دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکی انتخابات، ٹرمپ کی مشکلات اور ایران پر ممکنہ حملہ
No image خصوصی رپورٹ خالد خان سے
امریکہ کے 3 نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات نے امریکی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کا راستہ کھول دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے اور ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ محض پارلیمانی نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ صدارت کے لیے ایک نئے سیاسی ماحول کا آغاز ہے۔ اس تبدیلی کے اثرات امریکی داخلی سیاست سے نکل کر ایران، مشرق وسطیٰ اور عالمی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔
انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے اور دونوں ایوانوں میں اقتدار کی سیاسی سمت تبدیل ہو چکی ہے۔
ان انتخابات کا ایک غیر معمولی پہلو امریکی مسلم اور فلسطینی نژاد امیدواروں کی کامیابی بھی ہے۔ مشی گن سے ڈاکٹر عبدالسیّد نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست حاصل کی۔وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب نیویارک کے سٹیٹ سینیٹ حلقہ 12 سے ایبر کواس نے کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکی وفاقی سینیٹ نہیں بلکہ نیویارک ریاست کی سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ سرکاری انتخابی نتائج میں انہیں تقریباً 70 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
یہ کامیابیاں امریکی معاشرے میں سیاسی نمائندگی کی بدلتی ہوئی صورت حال کی بھی عکاسی کرتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب اسرائیل، فلسطین اور ایران سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی خود انتخابی سیاست کا اہم موضوع بن چکی ہے۔
لیکن ان انتخابات کا سب سے اہم بین الاقوامی سوال ایران کے حوالے سے پیدا ہوتا ہے۔ کیا ٹرمپ اب ایران پر ایک بڑا حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں گے یا انتخابی نتائج ان کے لیے سیاسی رکاوٹ بن جائیں گے؟
ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا امکان موجود رہا ہے۔ تاہم 4 نومبر کو فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا فی الحال ایران پر فوری حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، اگرچہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا عندیہ بھی دیا۔ اسی گفتگو میں انہوں نے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری رہنے اور جوہری مواد کے معاملے پر بات چیت کا ذکر کیا۔
اس بیان کو انتخابی نتائج کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ٹرمپ کے لیے ایران کا مسئلہ صرف جوہری پروگرام یا علاقائی سلامتی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ امریکی معیشت، تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور ان کی اپنی سیاسی ساکھ سے بھی جڑ چکا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے نے امریکی ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔انتخابی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مہنگائی، ایران کی جنگ اور حکومتی معاملات پر عدم اطمینان ڈیموکریٹس کی کامیابی کے اہم سیاسی عوامل میں شامل رہے۔ٹرمپ کے سامنے اب ایک مشکل صورت حال ہے کہ اگر وہ ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت پیدا کرتے ہیں تو انہیں اپنی داخلی سیاسی مخالفت اور معاشی اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت اس معاملے کو مزید اہم بناتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں وہ کمیٹیوں کی سربراہی، دفاعی اخراجات کی نگرانی، حکومتی تحقیقات اور انتظامیہ سے جواب طلبی کے اختیارات حاصل کریں گے۔ سینیٹ میں بھی صدارتی نامزدگیوں اور قانون سازی پر ان کا اثر بڑھ جائے گا۔ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے مالی وسائل، قانونی جواز اور انتظامیہ کے فیصلوں کو مسلسل زیرِ بحث لا سکتے ہیں۔
امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، جبکہ صدر مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ہیں۔ اسی لیے صدر کے فوجی اختیارات اور کانگریس کی جنگی اختیارات پر نگرانی کے درمیان ایک مستقل آئینی کشمکش موجود ہے۔ وار پاورز ریزولوشن 1973 بھی اسی کشمکش کا حصہ ہے، جس کے تحت صدر کو بعض فوجی کارروائیوں کے بارے میں کانگریس کو مطلع کرنا اور مقررہ مدت کے اندر کانگریس کی اجازت حاصل کرنا یا فوجی کارروائی ختم کرنا پڑ سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے دور میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی کوششیں پہلے بھی ہو چکی ہیں۔ جون 2026 میں کانگریس کے دونوں ایوانوں نے ایران سے متعلق جنگی اختیارات کی قراردادوں کی حمایت کی تھی، اگرچہ ان کی قانونی حیثیت اور عملی نفاذ کے حوالے سے وائٹ ہاؤس نے اختلاف کیا۔ ستمبر میں بھی سینیٹ میں ایسی قرارداد ناکام ہوئی، لیکن چار ریپبلکن سینیٹرز نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے معاملے پر اختلاف صرف ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان نہیں بلکہ ریپبلکن جماعت کے اندر بھی موجود ہے۔
اب دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت اس اختلاف کو زیادہ مؤثر پارلیمانی قوت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹرمپ فوری طور پر ایران پر حملہ کرنے کے آئینی اختیار سے محروم ہو گئے ہیں۔ صدر بعض محدود فوجی کارروائیوں کا حکم کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر بھی دے سکتے ہیں، جبکہ کانگریس کے لیے ان اقدامات کو روکنے کے لیے قانون سازی، مالیاتی اختیارات اور سیاسی دباؤ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کسی قانونی پابندی کے لیے دونوں ایوانوں کی منظوری اور صدارتی ویٹو سمیت آئینی مراحل بھی اہم ہوں گے۔
یہاں ایک اور پہلو قابلِ غور ہے۔ نئی کانگریس جنوری 2027 میں اپنا کام شروع کرے گی۔ اس وقت تک ٹرمپ کے پاس موجودہ کانگریس کے ساتھ کام کرنے اور اپنی پالیسی آگے بڑھانے کا موقع موجود ہے۔ اس لیے انتخابات کے فوری بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے اس عبوری مدت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس پورے معاملے میں تین ممکنہ راستے زیرِ بحث رہنے چاہئیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھاتے ہوئے فوجی دباؤ برقرار رکھیں، تاکہ جوہری پروگرام اور علاقائی معاملات پر کوئی قابلِ قبول سمجھوتہ ہو سکے۔ دوسرا راستہ محدود فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران کو دباؤ میں رکھنے کا ہے۔ تیسرا راستہ بڑے پیمانے پر حملوں اور جنگ کی شدت میں اضافے کا ہے، جس کے سیاسی، معاشی اور علاقائی نتائج کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔
انتخابی نتائج پہلے اور دوسرے راستے پر سیاسی توجہ بڑھاتے ہیں، جبکہ تیسرے راستے کی داخلی سیاسی قیمت میں اضافہ کرتے ہیں۔ لیکن کسی بھی راستے کو یقینی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایران کی طرف سے ممکنہ جوابی کارروائی، اسرائیل کا کردار، خلیج فارس میں امریکی مفادات، آبنائے ہرمز اور جوہری مذاکرات کی صورت حال بھی فیصلہ کن عوامل ہیں۔
پاکستان کے لیے اس صورت حال کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ایران کے خلاف کسی بڑے امریکی حملے کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان کی مغربی سرحد، بلوچستان، خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی شہری، تیل کی درآمدات، توانائی کی قیمتیں اور علاقائی سفارتی توازن براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو سیاسی شکست دی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا امریکی عوام کے انتخابی فیصلے کے بعد واشنگٹن اپنی خارجہ پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی لائے گا؟ کیا کانگریس صدر کے جنگی اختیارات پر مؤثر نگرانی کرے گی؟ اور کیا ایران کے ساتھ معاملہ طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی طرف بڑھے گا؟
امریکی انتخابات نے ٹرمپ کی سیاسی آزادی کو محدود کرنے کے لیے ایک نیا پارلیمانی ماحول ضرور پیدا کر دیا ہے، لیکن جنگ اور امن کا فیصلہ صرف انتخابی نتائج سے نہیں ہوتا۔ اس میں عسکری مفادات، علاقائی اتحاد، اقتصادی دباؤ، داخلی سیاست اور سفارت کاری سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
دنیا کو اب واشنگٹن کے اگلے فیصلوں پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا معاملہ محض دو ملکوں کی جنگ نہیں ہوگا۔ اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر جنوبی ایشیا، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔
واپس کریں