دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی تنہائی سے عالمی ثالثی تک
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
قوموں کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جب برسوں کی جدوجہد، قربانیاں اور استقامت ایک نئے باب کا آغاز کرتی ہیں۔ اٹھارہ جون، پاکستان کے لیے بھی ایک ایسا ہی لمحہ سامنے آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن معاہدے میں پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف پاکستان کے سفارتی قد کو بلند کیا بلکہ اسے عالمی سیاست میں ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار کے طور پر بھی نمایاں کر دیا۔
جنگ کے خاتمے کی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب آن لائن منعقد ہوئی، جس میں ایرانی اور امریکی صدور کے ساتھ پاکستانی وزیر اعظم نے بھی شرکت کی۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ جب اس تاریخی لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز نشر کر رہے تھے تو ہر پاکستانی کے دل میں فخر کی ایک نئی لہر دوڑ رہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایران۔امریکہ جنگ میں اگر کوئی حقیقی فاتح ہے تو وہ پاکستان ہے، جس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سفارت کاری محض بیانات کا نہیں بلکہ تدبر، اعتماد اور عالمی ساکھ کا کھیل ہے۔
یہ منظر اس دور سے یکسر مختلف تھا جب پاکستان کو عالمی تنہائی کا سامنا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب دنیا کے بڑے ایوانوں میں پاکستان کا ذکر محدود ہو کر رہ گیا تھا اور ہماری خارجہ پالیسی کو غیر مؤثر قرار دیا جاتا تھا۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری اور علاقائی سیاست میں محدود کردار کے باعث پاکستان کو کئی سفارتی چیلنجز درپیش تھے۔ لیکن قوموں کی تاریخ میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ جو قومیں اپنے اندر اصلاح، عزم اور خود اعتمادی پیدا کر لیں، وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں ایک حقیقت ہمیشہ برقرار رہتی ہے کہ دنیا طاقت اور استحکام کی زبان سمجھتی ہے۔ جو ریاستیں اپنے دفاع، معیشت اور سفارت کاری میں مضبوط ہوتی ہیں، انہی کی بات سنی جاتی ہے۔ گزشتہ برس مئی میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مؤثر اظہار کرتے ہوئے بھارتی سینہ کو دھول چٹائی۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلم دنیا سمیت مختلف خطوں میں پاکستان کو ایک باوقار اور بااثر ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسے کسی فرد، جماعت یا ادارے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کامیابی صرف حکومت کی ہے نہ عسکری قیادت کی اور نہ ہی کسی مخصوص سیاسی جماعت کی ، بلکہ یہ کامیابی پاکستان کی ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے عوام کی ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں، لیکن قومی کامیابیوں کو سیاسی عینک سے دیکھنا دانشمندی نہیں۔ جب ریاست عالمی سطح پر کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرے تو پوری قوم کو اس پر فخر کرنا چاہیے۔
اسی تناظر میں پاکستان کے امن پسند کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی تنازعات میں پاکستان نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ یہی سوچ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر متعارف کرا رہی ہے جو محض اپنے مفادات کا نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کا بھی خواہاں ہے۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا مختلف تنازعات، جنگوں اور کشیدگیوں کا شکار ہے، امن کے لیے کردار ادا کرنا کسی بھی ریاست کے لیے بڑا اعزاز ہے۔
بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ان سفارتی کامیابیوں کے پاکستان کو عملی فوائد کیا حاصل ہوں گے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا جواب بھی واضح ہے۔ عالمی سیاست میں اعتماد اور ساکھ خود ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب کوئی ملک بین الاقوامی تنازعات میں قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آتا ہے تو اس کے لیے معاشی تعاون، تجارتی مواقع، سرمایہ کاری اور سیاسی اثر و رسوخ کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ سفارتی کامیابیاں اکثر معاشی فوائد کی بنیاد بنتی ہیں اور یہی امید پاکستان کے مستقبل کے ساتھ بھی وابستہ ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مایوسی، تقسیم اور سیاسی تعصبات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے میں موجود رہتا ہے، لیکن قومی وقار اور بین الاقوامی کامیابیوں پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ اگر پاکستان واقعی عالمی تنہائی سے نکل کر عالمی ثالثی کے مقام تک پہنچا ہے تو یہ ایک ایسا سفر ہے جس پر نہ صرف فخر کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے قومی یکجہتی بھی ناگزیر ہے۔
یہ وقت الزام تراشی یا کامیابیوں کو کم تر ثابت کرنے کا نہیں، بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا ہے کہ پاکستان نے عالمی منظرنامے میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ اگر ہم نے اسی جذبے، خود اعتمادی اور قومی اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا جاری رکھا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان سفارتی، سیاسی اور معاشی میدانوں میں مزید نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گا۔ قومی مفاد کے اس سفر میں ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود اپنی ریاست کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھے، کیونکہ مضبوط پاکستان ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
واپس کریں