دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران پر ممکنہ ایٹمی حملہ: پاکستان، افغانستان اور بھارت بھی خطرے کی زد میں
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان سے
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے ساتھ ایک انتہائی تشویش ناک سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو اس کے اثرات کہاں تک پہنچ سکتے ہیں؟ سوشل میڈیا پر اس امکان پر بحث جاری ہے۔ کچھ لوگ اسے مذاق سمجھ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی جنگ کی تباہی کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ پاکستان، افغانستان اور بھارت بھی اس کے ممکنہ اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ایٹمی دھماکے کے چند لمحوں میں ایک پورا شہر تباہ ہو سکتا ہے۔ شدید حرارت انسانوں کو جلا دیتی ہے، دھماکے کی طاقت عمارتوں کو زمین بوس کر دیتی ہے اور تابکاری انسانی زندگی کے لیے ایک طویل خطرہ بن جاتی ہے۔ لیکن خطرہ صرف دھماکے کے مقام تک محدود نہیں ہوتا۔ دھماکے سے پیدا ہونے والی تابکار گردوغبار ہواؤں کے ساتھ دوسرے علاقوں اور ملکوں تک پہنچ سکتی ہے۔
ایران میں یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے دو اہم مقامات نطنز (Natanz) اور فردو (Fordow) ہیں، جبکہ اصفہان (Isfahan) میں جوہری تحقیق، یورینیم کی تبدیلی اور جوہری مواد سے متعلق اہم تنصیبات موجود ہیں۔ فردو کا مرکز پہاڑ کے اندر زیرِ زمین تعمیر کیا گیا ہے۔ اصفہان کے زیرِ زمین سرنگوں کے نظام میں بھی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ 2025 میں ان مراکز پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ان کی حالت اور وہاں موجود جوہری مواد کی موجودہ صورت حال پوری طرح واضح نہیں۔ اکتوبر 2026 کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اب تک یہ معلوم نہیں کہ حملوں کے بعد ایران کا کتنا افزودہ یورینیم محفوظ رہا اور اس کا مکمل ذخیرہ کہاں موجود ہے۔ اس لیے ان مراکز کا ذکر ممکنہ خطرے کو سمجھنے کے لیے ہے، کسی مخصوص مقام پر آئندہ حملے کی پیش گوئی کے طور پر نہیں۔
ان مراکز کا جغرافیہ پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ نطنز، فردو اور اصفہان وسطی ایران میں واقع ہیں۔ ان مقامات سے پاکستان کی سرحد کے قریب تفتان کا سیدھا فضائی فاصلہ تقریباً 1,100 سے 1,250 کلومیٹر بنتا ہے۔ کوئٹہ تقریباً 1,500 سے 1,600 کلومیٹر، پشاور تقریباً 1,800 سے 1,900 کلومیٹر اور کابل تقریباً 1,600 سے 1,700 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ لاہور اور بھارتی سرحد کے قریبی علاقوں کا فاصلہ تقریباً 2,100 سے 2,250 کلومیٹر بنتا ہے۔ یہ فضائی سیدھے فاصلے ہیں، زمینی سفری راستے نہیں۔
اگر کسی ایٹمی دھماکے کے بعد ہواؤں کا رخ مشرق یا شمال مشرق کی طرف ہو تو تابکار بادل ایران سے بلوچستان، افغانستان اور پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ایک ممکنہ فضائی راستہ ایران کے مشرقی علاقوں سے زاہدان، تفتان اور چاغی کی سمت ہو سکتا ہے، جہاں سے بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرف اثرات پہنچ سکتے ہیں۔ شمال مشرقی ہواؤں کی صورت میں افغانستان کے ہرات اور قندھار کے علاقوں سے ہوتے ہوئے کابل اور پھر خیبرپختونخوا تک تابکار ذرات پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔ پشاور، خیبر، وزیرستان، کوہاٹ اور دیگر علاقے بھی موسمی حالات کے مطابق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر ہوائیں مزید مشرق کی طرف چلیں تو پنجاب اور بھارت کے بعض علاقوں تک بھی تابکار ذرات پہنچ سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ دھماکے کے کتنے وقت بعد یہ ذرات پاکستان پہنچ سکتے ہیں؟ اس کا کوئی مقررہ وقت نہیں۔ مثال کے طور پر اگر فضائی بلندی پر ہوا کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو تو ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً 20 گھنٹے، پندرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ 30 گھنٹے اور اٹھارہ سو کلومیٹر کا فاصلہ 36 گھنٹے میں طے ہو سکتا ہے۔ یہ صرف فاصلے اور ہوا کی رفتار کا حساب ہے، حقیقی پیش گوئی نہیں۔ مختلف بلندیوں پر ہوا کی رفتار اور سمت بدل سکتی ہے، بارش تابکار ذرات کو زمین پر گرا سکتی ہے اور بعض باریک ذرات فضا میں زیادہ دیر تک سفر کر سکتے ہیں۔ اس لیے اصل وقت اور متاثرہ علاقوں کا تعین اس وقت کے موسمیاتی ڈیٹا اور سائنسی ماڈلز سے ممکن ہوگا۔
