دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پی ٹی آئی کالعدم کیوں نہیں؟
No image پاکستان کی سیاست میں یہ سوال بار بار اٹھتا رہتا ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت پر ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد ہوں تو اسے قانونی طور پر کیوں نہیں کالعدم قرار دیا جاتا۔ پی ٹی آئی کے حوالے سے بھی یہ بحث خاص طور پر 9 مئی 2023 کے واقعات، فارن فنڈنگ کیس، سائفر کیس اور دیگر الزامات کے بعد شدت اختیار کر گئی۔ حکومتی حلقوں اور مقتدرہ نے کئی مرتبہ اس پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے اشارے دیے، مگر ابھی تک اسے آئین کے تحت مکمل طور پر کالعدم نہیں کیا گیا؟
ایک طرف حکومتی موقف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حوالے سے کئی واقعات ریاست کے خلاف ہیں اور ان پر سخت کارروائی ضروری ہے تو عرض ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم واقعی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہو تو آئین اور قانون میں اس کے خلاف کارروائی کا واضح راستہ موجود ہے،ایسے قانونی اور آئینی راستے کو اختیار کیوں نہیں کیا جاتا؟
حکومت نے 2024 میں خاص طور پر مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی پر پابندی کا اعلان اور آرٹیکل 17 کا حوالہ دیا تھا۔ الزامات میں 9 مئی کے واقعات فوجی تنصیبات پر حملے،غیر قانونی فنڈنگ، سائفر لیک اور دیگر شامل تھے تاہم اب تک کوئی ریفرنس سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا ۔ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا،لیڈران و کارکنان پر مقدمات چلائے گئے، گرفتاریاں ہوئیں اور میڈیا کوریج پر پابندیاں عائد کی گئیں،عمران خان کا نام قومی میڈیا پر لینا منع کر دیا گیا مگر پارٹی بطور سیاسی جماعت ابھی تک موجود ہے جو حیران کن ہے۔
دہشت گردی سے متعلق تنظیموں کے لیے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پروسکرپشن کا الگ راستہ ہے، جس میں وفاقی حکومت براہِ راست نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینا، ٹی ایل پی اور پی ٹی ایم جیسے معاملات میں یہ راستہ استعمال ہوا۔
سیاسی جماعت کی مکمل تحلیل کے لیے آرٹیکل 17(2) اور سپریم کورٹ کا کردار لازمی ہے لیکن آئینی عدالت کے قیام اور عدلیہ میں کسی حد تک حالیہ حکومتی اصلاحات کے بعد اس حکومت کے لیئے کوئی مشکل یا دقت نہیں کہ پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دلوا سکے۔
یہ روز روز کا رونا رونے کے بجائے اور پی ٹی آئی کو یہودی لابی کی جماعت قرار دینے سے بہتر نہیں کہ اسے کالعدم قرار دے دیا جائے۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یے بازی گر کھلا
واپس کریں