چوری پکڑی گئی: 97 ارب روپے کا شہری ترقیاتی منصوبہ،32 ارب کی خردبرد

(پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا کے شہروں کی بہتری کے لیے تقریباً 97 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے منصوبے سے وابستہ تین ٹھیکیدار اداروں کے نمائندوں کو 22 ستمبر کو طلب کرتے ہوئے بینک کھاتوں، ادائیگیوں اور دیگر مالی ریکارڈ کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ تحقیقات اب صرف منصوبے کے انتظامی ڈھانچے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ٹھیکوں، ادائیگیوں اور ان سے فائدہ اٹھانے والے ٹھیکیداروں تک بھی پہنچ گئی ہیں۔
یہ منصوبہ خیبر پختونخوا کے پانچ بڑے شہری مراکز پشاور، ایبٹ آباد، کوہاٹ، مردان اور مینگورہ میں شہری بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی بہتری کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ریکارڈ کے مطابق منصوبے کی مجموعی مالی ساخت میں 380 ملین امریکی ڈالر کا قرض، 5 ملین ڈالر کی گرانٹ اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی طرف سے 200 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ منصوبے کے مقاصد میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، شہری بنیادی ڈھانچے اور شہری اداروں کی استعداد میں بہتری شامل ہے۔
اس معاملے کی سنگینی صرف 32 ارب روپے کے مبینہ مالی معاملات کے الزام سے نہیں بلکہ پہلے سے سامنے آنے والے آڈٹ اعتراضات سے بھی واضح ہوتی ہے۔ فروری 2025 میں شائع ہونے والی آڈٹ رپورٹ کے مطابق تقریباً 8.4853 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں، غیر مجاز کاموں، غیر منظور شدہ تبدیلیوں، لاگت میں اضافے اور دیگر مالی معاملات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں 1.709 ارب روپے کے ایسے مالی نقصان کا بھی ذکر تھا جو زیادہ نرخوں پر ٹھیکے دینے سے منسوب کیا گیا، جبکہ تقریباً 263.491 ملین روپے کی لاگت میں اضافے، 49.472 ملین روپے کی ایسی ادائیگی اور 105.666 ملین روپے کے تاخیر کے ہرجانے کی عدم وصولی جیسے معاملات بھی سامنے آئے۔
دوسری طرف اگست 2025 میں نیب نے باقاعدہ انکوائری شروع کرتے ہوئے منصوبے کی انتظامی یونٹ سے مشیروں کی تقرری، ٹھیکیداروں کی پیشگی اہلیت، بولیوں، آڈٹ رپورٹس اور اشتہارات سمیت ریکارڈ طلب کیا تھا۔ نیب کی کارروائی ان شکایات کے بعد سامنے آئی جن میں صوبائی اسمبلی کے ارکان نے منصوبے میں 32 ارب روپے تک کی مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ شکایات میں بعض ٹھیکیداروں کو قواعد کے خلاف ٹھیکے دینے، محدود زمینی پیش رفت کے باوجود بھاری ادائیگیوں، پیش رفت کی مبینہ غلط تصدیق اور نگرانی کے کمزور نظام جیسے الزامات شامل تھے۔
اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نیب تین ٹھیکیداروں سے کیا پوچھتا ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ تقریباً 97 ارب روپے کے منصوبے میں اتنی بڑی رقم کے ٹھیکوں، پیشگی ادائیگیوں، کام کی تصدیق اور نگرانی کا نظام کس کے تحت کام کر رہا تھا؟ اگر آڈٹ میں اربوں روپے کے مالی اعتراضات سامنے آ چکے تھے تو ان اعتراضات پر بروقت محکمانہ کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اگر بعض کاموں کی زمینی پیش رفت ادائیگیوں کے مقابلے میں کم تھی تو ادائیگیوں کی منظوری کس سطح پر ہوئی؟ اگر خریداری اور ٹھیکوں کے طریقہ کار پر سوالات اٹھے تو ذمہ دار افسران سے وضاحت کب طلب کی گئی؟ اور اگر تمام ادائیگیاں قواعد کے مطابق تھیں تو پھر نیب کو بینک کھاتوں اور مالی ریکارڈ تک پہنچنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ سوال بھی براہ راست صوبائی حکومت کی سیاسی اور انتظامی نگرانی سے جڑتا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق محکمہ مقامی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی کے موجودہ وزیر مینا خان ہیں۔ اس لیے ان سے یہ سوال بنتا ہے کہ محکمہ کے ماتحت یا متعلقہ شہری ترقیاتی منصوبے کی نگرانی کا نظام کیا تھا، آڈٹ اعتراضات ان کے علم میں کب آئے، ان پر کیا کارروائی ہوئی، اور کیا انہوں نے منصوبے کی مالی و جسمانی پیش رفت کی آزادانہ جانچ کرائی؟
