دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نئے صوبوں سے زیادہ کرکٹ پر توجہ کی ضرورت
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستانی سیاست کے رنگ ہمیشہ سے نرالے رہے ہیں۔ یہاں اکثر عوامی حمایت سے منتخب ہونے والے افراد نسبتاً کمزور جبکہ اقتدار کے غیر روایتی راستوں سے ایوانِ اقتدار تک پہنچنے والے لوگ غیر معمولی اثر و رسوخ کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ و کرکٹ بورڈ چیئرمین محسن نقوی کے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے بیان کے بعدمسلم لیگ ن کے وفاقی وزراء اس تجویز کے حق میں جوق در جوق دلائل دیتے نظر آئے، کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر وفاقی وزراء نے نقوی صاحب کے بیان کی تائید نہ کی تو کہیں اپنی وزارتوں ہی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ جبکہ حزبِ اختلاف اور خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کے منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔اس بحث نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟ ان کے فوائد اور نقصانات کیا ہوں گے؟ کیا گذشتہ عام انتخابات میں کسی بڑی سیاسی جماعت نے نئے صوبوں کے قیام کو اپنے منشور کا حصہ بنایا تھا؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا موجودہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو عوام نے نئے صوبے بنانے کے اختیار کے ساتھ منتخب کیا تھا؟کیا پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں میں مسلم لیگ ن کے پاس عددی اکثریت حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ و تمام صوبائی اسمبلیوں سے آئینی ترمیم و قوانین منظور کرواسکے؟
جبکہ حالات یہ ہیں کہ گزشتہ سال دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سندھ حکومت، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی شدید مخالفت کے باعث یہ منصوبہ مشترکہ مفادات کونسل میں مسترد کرنا پڑا۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم بھی پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے شدید تحفظات کے باعث دہائیوں بعد بھی عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ اسی طرح کے متعدد معاملات یہ ثابت کرتے ہیں کہ پانی، وسائل اور صوبائی حدود سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہیں اور وفاقی فیصلوں کے لیے وسیع بین الصوبائی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جس کی اسمبلی مختلف اوقات میں مزید صوبوں کے قیام سے متعلق قراردادیں منظور کر چکی ہے، جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اپنی جغرافیائی حدود اور سیاسی شناخت کے حوالے سے مضبوط عوامی جذبات موجود ہیں۔ میری رائے میں یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ یہ صوبے اپنی حدود میں کسی بڑی تبدیلی کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ نئے صوبوں کے حامی بہتر گورننس کا جواز پیش کرتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے مسائل صرف انتظامی تقسیم سے حل ہو سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی ہم نوآبادیاتی دور کے متعدد قوانین اور اسی طرز کے بیوروکریٹک نظام کے سہارے نہ چل رہے ہوتے۔تقریبا چار دہائیاں غیر آئینی و غیر منتخب حکمران کھا گئے۔ غیر آئینی طریقے اور عوامی حمایت کے بغیر حکمرانوں نے اکثر مقامی حکومتوں اور ضلعی نظام کے نام پر سیاسی تجربات کیے۔ ایوب خان کابی ڈی ممبران، پرویز مشرف کا ضلعی ناظمین اور ضیاء الحق کا سیاسی جماعتوں کے بغیر انتخابی نظام بھی اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ ان نظاموں سے نہ تو عوامی مسائل ختم ہوئے اور نہ ہی گورننس میں کوئی انقلابی بہتری آئی۔ البتہ روایتی سیاسی قیادت کو کمزور کرنے اور نئے سیاسی گروہ پیدا کرنے کی کوششیں ضرور کی گئیں۔
میری نظر میں نئے صوبوں کے زبردستی قیام کی کوشش وفاق کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اگر صوبائی حدود میں ردوبدل کو عوامی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے بڑھایا گیا تو سندھ میں سندھو دیش بیانیے، خیبر پختونخوا میں پختونستان اور ہزارہ اور پختون اختلافات، اور بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو نئی بحث کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں بہاولپور صوبہ، سرائیکیستان، ملتان صوبہ اور اپر پنجاب جیسے مطالبات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یوں ایک مسئلے کے حل کے نام پر کئی نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہوگی کہ اگر کسی مہم جوئی کے تحت ماضی کے غیر منتخب ادوار کی طرز پر ریفرنڈم یا دیگر غیر معمولی ذرائع استعمال کرتے ہوئے صوبائی تقسیم مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات قومی یکجہتی اور ملکی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی متعدد سیاسی، معاشی اور انتظامی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اس لیے ایسے حساس معاملات میں جلد بازی دانشمندی نہیں ہوگی۔ اگر واقعی اس موضوع پر پیش رفت مطلوب ہے تو ملک گیر مباحثے ہونے چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ عام انتخابات میں واضح طور پر اپنے منشور میں یہ مؤقف شامل کرنا چاہیے کہ وہ نئے صوبوں کے حق میں ہیں یا مخالفت میں۔ اگر عوام کسی جماعت کو اس بنیاد پر مینڈیٹ دیتی ہے تو پھر اس معاملے پر جمہوری انداز میں پیش رفت کی جا سکتی ہے۔یاد رہے پاکستان کے تمام مسائل کا حل آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کا آئین کے مطابق چلنے میں ہے۔ بصورتِ دیگر، چار کی بجائے پچاس یا سونئے صوبے بھی بنا لیے جائیں تو مسائل کا حل ممکن نہیں ہوگا۔محسن نقوی صاحب کے لئے درخواست نما مشورہ ہے کہ نئے صوبوں کے منصوبے کی بجائے اپنے ماتحت داخلہ و کرکٹ کے شعبہ جات پر توجہ مرکوز کریں جہاں بہتر گورننس کی اشد ضرورت ہے۔
واپس کریں