محمد ریاض ایڈووکیٹ
عدالتی تعطیلات کے بعد سینئر قانون دان علی احمد کرد کی قیادت میں وکلاء ایکشن کمیٹی کی جانب سے نئی تحریک چلانے کے اعلان نے ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پریس کانفرنس میں جس انداز میں عدالتی نظام، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار اور حالیہ آئینی ترامیم پر تنقید کی، اس سے واضح ہوتا ہے کہ وکلاء قیادت آنے والے دنوں میں ایک بھرپور سیاسی و قانونی مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔علی احمد کرد نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں اعلان کیا کہ یہ تحریک صرف 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا مقصد عوام کا سیاسی اور عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
بلاشبہ علی احمد کرد پاکستان کی وکلاء سیاست کا ایک بڑا نام ہیں۔ ججز بحالی تحریک کے دوران ان کا شمار صف اول کے رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ ان کی تقاریر، جوش و جذبہ اور آمریت کے خلاف ان کا مؤقف اس تحریک کی شناخت بن گیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کی صورتحال 2007 اور 2008 جیسی ہے؟ اور کیا وکلاء برادری ایک بار پھر اسی جذبے اور یکسوئی کے ساتھ کسی نئی تحریک کا حصہ بنے گی؟ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ججز بحالی تحریک صرف وکلاء کی تحریک نہیں رہی تھی۔ اگرچہ اس کی بنیاد وکلاء نے رکھی، مگر اس کی کامیابی میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کے بعض طاقتور حلقوں کی حمایت بھی اس تحریک کے حق میں موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ تحریک بتدریج ایک قومی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوگئی اور بالآخر جنرل پرویز مشرف کا اقتدار اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔
اس تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت معزول جج بحال ہوئے۔ اس وقت عوام کی ایک بڑی تعداد کا خیال تھا کہ عدلیہ کی آزادی پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، آئین کی بالادستی اور اداروں کے توازن کو یقینی بنائے گی۔ لیکن بعد کے برسوں میں پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستانیوں کی اکثریت کو مایوس کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ جن سیاسی قوتوں نے ججز کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں، انہی کے خلاف بعد میں بابے رحمتوں کے فیصلوں اور جوڈیشل ایکٹویزم کا استعمال ہوتا رہا۔ کئی منتخب سیاسی رہنما اقتدار سے باہر کئے گئے، سیاسی بحران پیدا ہوئے اور عدلیہ مسلسل سیاسی مباحث کا مرکز بنی رہی۔ ناقدین کے مطابق جو ادارہ خود کو صرف آئینی تشریح تک محدود رکھ سکتا تھا، وہ انتظامی اور سیاسی معاملات میں بھی متحرک کردار ادا کرتا رہا۔کوئی ہسپتال میں چھاپے مار رہا تھا تو کوئی ڈیم بنانے کے لئے چندے اکٹھے کرتا دیکھائی دیا۔فکر نہیں تھی تو اپنے ادارے عدلیہ کی نہ تھی جس میں بیس لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتواء تھے۔جبکہ اسکے برعکس پرویز مشرف کے خلاف فیصلے دینے والے ججزکے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، شوکت صدیقی کو عدالت سے برطرف کیا گیا، سیٹھ وقار کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے سے روک دیا گیا۔پرویز مشرف کو پھانسی دینے والی خصوصی عدالت کو لاہور ہائیکورٹ سے غیر آئینی قرار دلوایا گیا۔ پاکستانی عدالتوں میں 22 لاکھ سے زائد مقدمات زئر التواء ہیں، ایسے میں یہ سوال فطری طور پر اٹھتا ہے کہ کیا عدالتی اصلاحات کا محور ججوں کی تقرری اور آئینی ترامیم ہی ہونی چاہئیں یا انصاف کی فراہمی کا مجموعی نظام بھی اسی توجہ کا مستحق ہے؟
علی احمد کرد اور ان کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ عدالتی آزادی اور ججوں کی تقرری کا شفاف نظام ہی انصاف کی بنیاد ہے۔ ان کی نظر میں اگر عدلیہ آزاد نہیں ہوگی تو انصاف کا پورا ڈھانچہ کمزور پڑ جائے گا۔ تاہم ان کے ناقدین اس مؤقف کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو صرف نظریاتی نعروں سے زیادہ عملی نتائج درکار ہیں۔ اگر عام شہری کو بروقت انصاف نہیں ملتا تو پھر عدالتی آزادی کے دعووں کی افادیت محدود ہو جاتی ہے۔ آج کا نوجوان وکیل 2007 کے وکیل سے مختلف ہے۔ نئی نسل ماضی کے تجربات سے سیکھ چکی ہے اور وہ کسی بھی تحریک کے مقاصد، پس منظر اور ممکنہ نتائج کو زیادہ تنقیدی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اسی لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وکلاء برادری اس نئی تحریک کے ساتھ اسی جوش و خروش سے کھڑی ہوگی جس طرح اس نے ججز بحالی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ نے قوم کو بہت کچھ سکھایا ہے۔ عوام اب محض نعروں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ نتائج کا جائزہ لیتے ہیں۔ اسی تناظر میں علی احمد کرد اور دیگر سینئر وکلاء کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ قوم کو یہ یقین دلائیں کہ ان کی تحریک کسی پوشیدہ سیاسی ایجنڈے یا طاقتور حلقوں کی ترجیحات کا حصہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں آئین، جمہوریت اور انصاف کے استحکام کے لیے ہے۔ بہرحال یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ تحریک ماضی کی طرح کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟
واپس کریں