ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
شہرِ آئینہ میں ایک ایسی سلطنت آباد تھی جہاں تلواروں سے زیادہ سوالات کی حکمرانی تھی۔ ہر شخص کے ہاتھ میں ایک روشن شیشہ تھا وہ اس سے دنیا کے کسی بھی گوشے، کسی بھی واقعے اور کسی بھی راز کے بارے میں پوچھتا، اور چند لمحوں بعد ایک باوقار، مربوط اور بظاہر قطعی جواب اس کے سامنے آجاتا۔ اس سلطنت کا فرمانروا کوئی انسان نہ تھا؛ اسے لوگ ’’جواب‘‘ کہتے تھے۔ ایک دن شہر کے ایک کہنہ مشق صحافی نے اس سے پوچھا، ’’کل جو واقعہ پیش آیا، اس کی حقیقت کیا ہے؟‘‘ جواب آیا تو عبارت ایسی مربوط تھی کہ دربار میں بیٹھے اہلِ دانش بھی متاثر ہوئے۔ مگر صحافی نے اپنی دستاویزات کھولیں تو معلوم ہوا کہ جواب میں ایک ایسا واقعہ بھی شامل تھا جو کبھی پیش ہی نہیں آیا تھا۔ اس نے پوچھا، ’’یہ کہاں سے آیا؟‘‘ جواب نے کہا، ’’میں نے مختلف اطلاعات کو جمع کیا، ان کا خلاصہ بنایا اور ایک مکمل تصویر تمہارے سامنے رکھ دی۔‘‘ صحافی نے کہا، ’’مگر تصویر مکمل نہیں، مصنّع ہے؛ اور جو چیز درست معلوم ہو، ضروری نہیں کہ درست بھی ہو۔‘‘ جواب خاموش رہا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں شہر کے اہلِ فکر پر پہلی بار یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ عہدِ جدید کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ معلومات کون پیدا کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کا مفہوم کون متعین کرتا ہے۔
پھر شہر میں انتخابات کا موسم آیا۔ خطیبوں نے خطبے دیے، امیدواروں نے منشور پیش کیے، مخالفین نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے، اخبارات نے دستاویزات شائع کیں اور عوام نے سوالات اٹھائے لیکن اب ایک نئی قوت میدان میں تھی۔ ایک امیدوار نے ’’جواب‘‘ سے پوچھا کہ ’’عوام میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟‘‘ اس نے ہزاروں تحریروں، تبصروں، ویڈیوز اور اعداد و شمار سے ایک نتیجہ اخذ کر دیا۔ دوسرے نے پوچھا کہ ’’میرے مخالف کے خلاف کیا ثبوت ہیں؟‘‘ جواب نے چند لمحوں میں ایک فہرست مرتب کردی۔ کسی نے یہ نہ پوچھا کہ کون سا ماخذ معتبر تھا، کس شہادت کا وزن زیادہ تھا، کون سی روایت ساقط کردی گئی اور کس دعوے کو کس میزان سے پرکھا گیا۔ شہر کے ایک دانا نے کہا کہ ’’یہ محض اطلاع رسانی نہیں یہ تشکیلِ ادراک ہے۔‘‘ شاگرد نے پوچھا، ’’کیا ادراک بھی اقتدار ہوسکتا ہے؟‘‘ دانا نے جواب دیا، ’’جب کسی قوت کو یہ اختیار حاصل ہوجائے کہ وہ تمہارے سامنے موجود ہزار امکانات میں سے چند منتخب کرکے تمہارے لیے ایک دنیا مرتب کردے تو وہ صرف تمہیں خبر نہیں دیتی، تمہارے شعور کے افق متعین کرتی ہے۔‘‘ یہی وہ مقام ہے جہاں آزادیِ رائے کا مسئلہ آزادیِ انتخاب سے آگے بڑھ کر آزادیِ معرفت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی دوران شہر کا قدیم اخبار ’’خبرستان‘‘ زوال پذیر ہونے لگا۔ اس کے صحافی راتیں جاگ کر دستاویزات تلاش کرتے، عینی شاہدین سے گفتگو کرتے، سرکاری ریکارڈ کھنگالتے اور اپنی پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ ایک ایک خبر تیار کرتے مگر صبح ہوتے ہی ’’جواب‘‘ ان کی پوری رپورٹ کو چند جملوں میں سمیٹ کر لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتا۔ قاری کو اصل خبر تک جانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ اخبار کی محنت استعمال ہوتی رہی، مگر اس کے قارئین، آمدنی اور معاشی قوت کم ہوتی گئی۔ مدیر نے دربار میں کہا: ’’اگر تم ہماری محنت سے جواب بناتے ہو تو ہمیں ہمارا حق بھی دو۔‘‘ جواب نے کہا: ’’میں تو صرف سہولت فراہم کرتا ہوں۔‘‘ مدیر نے کہا: ’’اگر تمہاری سہولت ان اداروں کو مٹا دے جو حقائق تلاش کرتے ہیں تو کل تمہارے پاس سمیٹنے کے لیے کیا باقی بچے گا؟‘‘ یہ سوال پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہماری صحافت پہلے ہی معاشی کمزوری، سیاسی دباؤ، اشتہاری انحصار اور محدود سبسکرپشن کلچر سے دوچار ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت صحافتی محنت سے فائدہ اٹھاتی رہے، مگر اصل ادارے کو نہ حوالہ ملے، نہ قاری، نہ معاشی حق، تو بظاہر معلومات کی فراوانی کے اندر مصدقہ معلومات کی قحط سالی جنم لے سکتی ہے۔
رات کے آخری پہر شہر کے چوک میں چند صحافی اور اہلِ دانش جمع ہوئے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ ’’تو کیا اس بادشاہ کو ختم کردیا جائے؟‘‘ دانا نے جواب دیا: ’’نہیں، علم کی قوت کو ختم نہیں کیا جاتا اس کے حدود و آداب متعین کیے جاتے ہیں۔‘‘ پھر اس نے کہا کہ ’’جواب کو اپنے ماخذ ظاہر کرنا ہوگا، دعوے کو شہادت سے مربوط کرنا ہوگا، اختلافِ رائے کو اس کے حقیقی وزن کے ساتھ پیش کرنا ہوگا، غلطی کی اصلاح کا راستہ کھلا رکھنا ہوگا اور جس صحافت کے دم سے یہ معلومات وجود میں آئیں، اس کے خالق کو اس کی نسبت اور اس کا حق دینا ہوگا۔‘‘ پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: ’’فَتَبَيَّنُوا‘‘ تحقیق کرو، خبر کی چھان بین کرو۔ یہی اصول آج کے ڈیجیٹل عہد میں پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ مشین کی رفتار علم نہیں، اور زبان کی فصاحت صداقت کی دلیل نہیں۔ اصل علم وہ ہے جس کے پیچھے ماخذ ہو، شہادت ہو، سیاق ہو اور جواب دہی ہو۔ مستقبل کا معرکہ معلومات کی کثرت کا نہیں بلکہ صداقت کی حفاظت کا ہے۔ اگر انسان نے سوال پوچھنے کی آزادی تو باقی رکھی مگر جواب کے سرچشمے کو پہچاننے کی صلاحیت کھو دی، تو پھر خطرہ یہ نہیں ہوگا کہ کوئی مشین کبھی غلط جواب دے دے گی خطرہ یہ ہوگا کہ انسان کو یہ معلوم ہی نہ رہے گا کہ اس کے ذہن میں جو جواب داخل ہوا، وہ حقیقت تھی، کسی کی تعبیر تھی یا کسی نامعلوم اختیار کی بنائی ہوئی حقیقت۔
واپس کریں