دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وہ پانچ وجوہات جو ٹرمپ کی کی شکست کا باعث بنیں
No image 1۔ روزمرہ کے اخراجات میں اضافہ.ستمبر تک کے ایک سال میں قیمتوں میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تھیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے آغاز میں امریکہ میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت تقریباً 6.52 ڈالر فی گیلن کے اُس ریکارڈ کے برابر تھی جو ستمبر میں دیکھا گیا تھا۔
2۔ ایران کے خلاف جنگ جو غیر مقبول ہوئی . ٹرمپ کے حامی ریپبلکنز کے لیے یہ ’امریکہ فرسٹ‘ کے انتخابی نعرے سے انحراف ثابت ہوا۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ مزید جنگیں نہیں ہوں گی۔ایک ووٹر پول میں شامل تقریباً ہر 10 میں سے چھ افراد (63 فیصد) نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے غلط فیصلہ کیا۔تین چوتھائی ووٹرز (74 فیصد) نے کہا کہ یہ تنازع کانگریس کے لیے ان کے ووٹ کے فیصلے میں ایک اہم یا بہت بڑا عنصر تھا۔
ڈیموکریٹس کا منظم پیغام
3ڈیموکریٹس کی اس وسیع کامیابی کو ممکن بنانے میں کچھ مضبوط امیدواروں کا بھی کردار تھا، جو خاص طور پر روایتی ریپبلکن علاقوں میں حقیقی اور قابلِ اعتبار نظر آئے۔انھوں نے روزمرہ اخراجات اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کے بارے میں ایک منظم اور واضح پیغام اپنائے رکھا۔
سابق استاد جیمز ٹالاریکو اور پادری ایڈم ہیملٹن نے بھی اپنے مذہبی عقائد کے بارے میں اس انداز میں بات کی جو بالترتیب ٹیکساس اور کنساس میں ووٹرز کو متاثر کرتی نظر آئی۔
4ٹرمپ کی غیر مقبولیت ریپبلکنز کے لیے بوجھ بنی. ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک امریکی سیاست کی مرکزی شخصیت رہنے کے بعد، بعض لوگ ان نتائج کو اس بات کا اشارہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کے سیاسی برانڈ کی چمک ماند پڑ رہی ہے۔
5.ہسپانوی، سیاہ فام ووٹرز کی ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف واپسی.دو سال قبل بعض ہسپانوی اور سیاہ فام ووٹرز کے ریپبلکن پارٹی کی جانب جھکاؤ نے ٹرمپ کو فیصلہ کن کامیابی دلانے میں مدد دی تھی۔
مگر وسط مدتی انتخابات میں یہ رجحان بدلتا ہوا دکھائی دیا۔
ڈیموکریٹس نے ٹیکساس اور میکسیکو کی سرحد کے ساتھ واقع نمایاں طور پر ہسپانوی آبادی والے اضلاع میں ایوانِ نمائندگان کی تینوں نشستیں جیت لیں۔
نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق، 2024 کے صدارتی انتخاب کے مقابلے میں ہسپانوی اکثریت والے اضلاع سینیٹ کے ریپبلکن امیدواروں کے خلاف 22 فیصد پوائنٹس سے زیادہ منتقل ہوئے۔
اعداد و شمار کے رپورٹر جیف ایڈلسن کے مطابق ملک کی کسی بھی دوسری بڑی آبادیاتی جماعت کے مقابلے میں یہ سب سے بڑی تبدیلی تھی۔
یہ تبدیلی امیگریشن قوانین کے نفاذ پر وسیع عوامی ناراضی کے پس منظر میں سامنے آئی، جہاں پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق امریکیوں کی اکثریت (56 فیصد) نے آئی سی ای کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔
واپس کریں