اس سے بڑا سوال وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی سے بنتا ہے۔ خود صوبائی حکومت کے سرکاری بیانات میں شفافیت، مؤثر انتظامی نگرانی، ترقیاتی منصوبوں پر منتخب نمائندوں کی نگرانی اور اچھی طرز حکمرانی کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ جون 2026 میں وزیراعلیٰ نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ کی منظوری ذمہ داری کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے اور تمام محکموں کو مؤثر عمل درآمد اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی پر توجہ دینی چاہیے۔ چنانچہ اب سوال یہ ہے کہ تقریباً 97 ارب روپے کے منصوبے میں سامنے آنے والے اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات اور نیب تحقیقات اسی اچھی طرز حکمرانی کے معیار پر کہاں کھڑے ہیں؟
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت ایک طرف عمران خان کی رہائی اور سیاسی مطالبات کے لیے احتجاجی اور عوامی رابطہ مہم چلا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف صوبے کے عوام کو شہری سہولتوں، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری وسائل کے استعمال کا جواب بھی اسی حکومت سے چاہیے۔ سرکاری طور پر خود خیبر پختونخوا حکومت نے ستمبر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سندھ دورے اور سٹریٹ موومنٹ کو عمران خان کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی کی سیاسی جدوجہد کا حصہ قرار دیا تھا۔
یہاں بنیادی سوال لانگ مارچ یا احتجاج کے حق یا مخالفت کا نہیں بلکہ ترجیحات اور حکمرانی کا ہے۔ اگر صوبائی حکومت کے پاس سیاسی تحریک کے لیے وقت، انتظامی صلاحیت اور سیاسی توانائی موجود ہے تو پھر عوام یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، آڈٹ اعتراضات کے ازالے، ٹھیکوں کی شفافیت اور شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے اسی شدت سے جواب دہی کیوں نظر نہیں آتی؟ احتجاج ایک سیاسی حق ہے، لیکن حکمرانی بھی ایک آئینی اور انتظامی ذمہ داری ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبے کے حوالے سے بھی شکایات اور نگرانی کا ایک الگ عمل موجود رہا ہے۔ بینک کے احتسابی طریقہ کار کے تحت اس منصوبے سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں معاہدے کی خلاف ورزی، مزدوروں کو کم ادائیگی، نجی زمین پر پائپ لائن بچھانے اور معاوضے جیسے معاملات شامل تھے۔ اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے سے متعلق شکایات کا دائرہ صرف پاکستانی اداروں تک محدود نہیں رہا۔
اب نیب کی 22 ستمبر کی کارروائی اس معاملے میں ایک اہم مرحلہ ہے۔ تین ٹھیکیدار اداروں کے نمائندوں سے بینک کھاتوں، ادائیگیوں اور دیگر مالی ریکارڈ کے بارے میں پوچھ گچھ اس بات کا تعین کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ منصوبے میں رقم کا بہاؤ کس طرح ہوا، کس بنیاد پر ادائیگیاں ہوئیں، کام کی حقیقی پیش رفت کیا تھی اور سرکاری ریکارڈ میں درج پیش رفت زمینی حقیقت سے کس حد تک مطابقت رکھتی تھی۔
خیبر پختونخوا حکومت کے لیے اس مرحلے پر سب سے اہم سوال سیاسی دفاع نہیں بلکہ شفاف جواب دہی ہے: 97 ارب روپے کے منصوبے میں 8.4853 ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات کیسے پیدا ہوئے؟ 32 ارب روپے تک کی مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کن بنیادوں پر سامنے آئیں؟ ٹھیکوں، پیشگی ادائیگیوں اور کام کی تصدیق کا ذمہ دار کون تھا؟ متعلقہ وزیر کو کب اور کیا بتایا گیا؟ وزیراعلیٰ کے دفتر نے اس معاملے پر کیا نگرانی کی؟ اور عوام کو یہ یقین کیسے دلایا جائے گا کہ ترقیاتی منصوبوں کے اربوں روپے سیاسی سرگرمیوں، انتظامی غفلت یا کمزور نگرانی کی نذر نہیں ہو رہے؟
اصل امتحان اب نیب کا بھی ہے اور صوبائی حکومت کا بھی۔ نیب کو شواہد کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ تحقیقات مکمل کرنی ہیں، جبکہ حکومت کو سیاسی نعروں سے بالاتر ہو کر عوامی وسائل کے استعمال، انتظامی نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کا واضح حساب دینا ہے۔ کیونکہ ایک صوبے کی حکمرانی صرف لانگ مارچ، احتجاج اور سیاسی بیانات سے نہیں پرکھی جاتی؛ اس کا اصل پیمانہ یہ بھی ہے کہ عوام کے لیے مختص اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے، کیا نتیجہ نکلا اور ہر ذمہ دار ادارہ اس خرچ کا جواب دینے کے لیے کتنا تیار ہے۔
واپس کریں