پاکستان کو تیل کی درآمد کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا ہوں گے

احتشام الحق شامی ۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم آبی راستے تناؤ کا شکار ہیں، جس سے پاکستان جیسی تیل درآمد کرنے والی معیشتوں پر براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ کشیدگی کم نہیں ہوتی تو پاکستان کو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ملک میں تیل کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے اب پاکستان کے لیے متبادل درآمدی راستے اور ذرائع تلاش کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اکثریت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے آتی ہے، جن کی ترسیل روایتی طور پر آبنائے ہرمز سے ہوتی رہی ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ لے جاتی ہے۔ فروری 2026 سے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازعے کے بعد اس راستے پر شدید رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ نتیجے میں سعودی عرب نے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کی طرف موڑنا شروع کیا۔تاہم اب بحیرہ احمر بھی محفوظ نہیں رہا۔ حوثیوں کے حملوں اور پیش قدمی نے باب المندب اور ینبع سے ترسیل کو متاثر کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے ینبع سے تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے اور پائپ لائن پر حملوں کے بعد یہ متبادل راستہ بھی دباؤ میں آ گیا ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کی تیل سپلائی چین کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ رکاوٹیں برقرار رہیں تو نہ صرف فریٹ اور انشورنس کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ ترسیل میں تاخیر بھی ہو گی۔اس بحران کا حل متبادل راستوں اور ذرائع میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان پہلے ہی متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے تیل درآمد کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے باہر واقع ہے۔ حکومت عمان کے ساتھ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے معاہدے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، نائجیریا، سنگاپور، وسطی ایشیا، لیبیا اور مغربی افریقہ جیسے ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے پہلی بار امریکی خام تیل کی کھیپ بھی وصول کی ہے، جو توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔اگر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم نہیں ہوتی تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ چکی ہیں اور مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑے گا، جو پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مزید 14 سے 15 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ترسیل متاثر رہی تو نومبر کے بعد تیل کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اسٹریٹجک ذخائر محدود ہیں۔حکومت کو فوری اور طویل مدتی دونوں سطحوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ قلیل مدت میں متبادل سپلائرز سے معاہدے تیز کرنے، اسٹریٹجک ذخائر بڑھانے اور گھریلو ریفائنریز کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل مدت میں گھریلو تیل و گیس کی تلاش کو تیز کرنا، قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانا اور خطے کے ساتھ توانائی کے محفوظ کریدورز قائم کرنا ضروری ہے۔ سفارتکاری کے ذریعے ایران اور دیگر فریقین سے بات چیت جاری رکھنا بھی اہم ہے تاکہ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کم سے کم ہو۔خلاصہ یہ کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان کی توانائی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر پر انحصار کم کرنے اور متبادل راستے تلاش کرنے میں کامیابی ہی اس بحران سے نجات دلا سکتی ہے۔ بروقت فیصلوں اور متنوع سپلائی چین کے بغیر ملک کو مہنگائی، اقتصادی دباؤ اور ممکنہ قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ وقت عمل کا ہے، تاکہ پاکستان کی معیشت اور عوام کو اس بیرونی جھٹکے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
واپس کریں