محمد ریاض ایڈووکیٹ
ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر شاہراہوں سے گزرنے کا ٹیکس نافذ کر رکھا تھا۔ عوام ٹیکس ادا کرتی اور خاموشی سے اپنے سفر پر روانہ ہوجاتی۔ دربار کے ایک ذہین وزیر نے مشورہ دیا کہ صرف ٹیکس وصول کرنا کافی نہیں، عوام کی وفاداری جانچنے کے لیے ہر گزرنے والے کو ایک جوتا بھی رسید کیا جائے۔ حکم صادر ہوا اور رعایا ٹیکس بھی دیتی رہی اور جوتے بھی کھاتی رہی۔ جو شخص اعتراض کرتا وہ باغی قرار پاتا اور جو خاموش رہتا وہ محبِ وطن کہلاتا۔ ایک روز بادشاہ سلامت گشت پر نکلے تو ٹال پلازے پر غیرمعمولی ہجوم دیکھا۔ سمجھے شاید رعایا ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ مگر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ عوام کا مطالبہ یہ نہیں کہ جوتے مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ جوتے مارنے والے ملازمین کی تعداد بڑھائی جائے کیونکہ ایک ملازم کے باعث لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ بادشاہ سلامت رعایا کی فرمانبرداری پر اس قدر خوش ہوئے کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد پانچ کردی اور ساتھ ہی ٹال ٹیکس میں پچاس فیصد اضافہ بھی فرما دیا۔ سچ پوچھئے تو یہ کہاوت اب قصہ نہیں رہی، پاکستان کی معاشی اور سیاسی تاریخ کا خلاصہ بن چکی ہے۔
گزشتہ چند روز سے وفاقی وزراء کی جانب سے ایسی ایسی خوشخبریاں سننے کو مل رہی ہیں کہ بندہ سوچتا ہے شاید مہنگائی نہیں بلکہ خوشحالی آرہی ہے۔ عوام کو بتایا جارہا ہے کہ پٹرول ایک ہزار روپے فی لیٹر بھی ہوسکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ نہیں کہ یہ بات کہی جارہی ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ قوم اسے سن بھی رہی ہے، برداشت بھی کررہی ہے اور اگلے دن حسبِ معمول دفتر، دکان، بازار اور ہوٹلوں میں کڑاہی گوشت اور سجی بھی کھارہی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو کرکٹ میچ ہارنے پر سوشل میڈیا ہلا دیتی ہے، کسی اداکار کے بیان پر ہفتوں بحث کرتی ہے، مگر جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو دو گھنٹے غصہ نکال کر تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموش ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں پٹرول صرف گاڑی چلانے کا ایندھن نہیں، پوری معیشت کا خون ہے۔ اس کی قیمت بڑھتی ہے تو سبزی فروش سے لے کر صنعتکار تک، رکشہ ڈرائیور سے لے کر تنخواہ دار ملازم تک، ہر شخص اس کا خراج ادا کرتا ہے۔ مگر کمال یہ ہے کہ ہر مرتبہ قیمت بڑھتی ہے اور ہر مرتبہ قوم خود کو یہ تسلی دے دیتی ہے کہ شاید اگلی بار حالات بہتر ہوجائیں گے۔
کچھ عرصے سے جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی اور حکومتی ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔ اعتراف کرتا ہوں کہ ابتدا میں مجھے بھی یہ ایک روایتی سیاسی سرگرمی محسوس ہوئی تھی۔ لیکن آج محسوس ہوتا ہے کہ کم از کم کسی نے تو اس مسئلے کو قومی سطح پر موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی۔ مہنگی پٹرولیم مصنوعات جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کا مسئلہ نہیں، یہ اس مزدور کا مسئلہ ہے جو روزانہ موٹرسائیکل میں پٹرول ڈلواتا ہے، اس کسان کا مسئلہ ہے جو ٹیوب ویل چلاتا ہے اور اس سفید پوش طبقے کا مسئلہ ہے جس کی تنخواہ وہیں کھڑی ہے جبکہ اخراجات دوڑتے گھوڑے کی رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حساسیت بھی اقتدار کے ساتھ آتی جاتی رہتی ہے۔ اپوزیشن میں ہوں تو پٹرول دس روپے مہنگا ہونے پر انقلاب برپا ہوجاتا ہے، اقتدار میں آجائیں تو سو روپے اضافے پر معاشی مجبوریوں کے لیکچر شروع ہوجاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی فرماتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں۔ اگر آئینی عہدے، مراعات، اختیارات اور حکومتی فیصلوں میں شراکت حکومت کا حصہ ہونا نہیں تو پھر شاید لغت کا مفہوم بدل چکا ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی سیاست اس وقت عمران خان کے گرد گھوم رہی ہے۔ ان کے نزدیک ملک کا سب سے بڑا مسئلہ عمران کی رہائی ہے پھر بانی کی دوائی، جبکہ عوام کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ روزی اور روٹی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کے معاشی دکھ سیاسی ایجنڈوں کی فہرست میں ہمیشہ آخری نمبر پر لکھے جاتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف اپنی جگہ موجود ہے۔ عالمی منڈی، تیل کی قیمتیں، آئی ایم ایف کی شرائط، مالیاتی خسارہ اور معاشی دباؤ جیسے دلائل بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ ان باتوں میں وزن ہوسکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ قربانی کا بکرا ہمیشہ عوام ہی کیوں بنتی ہے؟ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹرول سبسڈی کے نام پر اشتہارات کی بہار آئی ہوئی ہے۔ کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ذریعے عوام کو بتایا جارہا ہے کہ حکومت ان کے درد میں برابر کی شریک ہے۔مجھے ڈر ہے کہ اگر یہی روش جاری رہی تو وہ دن بھی دور نہیں جب پٹرول ایک ہزار روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔ اور اس وقت بھی قوم کا سب سے بڑا مطالبہ قیمت کم کرنا نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ پٹرول پمپوں پر مزید نوزلیں لگائی جائیں تاکہ مہنگا پٹرول ڈلوانے والوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔
آخرکار قوموں کی تقدیر ان کے حکمرانوں سے کم اور ان کے اجتماعی رویوں سے زیادہ بنتی ہے۔ جب ظلم برداشت کرنا آسان لگنے لگے، جب مہنگائی خبر نہیں معمول بن جائے اور جب عوام جوتے رکوانے کی بجائے جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کرنے لگے تو پھر مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں رہتا، پوری قوم کا بن جاتا ہے۔
واپس کریں