارشاد، صحافی کاشف میر، نامور صحافی احتشام الحق شامی( سردار رضوان احمد خان) سید رضوان حیدر بخاری، صدر مائک لیڈرشب کلب محمد عرفان یوسف قریشی، چئیرمین لبریشن لیگ مظفرآباد عدنان سلہریا، صدر بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن عون بلتستانی نے شرکت کی اور خطابات کیے۔
اس کے علاوہ سیکرٹری جنرل جموں کشمیر لبریشن لیگ افتخار احمد مغل، سینئر نائب صدر چوہدری نجیب افسر، چیف آرگنائزر راجہ افراء سیاب، سابق سینئیر نائب صدر نیاز احمد راٹھور، نائب صدر دلاور خان، ڈپٹی سیکرٹری جنرل لبریشن لیگ خلیق الرحمن سیفی ایڈوکیٹ، چئیرمین لبریشن لیگ ضلع حویلی سمیر صدیقی، سیکرٹری داکٹر عطاءاللہ دینپوری، راجہ گلزار، راجہ ریاض، محبوب لون، فرح محبوب لون وغیرہ نے بھی خطابات کیے۔
کانفرنس کے آخر میں قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں قید و بند صعوبت میں مقید سینئر حریت قیادت کی رہائی کیلئے اقدام کیے جائیں اور مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھارت کے خلاف عملی اقدام کیے جائیں۔
قراردار میں مطالبہ کیا گیا ریاستی وحدت کو قائم رکھا جائے اور کسی بھی مجوزہ آئینی ترمیم کے ذریعہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو کسی بھی صورت صوبائی درجہ دینے کے اقدام سے گریز کیا جائے اور ایسے کسی بھی اقدام پر لبریشن لیگ اپنا احتجاجی کردار ادا کرے گی۔
قراردا میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر پر مبنی اسمبلی کا قیام عمل میں لا کر حقیقی معنوں میں آزاد کا بیس کیمپ بنا کر حقِ خودارادیت اور وحدتِ ریاست کیلئے عملی اقدام کیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے درمیان قدرتی راستوں اور شاہراؤں کو ازسرِ نو کھولا جائے اور دونوں خطوں کی عوام کو آپس میں ملانے کیلئے عملی اقدام کیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلباء کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور دونوں خطوں کے طلباء پر حملہ کرنے اور ریاستی تشخص مٹانے والے ڈنڈا بردار جتھوں کے خلاف کاروائی عملی میں لاتے ہوئے طلباء کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے آبی ذخائر، معدنیاتی وسائل، سیاحت کی آمدن کو گلگت اور آزاد جموں کشمیر کے حوالے کیا جائے۔
قراردار میں مطالبہ کیا گیا کہ آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے زرِ مبادلہ، آبی وسائل، بجلی کی ریالٹی، ذرائع آمدن پر گلگت و آزاد کشمیر کی عوام کا حقِ ملکیت اور حقِ تصرف تسلیم کیا جائے۔
کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ تمام نوجوانانِ ریاست غیرریاستی جماعتوں کا بائکاٹ کرتے ہوئے ریاست کی وحدت کی علامت جموں کشمیر لبریشن لیگ کے فورم سے انتخابات میں حصہ لیں گے اور اپنی ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا تحفظ کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
واپس کریں