تابکاری کا خطرہ صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتا۔ یہ زمین، پانی، فصلوں، سبزیوں، دودھ اور جانوروں کو بھی آلودہ کر سکتی ہے۔ متاثرہ خوراک یا پانی استعمال کرنے سے انسانی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ زیادہ تابکاری جسم کے خلیوں کو تباہ کر سکتی ہے، شدید بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے اور مستقبل میں سرطان کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ زراعت، خوراک کی فراہمی اور ماحولیات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ایٹمی حملے کے اثرات کئی سال تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ایسی صورت حال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عام شہری اپنی حفاظت کے بنیادی طریقے جانتے ہوں۔ اگر ایٹمی دھماکے یا تابکاری کا سرکاری انتباہ جاری ہو تو فوراً کسی مضبوط عمارت میں پناہ لیں۔ تہہ خانہ یا عمارت کا درمیانی حصہ زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ کھڑکیوں اور بیرونی دیواروں سے دور رہیں، دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں اور باہر سے آنے والی گردوغبار کو اندر داخل ہونے سے روکیں۔ پنکھے، ایئرکنڈیشنر اور ہوا باہر سے اندر کھینچنے والے نظام بند کر دیں۔
اگر کوئی شخص دھماکے کے بعد کھلی فضا میں موجود رہا ہو تو اسے اپنے بیرونی کپڑے احتیاط سے اتار کر تھیلی میں بند کر دینے چاہییں اور جسم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔ اس سے جسم پر موجود تابکار گردوغبار کا بڑا حصہ صاف ہو سکتا ہے۔ متاثرہ علاقے سے آنے والی خوراک، کھلے پانی، بارش کے پانی اور دودھ کے استعمال سے اس وقت تک گریز کریں جب تک متعلقہ حکام انہیں محفوظ قرار نہ دیں۔
ابتدائی 24 گھنٹے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ جگہ پر رکھیں اور سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ آیوڈین کی گولیاں بھی اپنی مرضی سے استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ ہر قسم کی تابکاری سے تحفظ نہیں دیتیں بلکہ صرف مخصوص قسم کی تابکاری کے اثرات سے بچانے کے لیے طبی ہدایت کے مطابق استعمال ہوتی ہیں۔
عوام کو چاہیے کہ ہنگامی صورت حال سے پہلے ہی اپنے گھروں میں کم از کم ایک ہفتے کی بنیادی ضروریات کا مناسب ذخیرہ رکھیں۔ اس میں پینے کا محفوظ پانی، آٹا، چاول، دالیں، گھی، ڈبہ بند خوراک، خشک غذائی اشیا، بچوں کا دودھ اور ضروری خوراک شامل ہو۔ ہر فرد کے لیے روزانہ تقریباً تین سے چار لیٹر پانی پینے اور بنیادی کھانا پکانے کے لیے محفوظ رکھنا مناسب ہے۔ اس کے علاوہ گھر کے بیمار افراد کی معمول کی دوائیں کم از کم ایک ہفتے کے لیے، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پانی صاف کرنے کی گولیاں، صابن، سینیٹری اشیا، ٹارچ، اضافی بیٹریاں، پاور بینک، بیٹری سے چلنے والا ریڈیو اور کچھ نقد رقم بھی موجود ہونی چاہیے۔ ضروری شناختی دستاویزات اور اہم فون نمبروں کی نقول بھی محفوظ رکھیں۔ یہ ذخیرہ کسی خوف یا افراتفری میں نہیں بلکہ معمول کی احتیاط کے طور پر بتدریج جمع کیا جائے۔ بلا ضرورت اشیائے خورونوش کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ضروری سامان دستیاب رہے۔
پاکستان کے لیے یہ خطرہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ بلوچستان کی طویل سرحد ہے اور کسی بڑے ایٹمی حادثے یا حملے کی صورت میں سرحدی آبادی کو فوری مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا بھی ممکنہ فضائی اثرات کے حوالے سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور محکمہ صحت کو تابکاری کی نگرانی، ہنگامی طبی سہولتوں، محفوظ پانی اور خوراک کی فراہمی اور عوامی آگاہی کے انتظامات پر توجہ دینی چاہیے۔
اس موقع پر اطلاعات کی درستگی بھی زندگی اور موت کا معاملہ بن سکتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ واٹس ایپ پیغامات، غیر مصدقہ ویڈیوز اور سوشل میڈیا کی سنسنی خیز خبروں پر فوراً یقین نہ کریں۔ سرکاری اعلانات، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی اطلاعات کو ترجیح دیں۔ پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان اور دیگر ذمہ دار ذرائع ابلاغ سے خبریں حاصل کریں۔ کسی علاقے کو خالی کرنے، گھروں میں رہنے، خوراک اور پانی کے استعمال یا کسی مخصوص دوا کے بارے میں جو ہدایات جاری ہوں، ان پر عمل کریں۔ اپنی طرف سے راستے اختیار کرنے، غیر ضروری نقل مکانی یا افواہوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے سے نقصان بڑھ سکتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ کے فیصلے حکمران اور طاقتور ریاستیں کرتی ہیں، لیکن ان فیصلوں کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔ ایران میں ایٹمی حملہ ہوا تو اس کی تباہی صرف ایرانی عوام کا دکھ نہیں ہوگی۔ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے کروڑوں انسان بھی اس کے ممکنہ نتائج سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایٹمی جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا۔ اس کی آگ میں انسان، نسلیں، معیشتیں اور ماحول سب کچھ جھلس جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خطرے کو سمجھیں، اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کی تیاری کریں، ذمہ دار اطلاعات پر بھروسہ کریں اور خطے کو ایک ایسی تباہی سے بچانے کے لیے امن کی آواز بلند کریں جس کے اثرات آنے والی نسلیں بھی بھگت سکتی ہیں۔
واپس کریں