دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
معصوم کلیوں کی پکار۔ ریاست کی خاموشی
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
کہتے ہیں جب زمین پر ظلم حد سے بڑھ جائے تو آسمان بھی لرز اٹھتا ہے، فضائیں ماتم کناں ہوجاتی ہیں اور فطرت انسان کے جرائم پر نوحہ کرتی ہے۔ مگر افسوس! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ظلم، درندگی، قتل، زنا بالجبر اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے ایسے ہولناک واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں کہ شاید آسمان بھی ہمارے اجتماعی زوال کا عادی ہوچکا ہے۔ خون بہتا ہے، معصومیت لٹتی ہے، عزتیں پامال ہوتی ہیں، لاشیں اٹھتی ہیں، مگر چند دن کے شور کے بعد سب کچھ پھر معمول پر آجاتا ہے۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں نہ چھ سال کی بچی محفوظ ہے، نہ سات سال کا بچہ، نہ جوان پردہ دار عورت محفوظ ہے اور نہ ضعیف خاتون۔نہ رشتے دار محفوظ ہیں اور نہ محلے دار۔ یہ کیسی ریاست ہے جہاں والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہیں، مساجد اور مدارس میں داخل کرتے ہوئے پریشان ہیں، اور گلی میں کھیلنے کے لیے بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ظلم اس قدر بے لگام ہوچکا ہے کہ نہ گھر محفوظ ہیں، نہ بازار، نہ تعلیمی ادارے اور نہ ہی وہ مقامات جنہیں روحانی سکون اور دینی تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کراچی میں کمسن بچے کے ساتھ پیش آنے والی درندگی ہو، سرگودھا کی سات سالہ معصوم بچی کا المیہ ہو،وزیرآباد میں مدرسے کے طلبہ کیساتھ بدفعلی ہو، واربرٹن کی چار سالہ کلی کا مسلا جانا ہو یا شیخوپورہ میں ماموں کا اپنی سگی بھانجی کیساتھ منہ کالا کرنا، ایسے لاتعداد واقعات محض خبریں نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے چہرے پر ثبت ایسے بدنما داغ ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ان ننھی کلیوں کا قصور کیا ہے؟ وہ کون سی ہوس ہے جو درندوں کو معصوم بچوں تک پہنچا دیتی ہے؟ وہ کون سی اخلاقی پستی ہے جہاں انسان حیوان سے بھی نیچے گر جاتا ہے؟
ہم ایک ایسے معاشرتی بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں مجرم کو سزا کا خوف اور قانون کی ہیبت تقریبا ختم ہوچکی ہے۔ مجرم جانتا ہے کہ اگر پکڑا بھی گیا تو برسوں مقدمہ چلے گا، گواہ مکر جائیں گے، ثبوت کمزور ہوجائیں گے، اپیلیں چلتی رہیں گی اور سزا کا نفاذ شاید کبھی نہ ہوسکے۔ سونے پہ سہاگہ ریاست پاکستان میں سزائے موت پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم رکنے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ افسوس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کسی معصوم کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو متاثرہ خاندان کو صرف مجرم کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ پورے سماجی رویے کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ تھانے کے چکر، ہسپتال کی قطاریں، عدالتوں کی پیشیاں اور معاشرے کی طنزیہ نگاہیں، گویا مظلوم کو ایک ہی جرم کی کئی کئی سزائیں دی جاتی ہیں۔
مزید افسوس اس امر پر ہوتا ہے کہ مساجد اور مدارس میں بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات سامنے آنے کے باوجود ایک مؤثر قومی مکالمہ جنم نہیں لے سکا۔ ایسے عناصر جو دین اور قرآن کی تعلیم کے مقدس منصب پر فائز ہوکر معصوم بچوں کے اعتماد اور تقدس کو پامال کرتے ہیں، وہ صرف ایک بچے کے مجرم نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مجرم ہیں۔ ان کے جرائم کی سنگینی کو محض عام فوجداری جرم سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ ایسے درندوں کے خلاف توہین ِ مذہب، توہین ِ قرآن کی دفعات کا اضافہ بھی کرنا چاہیے۔ کیونکہ جب تک سخت اور سرعام سزاؤں پر عملدرآمد نہیں ہوگا یہ معاشرہ مزید پستیوں میں گرتا چلا جائے گا۔ آج بنیادی سوال یہ نہیں کہ قانون موجود ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا قانون زندہ بھی ہے؟ کیا مجرم کو واقعی سزا ملتی ہے؟ کیا ریاست اپنے کمزور شہریوں کی جان، عزت اور آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کررہی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف چند مجرموں کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَا أُولِی الْأَلْبَابِ'' یعنی ''اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔'' یہ محض ایک مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی اور قانونی فلسفہ ہے۔ قصاص کا مقصد انتقام نہیں بلکہ ظلم کا راستہ روکنا، معاشرے کو تحفظ دینا اور مجرم کو یہ احساس دلانا ہے کہ قانون کمزور نہیں۔ اگر ایک ریاست اپنے بچوں کو تحفظ، اپنی عورتوں کو عزت اور اپنے شہریوں کو انصاف فراہم نہ کرسکے تو پھر اسے اپنی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی ناانصافی، اخلاقی زوال اور قانون کی کمزوری سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب معصوم کلیاں پکار رہی تھیں، جب عزتیں پامال ہورہی تھیں، جب ظلم کھلے عام دندناتا پھر رہا تھا، تب ریاست خاموش کیوں تھی؟ تب قانون کہاں تھا؟ اور تب وہ لوگ کہاں تھے جن کے ہاتھوں میں اقتدار، اختیار اور انصاف کی ذمہ داری تھی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، دینی قیادت اور معاشرے کے تمام طبقات اس مسئلے کو محض ایک خبر یا سیاسی بیان سمجھنے کی بجائے قومی بقا کا مسئلہ تصور کریں۔ کیونکہ فوری انصاف، یقینی سزا، مؤثر تفتیش اور مظلوم کے وقار کے تحفظ کے بغیر یہ آگ بجھنے والی نہیں۔
واپس کریں