محمد ریاض ایڈووکیٹ
پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ارشد ملک کی جانب سے پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی تصویر شائع کرنے کی تجویز نے ایک نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ بظاہر یہ ایک رکن اسمبلی کی ذاتی رائے معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے مضمرات محض ایک تجویز تک محدود نہیں۔ یہ سوال دراصل قومی علامتوں، سیاسی روایتوں اور ریاستی وقار سے جڑا ہوا ہے۔
ارشد ملک کا مؤقف ہے کہ نواز شریف نے ملک کی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، لہٰذا ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی تصویر قومی کرنسی پر شائع ہونی چاہیے۔ بلاشبہ ہر سیاسی جماعت اپنے قائد کی خدمات کو نمایاں کرنے کا حق رکھتی ہے اور سیاسی رہنماؤں کے کردار پر رائے بھی مختلف ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ نواز شریف نے خدمات انجام دی ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قومی کرنسی سیاسی شخصیات کی تشہیر کا ذریعہ بننی چاہیے؟ پاکستانی کرنسی پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر محض ایک شخصیت کی تصویر نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک تاریخ اور ایک قومی اتفاقِ رائے کی علامت ہے۔ قائداعظم وہ شخصیت ہیں جن کے نام پر کسی سیاسی جماعت، کسی مکتبہ فکر یا کسی مخصوص حلقے کی اجارہ داری نہیں۔ وہ پورے پاکستان کی مشترکہ شناخت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصویر قومی کرنسی پر موجود ہے اور اس پر کسی قسم کا سیاسی اختلاف نہیں پایا جاتا۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف قائداعظم محمد علی جناح کے ہم پلہ قومی رہنما ہیں؟ اس سوال کا جواب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دینا ہوگا۔ نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، انہوں نے اہم ترقیاتی منصوبے شروع کیے، معاشی اصلاحات کیں اور ملکی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایک متنازع سیاسی شخصیت ہیں جن کے حامی بھی موجود ہیں اور مخالفین بھی۔ ان کے بارے میں قومی سطح پر وہ اتفاقِ رائے موجود نہیں جو قائداعظم کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ اگر آج ایک حکمران جماعت اپنے قائد کی تصویر کرنسی نوٹ پر شائع کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو کل اقتدار میں آنے والی دوسری جماعت بھی اپنے قائد کے لیے یہی مطالبہ کرے گی۔ پھر سوال پیدا ہوگا کہ کسی نوٹ پر ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر کیوں نہ ہو؟ کسی دوسرے نوٹ پر بینظیر بھٹو، عمران خان یا کسی اور سیاسی رہنما کی تصویر کیوں نہ لگائی جائے؟ اس طرح قومی کرنسی قومی وحدت کی علامت کی بجائے سیاسی مقابلہ آرائی کا میدان بن جائے گی۔مزید یہ کہ اگر بالفرض نواز شریف کی تصویر پانچ ہزار روپے کے نوٹ پر شائع کر دی جائے تو اس پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آئے گا۔ احتجاج ہوگا، بیانات آئیں گے اور ایک قومی علامت سیاسی تنازع کا موضوع بن جائے گی۔ اس کے بعد جب سیاسی اقتدار کا توازن بدلے گا تو نئی حکومت سابقہ فیصلوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ یوں قومی کرنسی مستقل مزاجی اور استحکام کی بجائے سیاسی کشمکش کی علامت بن کر رہ جائے گی۔
دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں قومی اداروں اور قومی علامتوں کو عموماً سیاسی تنازعات سے دور رکھا جاتا ہے۔قومی پرچم، قومی ترانہ، آئین اور کرنسی انہی علامتوں میں شامل ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں ان علامتوں کو اپنے مفادات یا اپنی شخصیات کے گرد گھمانا شروع کر دیتی ہیں تو قومی اتفاقِ رائے کمزور پڑنے لگتا ہے۔بدقسمتی سے ہماری سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں شخصیات کو اداروں پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پرویز مشرف کے حق میں اسمبلیوں سے قراردادیں منظور کروائی گئیں اور انہیں وردی میں صدر برقرار رکھنے کے لیے سیاسی جواز فراہم کیا گیا۔ اس وقت بھی کئی سیاست دانوں نے اقتدار کے مراکز کو خوش کرنے کے لیے ایسی تجاویز پیش کیں جن کا جمہوری اصولوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ آج اگر کسی سیاسی رہنما کی تصویر کرنسی پر شائع کرنے کی تجویز سامنے آتی ہے تو یہ اسی سیاسی ثقافت کا تسلسل محسوس ہوتی ہے جہاں اصولوں سے زیادہ شخصیات اہم بن جاتی ہیں۔جمہوریت کا حسن اداروں کی مضبوطی میں ہے، شخصیات کی پرستش میں نہیں۔ سیاسی رہنما آتے ہیں، اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن قومی علامتیں نسلوں تک قوم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان علامتوں کو وقتی سیاسی جذبات یا جماعتی وفاداریوں کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت معاشی استحکام، سیاسی برداشت اور ادارہ جاتی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ قومی کرنسی پر نئی تصاویر لگانے کی بحث سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کرنسی کی قدر مستحکم ہو، عوام کا اعتماد بحال ہو اور معیشت مضبوط ہو۔ قوموں کی عزت نوٹوں پر چھپی تصاویر سے نہیں بلکہ ان نوٹوں کی قوتِ خرید اور ریاستی استحکام سے بڑھتی ہے۔لہٰذا پانچ ہزار روپے کے نوٹ پر نواز شریف کی تصویر شائع کرنے کی تجویز خواہ سیاسی محبت کا اظہار ہو یا محض ایک جذباتی مطالبہ، قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ کرنسی کو سیاسی شخصیت پرستی سے محفوظ رکھا جائے۔ قومی وحدت کی بنیاد مشترکہ علامتوں پر ہوتی ہے، اور ان علامتوں کو سیاسی مقابلہ آرائی کا حصہ بنانا کسی بھی طور دانش مندی نہیں۔
واپس کریں