
پاکستان میں سیاسی ابلاغ کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو چکا ہے۔ ٹیلی وژن، اخبارات اور روایتی ذرائع ابلاغ اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن یوٹیوب اور دوسرے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے سیاسی معلومات، خبر، تجزیے اور رائے سازی کے لیے ایک ایسا نیا میدان پیدا کر دیا ہے جہاں ایک فرد بھی چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ابلاغی نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی بھی ہے، کیونکہ ناظر کی توجہ اب ایک ایسی قدر بن چکی ہے جسے ویوز، سبسکرائبرز، اشتہارات اور ڈیجیٹل اثرورسوخ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
دسمبر 2024 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 130 سے زیادہ سیاسی وی لاگرز نے ایک سال کے دوران 85 ہزار سے زائد ویڈیوز اپ لوڈ کیں اور ان ویڈیوز کو مجموعی طور پر 4.8 ارب سے زیادہ ویوز ملے۔ یہ صرف 2024 کی تصویر تھی۔ ستمبر 2026 تک نمایاں سیاسی اور صحافتی یوٹیوب چینلز کے مجموعی ویوز میں ہونے والا اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل سیاسی ابلاغ اب ایک مسلسل بڑھتی ہوئی صنعت بن چکا ہے۔
تازہ دستیاب اعداد میں عمران ریاض خان کا چینل تقریباً 2.54 ارب ویوز کے ساتھ سب سے بڑے چینلز میں شامل ہے، جبکہ صابر شاکر اور منصور علی خان کے چینلز تقریباً 1.36، 1.36 ارب ویوز تک پہنچ چکے ہیں۔ عمران ریاض خان کے چینل پر تقریباً 64 لاکھ سبسکرائبرز اور منصور علی خان کے چینل پر تقریباً 32 لاکھ سبسکرائبرز بھی موجود ہیں۔
مخدوم شہاب الدین کا چینل تقریباً 87 کروڑ، اسامہ غازی تقریباً 58 کروڑ، صدیق جان تقریباً 41.6 کروڑ، وقار ملک تقریباً 39.1 کروڑ اور عبدالقادر تقریباً 36.9 کروڑ ویوز تک پہنچ چکے ہیں۔ اسامہ غازی کے چینل کے تازہ دستیاب اعداد تقریباً 58 کروڑ ویوز اور 13 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز دکھاتے ہیں۔
اسی ڈیجیٹل منظرنامے میں تقریباً 27 نمایاں ناموں کے موجودہ یا حالیہ دستیاب مجموعی ویوز کا اندازہ یوں بنتا ہے کہ عمران ریاض خان تقریباً 2.54 ارب، صابر شاکر تقریباً 1.36 ارب، منصور علی خان تقریباً 1.36 ارب، مخدوم شہاب الدین تقریباً 87 کروڑ، اسامہ غازی تقریباً 58 کروڑ، صدیق جان تقریباً 41.6 کروڑ، وقار ملک تقریباً 39.1 کروڑ، عبدالقادر تقریباً 36.9 کروڑ، صبیح کاظمی تقریباً 35 سے 36 کروڑ، سمیع ابراہیم تقریباً 35 کروڑ، ڈاکٹر معید پیرزادہ تقریباً 22.9 کروڑ، فیاض راجہ تقریباً 21.7 کروڑ، رانا عظیم تقریباً 20.5 کروڑ، اوریا مقبول جان تقریباً 18.8 کروڑ، ارشاد بھٹی تقریباً 23.3 کروڑ، ساجد گوندل تقریباً 16.5 کروڑ، وجاہت سعید خان تقریباً 11.5 کروڑ، حیدر مہدی تقریباً 11 کروڑ، ہارون الرشید تقریباً 9.8 کروڑ، جمیل فاروقی تقریباً 9.3 کروڑ، اسد طور تقریباً 8.1 کروڑ، عمر دراز تقریباً 7 کروڑ سے اوپر، احمد نورانی تقریباً 2 کروڑ، جبکہ شہزاد اکبر اور عادل راجہ کے موجودہ فعال چینلز کے اعداد الگ چینل شناخت اور حالیہ بحالی کی وجہ سے اس پیمانے پر قابلِ تقابل نہیں ہیں۔
یہ اعداد ایک ہی دن کے ناظرین نہیں بلکہ متعلقہ چینلز کے مجموعی ویوز ہیں، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یوٹیوب کے اعداد مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن اعداد کی اصل اہمیت کسی ایک چینل کو بڑا یا چھوٹا ثابت کرنا نہیں بلکہ اس ڈیجیٹل میدان کا حجم دکھانا ہے۔ ایک طرف اربوں ویوز والے چینلز ہیں اور دوسری طرف کروڑوں ویوز رکھنے والے درجنوں سیاسی چینلز۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ سیاسی مواد کے لیے ناظرین کی ایک بڑی اور مستقل منڈی موجود ہے۔
