دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ؑٓؒمنشیات: نوجوان نسل کے مستقبل پر منڈلاتے خطرات
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد منشیات کے استعمال کے باعث جسمانی، ذہنی اور سماجی مسائل کا شکار ہیں جبکہ ہر سال لاکھوں افراد نشے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہر سال 26 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ انسدادِ منشیات و غیر قانونی اسمگلنگ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف ایک عالمی تقریب منعقد کرنا نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اس خاموش مگر مہلک دشمن کے خلاف بیدار کرنا ہے جو لاکھوں زندگیاں نگل چکا ہے اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو تاریکی کی نذر کر رہا ہے۔ اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نشہ کوئی نئی برائی نہیں۔ انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی مختلف اقوام نے نشہ آور اشیاء استعمال کیں، البتہ وقت کے ساتھ ساتھ منشیات کی اقسام اور ان کے استعمال کے طریقے تبدیل ہوتے گئے۔
اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب اور مہذب معاشرے منشیات کے استعمال کو ناپسند کرتے ہیں۔ دینِ اسلام نے تو ہر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے جو عقل و شعور کو متاثر کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ''ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔'' یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اسلام انسانی جان، عقل اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی نشہ آور اشیاء سے دور رہنے کا حکم دیتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی اس عالمی مسئلے سے محفوظ نہیں۔ خصوصاً افغان سویت یونین جنگ کے بعد پاکستان میں منشیات کا استعمال ایک سماجی المیہ بن کر ابھرا۔ اس دور میں جہاں اسلحہ کلچر نے جنم لیا، وہیں ہیروئن اور دیگر منشیات کی فراوانی نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہزاروں خاندان تباہ ہوئے، بے شمار نوجوان اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے اور معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا۔
نشہ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے تک پھیلتے ہیں۔ ایک نوجوان جب نشے کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی دلچسپی تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں سے ختم ہونے لگتی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں سے دوری اختیار کرتا ہے اور ایسے دوستوں کی صحبت اختیار کر لیتا ہے جو اسے مزید تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ منشیات کی خریداری کے لیے پہلے اپنی آمدنی خرچ کرتا ہے، پھر گھر اور دفتر سے چوری تک پہنچ جاتا ہے اور بعض اوقات جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتا ہے۔ نتیجتاً خاندان ٹوٹتے ہیں، معاشرتی امن متاثر ہوتا ہے اور قومی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ معاشرہ عموماً نشہ کرنے والے افراد کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہیں ''نشئی''، ''چرسی'' یا دیگر توہین آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ان کا عمل قابلِ مذمت ہے، لیکن وہ خود ایک بیماری اور کمزوری کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں نفرت سے زیادہ علاج، رہنمائی، محبت اور بحالی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ ایسے افراد کو مکمل طور پر مسترد کر دے تو ان کی واپسی کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کی اسمگلنگ، فروخت اور استعمال کے خلاف موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائے۔ غیر قانونی منشیات کے ساتھ ساتھ نشہ آور ادویات کی فروخت اور استعمال کی نگرانی بھی مؤثر بنائی جائے۔ تعلیمی اداروں میں انسدادِ منشیات کے موضوع پر خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل کو ابتدا ہی سے اس خطرے کے بارے میں شعور حاصل ہو۔ علمائے کرام، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی، میڈیا اور سوشل میڈیا کے مؤثر کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمعہ کے خطبات، سیمینارز، ٹیلی ویژن پروگرامز، اخباری مضامین اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ نصابی کتب میں منشیات کے نقصانات سے متعلق مضامین شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں کو کم عمری ہی سے اس لعنت کے تباہ کن نتائج سے آگاہ کیا جا سکے۔
عالمی یومِ انسدادِ منشیات ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں منشیات کے خلاف اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر یہی سرمایہ نشے کی نذر ہو جائے تو ترقی کے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے کردار ادا کریں اور ان افراد کا ہاتھ تھامیں جو اس دلدل سے نکل کر ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ آج عالمی یومِ انسدادِ منشیات کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم خود بھی منشیات سے دور رہیں گے، اپنی نسلوں کو بھی اس خطرناک راستے سے بچائیں گے اور ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں منشیات نہیں بلکہ علم، ہنر، امید اور ترقی کے چراغ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو ہر قسم کی منشیات اور برائیوں سے محفوظ رکھے اور پاکستان کو ایک صحت مند، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
واپس کریں