چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی محکمے (آئی ڈی سی پی سی) کے وزیر لیو ہائی شینگ نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اِن ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہر موسم میں آزمودہ تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ و کثیرالجہتی فورموں پر قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے چین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی آہنی دوستی باہمی اعتماد،احترام اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے روابط پر استوار ہے اور یہ تاریخی و آزمودہ تعلقات ہر آزمائش پر پورے اُترے ہیں۔ اُنہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے مسلسل سیاسی روابط اور دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان وفود کے تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا اور سیاسی قیادت کے درمیان ادارہ جاتی روابط کے فروغ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی محکمے کے کردار کو سراہا۔ اُنہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زرعی شعبے میں جدت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے دونوں ممالک کی مشترکہ خواہش کو بھی سراہا۔ لیو ہائی شینگ نے چین کی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لئے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور دیرینہ دوستی کو مزید گہرا کرنے کے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے اعلیٰ سطح کے روابط اور سیاسی جماعتوں کے مابین تبادلہ ئ خیال میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی صورتحال اور دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں شخصیات نے تاریخی اور آزمودہ تزویراتی شراکت داری کو مستحکم کرنے،اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات وقت کی ہر کسوٹی پر پورے اُترے ہیں جبکہ مہمان وزیر نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں لیو ہائی شینگ نے چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا جس کا گرمجوشی سے جواب دیتے ہوئے پاکستانی قیادت کی طرف سے چین کے صدر شی جن پنگ کے لئے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے چین کے ساتھ ہر آزمائش پر پورا اترنے والی تزویراتی شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے مستقل عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے ثقافتی روابط کو وسعت دینے، عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے، دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت آگے بڑھانے اور باہمی رابطوں و قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی۔
پاک چین تعلقات گزشتہ 75 برس سے باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کی دوستی محض سفارتی اور دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ وقت کے ساتھ معاشی شراکت داری کی مضبوط شکل بھی اختیار کر چکی ہے۔ اِس تعاون کا سب سے نمایاں مظہر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے جس کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان میں کم و بیش 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور40سے زائد منصوبے مکمل کیے جبکہ قومی بجلی کے نظام میں قریباً نو ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے میں مدد کی۔اِسی طرح کراچی سے لاہور تک بجلی کی ترسیل کے لئے مٹیاری، لاہور ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن لائن اور مواصلاتی شعبے میں مختلف شاہراہوں کی تعمیر نے توانائی اور رابطوں کے نظام کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔ گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے، پاک چین فرینڈشپ ہسپتال، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیتی ادارہ اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کا پلانٹ بھی مکمل کیے گئے ہیں۔ اب سی پیک کے دوسرے مرحلے میں توجہ صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونر، زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری شراکت داری پر مرکوز ہے۔ رشکئی اور بوستان خصوصی اقتصادی زونز کے پہلے مراحل فعال ہو چکے ہیں، جبکہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور دھابیجی اقتصادی زون کی ترقی پر کام جاری ہے۔ زراعت کے شعبے میں ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کی چین میں جدید ٹیکنالوجی کی تربیت بھی اِس تعاون کا اہم حصہ ہے۔ مئی 2026ء میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، زرعی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔اِس کے ساتھ قراقرم ہائی وے کے تھاکوٹ، رائیکوٹ حصے کی بہتری اور گوادر کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ یوں پاک چین معاشی شراکت داری کا اگلا مرحلہ محض بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات، زرعی استعداد اور معاشی خودانحصاری میں اضافے کا ذریعہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور چین کی دوستی محض دو ممالک کے سفارتی تعلقات کا نام نہیں بلکہ باہمی اعتماد،اخلاص اور آزمودہ تعاون کی ایسی مثال ہے جو وقت کی ہر کسوٹی پر پوری اُتری ہے۔ اِس لازوال دوستی میں مختلف ادوار کے دوران کٹھن مراحل بھی آئے،بعض عناصر نے غلط فہمیاں پیدا کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھانے کی کوششیں بھی کیں تاہم تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حالات نے اِس شراکت داری کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنایا۔اگر نیت صاف، اعتماد قائم اور مسائل حل کرنے کا عزم موجود ہو تو اختلافات دور ہو جاتے ہیں اور قومیں نئے چیلنجوں سے نبٹنے کے لئے آگے بڑھتی ہیں۔ چین پاکستان کا ایک قابلِ اعتماد دوست اور معاشی و تزویراتی شراکت دار ہے اِس لئے اس اعتماد اور دوستی کی حفاظت دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بدلتے عالمی حالات اور علاقائی چیلنجوں کے تناظر میں پاک چین تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سطح کے وفد کی پاکستان آمد اور قومی قیادت سے ملاقاتیں اور اِن میں دوطرفہ روابط و تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ اِس اَمر کا واضح اظہار ہے کہ دونوں ممالک اپنی دیرینہ شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔ یہ دورہ ایک بار پھر اِس حقیقت کی توثیق کرتا ہے کہ پاک چین دوستی وقتی مفادات سے بالاتر، آزمودہ اور لازوال ہے جسے باہمی اعتماد، عملی تعاون اور مشترکہ عزم کے ذریعے مزید مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
واپس کریں