یہیں سے اصل جنگ شروع ہوتی ہے، ویوز کی جنگ۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ناظرین کی توجہ حاصل کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ جتنی زیادہ توجہ، اتنے زیادہ ویوز؛ جتنے زیادہ ویوز، اتنے زیادہ سبسکرائبرز اور اتنا زیادہ ڈیجیٹل اثر؛ اور جہاں مواد اشتہارات یا دوسرے آمدنی کے ذرائع سے منسلک ہو وہاں زیادہ توجہ کا مطلب زیادہ ممکنہ آمدن ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل سیاسی ابلاغ میں خبر صرف خبر نہیں رہتی، وہ ایک ایسی مصنوعات بن جاتی ہے جسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔
اس کاروباری ماڈل میں سنسنی خیزی کی اپنی قیمت ہے۔ ایک سادہ عنوان کے مقابلے میں ’’بڑی خبر‘‘، ’’اہم انکشاف‘‘، ’’خفیہ فیصلہ‘‘، ’’ابھی ابھی‘‘، ’’گرفتاری یقینی‘‘، ’’رہائی کا فیصلہ‘‘، ’’حکومت ختم‘‘، ’’اہم شخصیت کا بڑا قدم‘‘ یا ’’اندر کی خبر‘‘ جیسا عنوان زیادہ توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ ہر سنسنی خیز عنوان جھوٹ نہیں ہوتا، لیکن ویوز کی دوڑ میں سنسنی خیزی ایک مؤثر حربہ ضرور بن چکی ہے۔
یہاں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عنوان خبر سے آگے نکل جائے، امکان کو فیصلہ بنا دیا جائے، قیاس کو اطلاع کے طور پر پیش کیا جائے اور غیرمصدقہ دعوے کو ایسی زبان میں نشر کیا جائے جس سے ناظر اسے حتمی حقیقت سمجھ لے۔
ایک ویڈیو کے لیے لاکھوں ویوز حاصل کرنا کامیابی سمجھا جا سکتا ہے، لیکن صحافت میں ویوز اور صداقت دو مختلف پیمانے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی ڈیجیٹل منظرنامے میں یہ مسئلہ عمران خان کے نام کے ساتھ غیر معمولی شدت اختیار کرتا ہے۔ 2024 کے ڈیٹا میں عمران ریاض خان کا چینل پانچ کروڑ نہیں بلکہ 50 کروڑ سے زیادہ سالانہ ویوز کے ساتھ سب سے نمایاں چینل تھا، جبکہ اسی رپورٹ میں تحریک انصاف کے بیانیے سے وابستہ وی لاگز کے مجموعی ویوز کو سیاسی وی لاگنگ کے 80 فیصد سے زیادہ حصے سے جوڑا گیا تھا۔ موجودہ اعدادوشمار میں عمران ریاض خان کا چینل تقریباً 2.54 ارب مجموعی ویوز تک پہنچ چکا ہے۔
یہاں ’’عمران خان‘‘ صرف ایک سیاسی نام نہیں رہا بلکہ ایک غیر معمولی ڈیجیٹل توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری، رہائی، عدالتوں میں مقدمات، جیل کی صورتحال، حکومت کے ساتھ ممکنہ مذاکرات، سیاسی مستقبل، تحریک انصاف کی حکمت عملی، ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات اور ان سے منسوب مبینہ پیغامات ایسی موضوعاتی سرخیاں ہیں جو بڑے پیمانے پر ناظرین کو متوجہ کرتی ہیں۔
لیکن ان موضوعات میں ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ عمران خان سے متعلق عدالتی پیشی، عدالت کی کارروائی، عدالتی حکم یا کسی سرکاری طور پر دستاویزی واقعے کو مصدقہ خبر کے طور پر رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس رہائی کی یقینی تاریخ، خفیہ فیصلے، اندرونی مذاکرات، مبینہ پیغامات، سیاسی مستقبل سے متعلق قطعی دعوے یا ’’ذرائع‘‘ سے منسوب ایسی اطلاعات جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہ ہو، ان کی حیثیت الگ ہے۔ انہیں خبر کے طور پر پیش کرنے سے پہلے تصدیق ضروری ہے۔ مسئلہ صرف غیرمصدقہ دعوے کا نہیں بلکہ اس کے گرد بننے والے ایسے تجزیے کا بھی ہے جو پہلے ہی کسی ایک نتیجے کو حقیقت سمجھ کر آگے بڑھتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان کے نام سے منسلک ہر نئی اطلاع کے گرد ایک فوری ڈیجیٹل منڈی بن جاتی ہے۔
افواہ کی سب سے بڑی طاقت اس کی رفتار ہے۔ ایک غیرمصدقہ اطلاع چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی تردید شاید اتنے لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔ پہلی اطلاع ذہن میں بیٹھ جاتی ہے، بعد کی تصحیح اس کے اثر کو پوری طرح ختم نہیں کر پاتی۔ ڈیجیٹل میڈیا میں یہ مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ ایک ہی دعویٰ متعدد چینلز، صفحات اور سماجی رابطوں کے ذریعے بار بار گردش کرتا ہے اور تکرار خود اسے بظاہر معتبر بنا دیتی ہے۔
