دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران پر ایٹمی حملہ: امریکہ کی فتح یا عالمی طاقت کے توازن میں خودکش تبدیلی؟
No image (پشاور) خصوصی تجزیہ خالد خان
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض دو ملکوں کی جنگ نہیں رہی۔ یہ عالمی طاقت کے توازن، جوہری ہتھیاروں کے مستقبل، عالمی معیشت اور موجودہ بین الاقوامی نظام کی بقا کا سوال بنتی جا رہی ہے۔ اگر امریکہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس کے نتائج ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور سلامتی کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے سامنے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ روایتی فوجی طاقت کے باوجود ایران کو اپنی شرائط پر جھکانا آسان ثابت نہیں ہوا۔ ایران کی فوجی صلاحیت، جغرافیائی ساخت، میزائل پروگرام، علاقائی اثرورسوخ اور طویل عرصے سے پابندیوں میں رہنے کے باعث پیدا ہونے والی خود انحصاری نے اسے ایک مشکل حریف بنا دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کئی دہائیوں تک ایران کو عالمی اقتصادی دھارے سے الگ رکھنے کی کوشش کی، لیکن اس پالیسی کے غیر ارادی نتائج بھی سامنے آئے۔ ایران نے پابندیوں کے ماحول میں مقامی پیداوار، دفاعی صنعت، متبادل تجارتی راستوں اور داخلی وسائل پر انحصار بڑھایا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایرانی عوام نے اس تنہائی کی قیمت ادا نہیں کی۔ مہنگائی، معاشی مشکلات اور سیاسی پابندیوں کا بوجھ عام شہریوں نے اٹھایا، لیکن ریاست نے دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کر لی۔
یہاں امریکی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو زیر بحث آتا ہے۔ شاید واشنگٹن نے یہ تصور کیا کہ اگر ایران پر فیصلہ کن فوجی حملہ کیا گیا تو ایرانی عوام مذہبی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور رجیم چینج کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ لیکن کسی حکومت سے عوام کی ناراضی اور بیرونی فوجی مداخلت کی حمایت دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ ایک ایرانی شہری اپنی مذہبی قیادت سے اختلاف کر سکتا ہے، اس کے طرز حکمرانی کو مسترد کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اپنے ملک پر بیرونی حملے کو قومی خودمختاری کے خلاف سمجھ سکتا ہے۔ قوم پرستی، تاریخی شناخت اور بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا جذبہ اندرونی سیاسی اختلافات پر غالب آ سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے کسی بھی فوجی منصوبہ بندی میں نظرانداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو کیا وہ اپنی مطلوبہ فتح حاصل کر سکے گا؟ بظاہر ایران کو ناقابلِ تصور انسانی اور مادی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن کیا اس سے امریکہ کے سیاسی مقاصد بھی حاصل ہو جائیں گے؟ میرا خیال ہے کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس سمت اختیار کر سکتا ہے۔
ایران جوہری طاقت نہیں ہے، اس لیے امریکی حملے کے جواب میں فوری جوہری جوابی کارروائی کا امکان موجود نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حملہ کرنے والے ملک کو اس کے عالمی نتائج سے استثنا حاصل ہو جائے گا۔ تابکاری، ماحولیاتی آلودگی اور ممکنہ جوہری اثرات ایران سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔ افغانستان، پاکستان، بھارت اور مشرق وسطیٰ کے بعض علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اثرات کا دائرہ حملے کے مقام، ہتھیار کی نوعیت، موسمی حالات اور دیگر عوامل پر منحصر ہوگا۔ اس کے ساتھ تیل، گیس، آبنائے ہرمز، عالمی تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کا خطرہ بھی ہوگا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اہم تبدیلی عالمی سیاسی سوچ میں آئے گی۔ امریکہ اگر ایک غیر جوہری ملک پر جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو دنیا کے بہت سے ممالک اسے صرف ایران کے خلاف کارروائی نہیں سمجھیں گے بلکہ اپنی مستقبل کی سلامتی کے لیے ایک انتباہ تصور کریں گے۔ روس، چین اور دوسرے ممالک یہ سوال اٹھائیں گے کہ اگر آج ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں تو کل کسی دوسرے ملک کے خلاف کیوں نہیں؟ اس خوف سے مشترکہ دفاعی تعاون، جوہری بازدار قوت اور امریکہ کے مقابلے میں متبادل عالمی اتحادوں کی ضرورت کا احساس بڑھ سکتا ہے۔
روس اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تزویراتی تعاون مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ دونوں ممالک باقاعدہ فوجی اتحاد قائم کر لیں، لیکن مشترکہ خطرے کا احساس ان کے باہمی اختلافات کو پس منظر میں دھکیل سکتا ہے۔ دوسری طرف یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں بھی گہری دراڑ پڑ سکتی ہے۔ یورپی حکومتیں اور عوام اگر امریکی جوہری اقدام کی مخالفت کرتے ہیں تو مغربی اتحاد کی موجودہ یکجہتی شدید دباؤ میں آ سکتی ہے۔
