محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان میں مزدوروں کے حقوق پر گفتگو عموماً کم از کم اجرت، ملازمت کے تحفظ اور مہنگائی کے گرد گھومتی ہے، مگر ایک سنگین مسئلہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے جس پر نہ میڈیا میں خاطر خواہ رپورٹنگ ہوتی ہے اور نہ مباحثے اور نہ ہی ا نسانی حقوق کے علمبردار و متعلقہ ریاستی ادارے سنجیدگی سے توجہ دیتے ہیں۔ اور یہ مسئلہ ہے پٹرول پمپوں پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین جن سے 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص پنجاب کے متعدد شہروں میں ایسا خود ساختہ نظام رائج ہے جس کے تحت متعدد پٹرول پمپس پر کارکنان 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی انجام دیتے ہیں اور اس کے بعد انہیں 24 گھنٹے آرام دیا جاتا ہے۔ بظاہر ''ایک دن کام، ایک دن چھٹی'' کا یہ نظام متوازن دکھائی دیتا ہے، لیکن قانون، انسانی صحت اور بنیادی حقوق کے تناظر میں اس پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک مزدور صبح ڈیوٹی پر آتا ہے، پورا دن اور پوری رات پٹرول اور ڈیزل فراہم کرتا ہے اور مسلسل 24گھنٹے جاگتا رہتا ہے۔ جبکہ ٹھنڈے ایر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر بھی کوئی انسان 24 گھنٹے مسلسل کام نہیں کرسکتا، افسوس یہاں یہ ورکرز سردی گرمی ہر طرح کے موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے مسلسل 24 گھنٹے مزدوری کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیبر قوانین بالغ ملازمین کے اوقاتِ کار کے حوالے سے واضح حدود مقرر کرتے ہیں۔ فیکٹریز ایکٹ 1934 اور ویسٹ پاکستان شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس آرڈیننس 1969 کے تحت عمومی طور پر روزانہ زیادہ سے زیادہ 9 گھنٹے اور ہفتہ وار 48 گھنٹے کام کی حدود مقرر ہیں، جبکہ کارکنوں کے لیے مناسب وقفے اور آرام کا تصور بھی قانون کا حصہ ہے۔ ایسے میں 24 گھنٹے مسلسل ڈیوٹی کا معاملہ کم از کم ایک سنگین قانونی سوال ضرور ہے جس کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔پٹرول پمپس پر دیگر صنعتی اداروں کی طرز پر شفٹوں میں کام تقسیم کیا جا سکتا ہے، متبادل عملہ رکھ سکتا ہے اور کارکنوں کو قانون کے مطابق آرام دیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ کئی پٹرول پمپس پر 12گھنٹے سے زائد کام نہیں لیا جاتا، لیکن ایسے پٹرول پمپس کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ کاروبار کا 24 گھنٹے چلنا ضروری ہو سکتا ہے، مگر مزدور کا 24 گھنٹے مسلسل جاگنا ضروری نہیں۔یہ معاملہ صرف قانون تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت اور عوامی تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مسلسل بیداری اور شدید تھکن انسان کی توجہ، فیصلہ سازی اور جسمانی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ پٹرول پمپ چونکہ آتش گیر مادوں کے ساتھ کام کرنے کی جگہ ہے، اس لیے تھکا ہوا کارکن خود بھی خطرے میں ہوتا ہے اور معمولی غفلت عوامی جان و مال کے لیے بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔صورتحال اس وقت مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب بعض مقامات پر پٹرول پمپ کارکنوں سے 24 گھنٹے مسلسل مشقت لینے کے باوجود انہیں حکومت کی جانب سے فیکٹری کے عام ورکر کے لئے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ اجرت کے برابر بھی معاوضہ نہیں دیا جاتا اور اضافی اوقاتِ کار کا قانونی اوور ٹائم بھی ادا نہیں کیا جاتا۔گویا مزدور اپنی صحت، نیند، جسمانی توانائی اور خاندانی زندگی داؤ پر لگا کر بھی اپنی محنت کی منصفانہ قیمت سے محروم رہتا ہے۔ ایک طرف وہ دن رات عوام کو خدمات فراہم کرتا ہے، دوسری طرف اس کے اپنے بچوں کے لیے اس کی محنت کا مناسب صلہ بھی یقینی نہیں بنایا جاتا۔ یہ صورتحال محض انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ محنت کش طبقے کے معاشی استحصال کا ایک افسوسناک منظر ہے۔پٹرول پمپوں پر کام کرنے والے بیشتر افراد کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور روزگار کے محدود مواقع انہیں ایسے حالاتِ کار قبول کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں جنہیں شاید وہ دل سے قبول نہ کرتے ہوں۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 11 جبری مشقت کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار اور عزتِ نفس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اگرچہ ہر 24 گھنٹے کی ڈیوٹی خودکار طور پر جبری مشقت نہیں بنتی، لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا ایک انسان سے 24 گھنٹے مسلسل کام لینا انسانی وقار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ اگر کسی ملازم کو دھمکی، دباؤ یا اس کی مرضی کے خلاف کام پر مجبور کیا جائے یا اسے عملاً کام چھوڑنے سے روکا جائے تو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 374 سمیت متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی اداروں کیساتھ ساتھ پٹرولیم کمپنیاں بھی اپنی برانڈ پالیسیوں میں یہ شرط شامل کریں کہ ان کے نام سے چلنے والے تمام آؤٹ لیٹس ملکی لیبر قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ اگر ایک مزدور اپنی اولاد اور بوڑھے والدین کا پیٹ پالنے کے لیے 24 گھنٹے مسلسل جاگنے پر مجبور ہے،دوسری جانب اسے پوری محنت کی اجرت بھی نہ ملے اور اگر وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے بھی ڈرتا ہو تو یہ مسئلہ صرف ایک پٹرول پمپ مزدور کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا سوال ہے۔
واپس کریں