جانبدار تجزیہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ سیاسی تجزیہ اپنی جگہ ایک جائز صحافتی صنف ہے، لیکن جب تجزیہ کار اپنی سیاسی پسند یا ناپسند کو خبر کے انداز میں پیش کرنے لگے، مخالف فریق کے دعوے کو جگہ نہ دے، اپنے مفروضے کو حتمی حقیقت بنا دے یا ایسے ذرائع کا حوالہ دے جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہ ہو تو تجزیہ اطلاع کے بجائے سیاسی مہم کا کردار اختیار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر عدالتی کارروائی کے معاملے میں اصل خبر عدالت میں ہونے والی کارروائی اور اس کے بعد اس کارروائی کی تعبیر دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک ہی عدالتی کارروائی کو مختلف چینلز اپنے اپنے سیاسی زاویے سے پیش کر سکتے ہیں، اور یہی فرق ناظر کے سامنے خبر اور رائے کی سرحد کو دھندلا دیتا ہے۔
سب سے حساس معاملہ قومی سلامتی سے متعلق مواد کا ہے۔ سیاست سے متعلق غیرمصدقہ دعویٰ سیاسی نقصان پیدا کر سکتا ہے، لیکن فوج، خفیہ اداروں، جنگ، دہشت گردی، سرحدی صورتحال، حساس تنصیبات یا ریاستی اداروں کے اندرونی معاملات سے متعلق غیرمصدقہ اطلاع کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں صرف ویوز بڑھانے کے لیے ’’ذرائع‘‘ کے نام پر ناقابلِ تصدیق دعوے نشر کرنا عوام کو معلومات دینے کے بجائے قومی حساسیت کو ڈیجیٹل منڈی کا حصہ بناتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیجیٹل میڈیا کی طاقت ذمہ داری میں تبدیل ہوتی ہے۔ ایک یوٹیوبر کے پاس اب وہ رسائی موجود ہے جو کبھی صرف بڑے میڈیا اداروں کے پاس ہوتی تھی۔ لیکن ادارہ جاتی طاقت کے بغیر حاصل ہونے والی یہ آزادی بھی معلومات کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتی۔
اس پورے منظرنامے میں کسی ایک یوٹیوبر کو جھوٹا کہنا بنیادی مسئلے کا حل نہیں۔ 27 نمایاں ناموں کی فہرست میں مختلف سیاسی رجحانات، مختلف صحافتی پس منظر اور مختلف نوعیت کے چینلز شامل ہیں۔ ان میں سے ہر شخص کے ہر دعوے کو الگ الگ جانچنا ہوگا۔ مسئلہ فرد نہیں بلکہ وہ ماحول ہے جس میں ویوز کاروباری قدر، سیاسی اثرورسوخ اور سماجی طاقت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا کی توسیع ایک حقیقت ہے، اور اس کے فوائد بھی واضح ہیں۔ اس نے روایتی میڈیا کی اجارہ داری کم کی، نئے لوگوں کو آواز دی، عام شہری کو سیاسی بحث میں شریک کیا اور معلومات کی ترسیل کو غیر معمولی رفتار دی۔ لیکن اسی نظام نے خبر اور افواہ، تحقیق اور قیاس، تجزیے اور پروپیگنڈے، مقبولیت اور سچائی کے درمیان فرق کو زیادہ اہم بنا دیا ہے۔
آج اصل سوال یہ نہیں کہ کس یوٹیوبر کے کتنے سبسکرائبرز ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنے کروڑوں ناظرین کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ کیا وہ خبر کی تصدیق کرتا ہے؟ کیا ماخذ بتاتا ہے؟ کیا دوسرے فریق کا مؤقف لیتا ہے؟ کیا غیرمصدقہ اطلاع کو غیرمصدقہ کہتا ہے؟ کیا غلط خبر پر اسی شدت سے تصحیح نشر کرتا ہے جس شدت سے خبر نشر کی تھی؟ اور کیا قومی سلامتی سے متعلق دعوے کو ویوز کی جنگ سے الگ رکھتا ہے؟
ڈیجیٹل دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز ہمیشہ سچ نہیں ہوتی۔ کبھی خبر بکتی ہے، کبھی تجزیہ، کبھی افواہ اور کبھی محض وہ بات جو ناظر سننا چاہتا ہے۔
اور جب ویوز ہی کامیابی، اثرورسوخ اور ممکنہ کمائی کا بنیادی پیمانہ بن جائیں تو سنسنی خیزی کی قیمت بڑھ جاتی ہے، افواہ کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور غیرمصدقہ دعوے کے لیے بازار وسیع ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل سیاسی میڈیا اب ایک معمولی سرگرمی نہیں رہا۔ کروڑوں اور اربوں ویوز رکھنے والے چینلز اس کی قوت کا ثبوت ہیں۔ اسی لیے اب ڈیجیٹل صحافت کو بھی خبر کی بنیادی شرط کا سامنا ہے۔ ویوز کتنے ہیں، یہ بعد کا سوال ہے؛ دعویٰ کتنا سچا ہے، اصل سوال یہ ہے۔
واپس کریں