امریکہ کے اندر بھی اس فیصلے کے اثرات معمولی نہیں ہوں گے۔ امریکی کانگریس، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عوام میں شدید اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جوہری حملے کی اخلاقی ذمہ داری، انسانی تباہی اور عالمی ردعمل امریکی سیاست کا ایک مستقل تنازع بن سکتے ہیں۔ امریکی معیشت بھی عالمی اقتصادی بحران سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، مالیاتی نظام اور ڈالر کے عالمی اعتماد پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ایک اور خطرناک پہلو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی عالمی ممانعت کا ہے۔ امریکہ 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم استعمال کر چکا ہے۔ تاریخ میں جوہری استعمال کی مثال پہلے سے موجود ہے، لیکن آج کا عالمی نظام 1945ء سے بہت مختلف ہے۔ اب کئی جوہری طاقتیں موجود ہیں اور ان کے درمیان باہمی تباہی کی صلاحیت بھی ہے۔ اگر امریکہ دوبارہ جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو جوہری عدم استعمال کی اخلاقی اور سیاسی ممانعت کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ دوسرے ممالک کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی مخالفت کا اخلاقی مؤقف کمزور ہوگا اور جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی سوچ کو تقویت مل سکتی ہے۔
یہاں پاکستان اور بھارت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں جوہری ہتھیاروں کا عنصر انتہائی حساس ہے۔ امریکہ کے جوہری استعمال سے ان کے باہمی تنازعے میں فوری طور پر جوہری جنگ لازم نہیں ہو جائے گی، لیکن عالمی سطح پر جوہری استعمال کی حد ٹوٹنے سے غلط اندازوں، دھمکیوں اور بحرانوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح روس، شمالی کوریا اور دوسرے ممالک کے فیصلے بھی ان کے اپنے تزویراتی مفادات کے تابع ہوں گے، لیکن جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں عالمی سوچ ضرور تبدیل ہو سکتی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ امریکہ ایران کو ختم کرنے یا اس کی فوجی صلاحیت تباہ کرنے کی کوشش میں اپنی عالمی قیادت، اتحادی نظام، اقتصادی اثرورسوخ اور اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ جوہری ہتھیار کا استعمال مخالف کو تباہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ ضرور ہوگا، لیکن اس سے امریکہ کے خلاف جوہری بازدار قوت حاصل کرنے، اس کے خلاف اتحاد بنانے اور امریکی اہداف کو ممکنہ خطرہ سمجھنے کی سوچ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یوں ایک ایسا فیصلہ جس کا مقصد امریکی طاقت کا اظہار ہو، اسی طاقت کے خلاف عالمی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
اس وقت عالمی برادری کے سامنے دو بڑے راستے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا اجتماعی سفارتی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے امریکہ کو جوہری حملے سے روکے اور ایران کے جوہری و علاقائی مسائل کا کوئی قابلِ تصدیق حل تلاش کرے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ کی قیادت میں عالمی قوتیں روایتی فوجی کارروائی کے ذریعے ایرانی فوجی صلاحیت اور موجودہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان، قطر اور دوسرے علاقائی ممالک کی سفارتی کوششوں کی کامیابی یا ناکامی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا انتظام ایک الگ اور کہیں زیادہ پیچیدہ چیلنج ہوگا۔
روایتی جنگ میں ایران کو شکست دینا اور جوہری ہتھیار استعمال کرنا ایک جیسے فیصلے نہیں۔ پہلا راستہ بھی انسانی نقصان اور علاقائی عدم استحکام کا خطرہ رکھتا ہے، لیکن جوہری حملہ عالمی نظام میں ایک ایسی حد عبور کر سکتا ہے جس کے اثرات کئی نسلوں تک باقی رہیں۔ کسی ملک کی فوجی شکست اور اس کے معاشرے کی تباہی کو ایک ہی چیز سمجھنا بھی سنگین غلطی ہوگی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ امریکہ ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ ایران کے بعد پیدا ہونے والی دنیا کو بھی کنٹرول کر سکے گا؟ کیا وہ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے تعاون، یورپ سے ممکنہ دوری، عالمی اقتصادی بحران، جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ اور اپنے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی کو روک سکے گا؟
تاریخ میں بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنی فوجی قوت سے نہیں بلکہ اپنے فیصلوں کے نتائج سے پہچانی جاتی ہیں۔ ایران پر جوہری حملہ اگر کبھی حقیقت بنتا ہے تو اس کا سب سے بڑا سوال ایران کی تباہی نہیں بلکہ امریکہ کی عالمی حیثیت کا مستقبل ہوگا۔ ممکن ہے امریکہ میدانِ جنگ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے، لیکن اسی عمل سے عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کا توازن اس کے خلاف تبدیل ہونے لگے۔
ایک ملک کو تباہ کرنے کی طاقت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی دنیا کو سنبھالنے کی طاقت دو مختلف چیزیں ہیں۔ امریکہ کو فیصلہ کرتے وقت ان دونوں کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔
واپس کریں