مسز تاج آفریدی: نظریاتی اختلاف یا سیاسی خانہ بدوشی؟ خالد خان

شانگلہ کی مسز تاج آفریدی کی پاکستان تحریک انصاف سے علیحدگی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت محض ایک مقامی سیاسی تبدیلی نہیں، بلکہ اس واقعے نے سیاسی اخلاقیات، نظریاتی وابستگی اور سیاسی وفاداری کے ایک بنیادی سوال کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ ان کا یہ فیصلہ انفرادی سیاسی حق ہے، لیکن اس فیصلے کے ساتھ وابستہ جواز اور اس کی اخلاقی بنیاد پر سوال اٹھانا بھی عوام اور صحافت کا حق ہے۔
مسز تاج آفریدی کے مطابق وہ مشکل ترین حالات میں بھی دس سے گیارہ سال تک پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ رہیں اور انتخابات میں بھی پارٹی کا ساتھ دیا، لیکن اتنے طویل عرصے کے بعد بھی ان کی آبائی یونین کونسل نصرت خیل میں بنیادی ترقیاتی سہولیات فراہم نہیں ہو سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں ایک کلومیٹر پختہ سڑک تک تعمیر نہیں ہوئی۔ اب انہوں نے مقامی قیادت اور عوام کی خواہش و مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی وابستگی صرف ترقیاتی کاموں کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے یا اس کی کوئی نظریاتی اور اخلاقی بنیاد بھی ہوتی ہے؟ اگر کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا معیار صرف یہ ہو کہ وہ اقتدار میں ہے اور علاقے کے کام کروا سکتی ہے تو پھر نظریات، سیاسی منشور، جمہوری جدوجہد اور اصولی وفاداری کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟
سیاسی جماعتیں محض ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم کرنے والے ادارے نہیں ہوتیں۔ ان کے اپنے نظریات، تاریخی جدوجہد، سیاسی ترجیحات اور عوام سے کیے گئے وعدے ہوتے ہیں۔ کوئی شخص ان نظریات سے اتفاق کرکے جماعت میں شامل ہوتا ہے تو اس کی وابستگی محض اقتدار کے حصول یا مقامی ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ البتہ کسی جماعت کی قیادت اپنے منشور، وعدوں اور اصولوں سے انحراف کرے تو اس سے اختلاف اور علیحدگی بھی سیاسی حق ہے۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی وابستگی کا پیمانہ نظریہ نہیں بلکہ اقتدار بن جائے۔ اقتدار میں جماعت کے ساتھ رہنا، اقتدار ختم ہوتے ہی دوسری جماعت میں پناہ تلاش کرنا اور ہر نئی سیاسی صورت حال کو اپنے فیصلے کا جواز بنا لینا ایک ایسا رویہ ہے جس میں سیاسی نظریات ثانوی اور ذاتی یا گروہی مفادات بنیادی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔
سیاسیات میں اس رویے کو موقع پرستی یا سیاسی مفاد پرستی کہا جاتا ہے۔ ایسی سیاست میں جماعتیں نظریاتی رفاقت کے بجائے سیاسی مواقع کے حصول کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اس طرزِ سیاست کا نقصان صرف جماعتوں کو نہیں ہوتا بلکہ جمہوری نظام میں نظریاتی سیاست اور عوامی اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔
مسز تاج آفریدی کے معاملے میں بھی سوال یہ نہیں کہ انہیں پی ٹی آئی چھوڑنے یا پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا حق حاصل تھا یا نہیں۔ یقیناً یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ سوال یہ ہے کہ دس سے گیارہ سال کی وابستگی کے بعد ان کی علیحدگی کی اصل بنیاد کیا ہے؟ کیا یہ فیصلہ کسی طویل نظریاتی اختلاف، جماعتی قیادت سے مایوسی اور سیاسی پالیسیوں سے عدم اتفاق کا نتیجہ ہے یا اقتدار اور سیاسی حالات کی تبدیلی نے اس فیصلے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے؟
اگر کسی سیاست دان کو اپنی جماعت سے شکایت ہو تو اسے اختلاف کا حق حاصل ہے، لیکن سیاسی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے سابقہ سیاسی کردار کا جائزہ بھی پیش کرے۔ جس جماعت کے لیے اس نے لوگوں سے ووٹ مانگے، جس قیادت کا دفاع کیا اور جس سیاسی بیانیے کی حمایت کی، اس کے بارے میں اپنی موجودہ رائے اور تبدیلی کی وجوہات عوام کے سامنے واضح کرے۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی ہے۔ اگر کسی سیاست دان کے نزدیک سیاسی وابستگی کا بنیادی جواز علاقے میں سڑک، پانی، بجلی اور دیگر ترقیاتی سہولیات کی فراہمی ہے تو کیا وہ نئی جماعت میں شامل ہونے کے بعد بھی انہی مطالبات کو اپنی سیاست کا مرکز رکھے گی؟ کیا وہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی ان سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ اسی شدت سے کرے گی؟ اور اگر نئی جماعت بھی ان مطالبات کو پورا نہ کر سکی تو کیا وہ دوبارہ سیاسی وابستگی تبدیل کرے گی؟
یہ سوالات کسی خاتون سیاست دان کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے بیان کردہ سیاسی جواز کو سمجھنے کے لیے ہیں۔
جمہوریت میں سیاسی جماعت تبدیل کرنا کوئی جرم نہیں، لیکن ہر تبدیلی نظریاتی تبدیلی بھی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان اپنے اصولوں کی خاطر جماعت چھوڑتا ہے اور بعض اوقات اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے۔ ان دونوں صورتوں میں فرق کا تعین سیاسی بیانات سے زیادہ سیاسی کردار اور عملی رویے سے ہوتا ہے۔
مسز تاج آفریدی کی نئی سیاسی وابستگی ان کے لیے ایک نیا موقع بھی ہے کہ وہ اپنی سیاسی ترجیحات کو عملی شکل دیں۔ اب ان کی سیاسی شناخت کا تعین صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ وہ کس جماعت میں شامل ہوئی ہیں، بلکہ اس سے ہوگا کہ وہ عوامی مسائل، سیاسی اصولوں اور اپنی سابقہ وابستگی کے بارے میں کتنی دیانت داری سے اپنا مؤقف پیش کرتی ہیں۔
سوال صرف مسز تاج آفریدی سے نہیں بلکہ ہماری پوری سیاسی ثقافت سے ہے کہ کیا ہمارے ہاں سیاست نظریات، اصولوں اور عوامی خدمت کا نام ہے یا اقتدار کے ساتھ اپنی جگہ تبدیل کرنے کا ہنر؟
جس سیاست میں نظریات اقتدار کے تابع ہو جائیں، وہاں سیاسی وفاداری ایک عارضی معاہدہ بن جاتی ہے اور جمہوریت محض سیاسی مفادات کی گردش کا نام رہ جاتی ہے۔
واپس کریں