دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
لہولہان خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کی مہم جوئی، ریاستی ذمہ داری اور سیاسی اخلاقیات کے چبھتے ہوئے سوالات
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبرپختونخوا میں 27 ستمبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ریاستی انتظامیہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا سید شہاب علی شاہ نے آئی جی پولیس، انتظامی سیکریٹریز، تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور صوبائی اداروں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اسلام آباد جانے والے کسی مارچ، ریلی یا جلوس کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری، فنڈز یا دیگر ریاستی وسائل استعمال نہیں کیے جاسکیں گے۔ کسی سرکاری ملازم کو بھی ایسے سیاسی اجتماع میں شرکت یا اس کی معاونت پر مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔ اگر کسی اہلکار پر اس نوعیت کا دباؤ ڈالا جائے تو اسے چیف سیکریٹری یا آئی جی پی کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چیف سیکریٹری کے مراسلے میں صرف سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق ایسا کوئی مارچ، ریلی یا جلوس قابل قبول نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں اسلام آباد میں شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، تجارت، کاروبار، تعلیمی اداروں، طبی سہولتوں یا جائیدادوں کے پرامن اور قانونی استعمال میں رکاوٹ پیدا ہو۔ یہ ہدایات کسی سیاسی جماعت کی طرف سے جاری کردہ سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر ریاستی انتظامیہ کی جانب سے عملدرآمد کا حصہ ہیں۔ عدالت نے صوبائی چیف سیکریٹریز اور آئی جی پولیس کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
چیف سیکریٹری کے مراسلے کے بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی جانب سے بھی پولیس کی سطح پر احکامات مزید واضح کردیئے گئے ہیں۔ آئی جی پولیس نے صوبے کے تمام پولیس یونٹس، کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور، ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ عدالتی حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کو واضح کردیا گیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کو اسلام آباد جانے والے مارچ، ریلی یا جلوس میں مدد یا سہولت فراہم کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی اہلکار کو ایسا حکم دیا جائے تو اسے متعلقہ اعلیٰ حکام کو فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آئی جی پولیس کے مراسلے میں سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی دوٹوک پابندی عائد کی گئی ہے۔ سرکاری گاڑیاں، مشینری، عوامی فنڈز، آلات یا دیگر ریاستی وسائل براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی مارچ یا ریلی کی معاونت کے لیے استعمال نہیں کیے جاسکیں گے۔ اسی طرح کسی سرکاری ملازم کو سیاسی اجتماع میں شرکت پر مجبور، ترغیب یا کسی دوسرے طریقے سے پابند نہیں کیا جاسکے گا۔ عدالتی احکامات یا ان کے تحت جاری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ پولیس نے شکایات کے لیے چوبیس گھنٹے رابطے کا نظام بھی برقرار رکھنے کا کہا ہے۔
دریں اثناء وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ اختیار ولی نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کئی دن سے صوبے سے باہر ہیں اور صوبے میں تعلیم، صحت اور دیگر شعبے مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کوہاٹ سانحے کو بھی صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی کے تناظر میں اٹھایا اور وزیراعلیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت، رہنما یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کو اسلام آباد کی سڑکیں، شاہراہیں، داخلی و خارجی راستے یا دیگر عوامی مقامات اس انداز میں بند کرنے کا اختیار نہیں جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہو۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو سرکاری وسائل، گاڑیوں اور مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔
دوسری طرف جمعہ کے روز کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ تازہ دستیاب اطلاعات کے مطابق حملے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 15 پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ حملہ پولیس لائنز کے قریب مسجد کے علاقے میں ہوا اور اس کے بعد دہشت گردوں نے پولیس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
لیکن یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے یا اختیار ولی کا استعفے کا مطالبہ سیاسی طور پر کتنا مؤثر ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان ذمہ داریوں کی پیمائش کیسے کی جانی چاہیے۔
مسلسل حملوں، پولیس اہلکاروں کی شہادتوں اور شہریوں کے عدم تحفظ کے ماحول میں حکومت سے امن و امان، پولیس کی استعداد، انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اور انتظامی موجودگی کے بارے میں سوال ضرور پوچھے جاسکتے ہیں۔
اسی طرح اسلام آباد مارچ کے معاملے میں بھی اصل سوال کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے حق کو ختم کرنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ سیاسی سرگرمی اور ریاستی وسائل کے درمیان حد کہاں قائم ہوتی ہے۔ احتجاج سیاسی اور آئینی عمل کا حصہ ہے، لیکن سرکاری خزانہ، سرکاری گاڑیاں، پولیس مشینری اور سرکاری ملازمین کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں ہوتے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے نے اسی فرق کو انتظامی ہدایات میں تبدیل کیا ہے۔
یہاں خیبرپختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے کا ایک اہم تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومت سے سیاسی طور پر یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنی جماعت کے اسلام آباد مارچ سے متعلق سیاسی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرے، جبکہ دوسری طرف ریاستی انتظامیہ پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی سے الگ رکھے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی پی کے حالیہ مراسلے اسی ادارہ جاتی حد بندی کو واضح کرتے ہیں۔
کوہاٹ کا سانحہ اس بحث کو مزید سنگین بناتا ہے۔ جب پولیس اہلکار خود دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہوں، تو پولیس کی نفری، وسائل، توجہ اور انتظامی صلاحیت کا بنیادی مقصد شہریوں اور ریاستی تنصیبات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ایسے وقت میں سیاسی مارچ کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کا سوال محض سیاسی نہیں رہتا بلکہ ریاستی ترجیحات اور عوامی وسائل کے استعمال کا سوال بن جاتا ہے۔
چنانچہ اس وقت خیبرپختونخوا میں تین الگ مگر باہم جڑے ہوئے سوالات موجود ہیں۔ ریاستی انتظامیہ عدالتی احکامات پر کس حد تک غیر جانب دارانہ عملدرآمد کرتی ہے، صوبائی حکومت دہشت گردی اور بنیادی حکومتی خدمات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں کس طرح ادا کرتی ہے، اور سیاسی جماعتیں اپنے احتجاج کے آئینی حق کو شہریوں کے حقوق اور قانون کی حدود کے ساتھ کس طرح استعمال کرتی ہیں۔
کوہاٹ کا سانحہ عوامی تحفظ کا حقیقی بحران ہے۔ ان تینوں کو ایک ہی سیاسی ترازو میں تولنے کے بجائے الگ الگ معیار سے دیکھنا ہوگا۔ ریاستی اداروں کا کام قانون نافذ کرنا ہے، حکومت کا کام عوام کو تحفظ اور خدمات دینا ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کا حق احتجاج بھی اسی آئینی اور قانونی نظم کے اندر ہے۔ خیبرپختونخوا کے موجودہ بحران میں اصل امتحان یہی ہے کہ یہ تینوں دائرے ایک دوسرے میں مدغم ہونے کے بجائے اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
واپس کریں