پریس کانفرنس: دھمکی یا قانون کی وضاحت؟ کوہاٹ کے شہدا کے بعد اسلام آباد کا سوال

رپورٹ خالد خان ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی کی آج کی پریس کانفرنس نے 27 ستمبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ کے معاملے کو ایک نئے اور غیر معمولی تناظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان کا لہجہ سخت تھا، الفاظ دوٹوک تھے اور پیغام میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد دارالحکومت کی طرف ایسا مارچ نہیں ہونے دیا جائے گا جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات دے دی گئی ہیں کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، اور اگر پولیس پر فائرنگ یا حملہ کیا گیا تو پولیس خاموش نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے سیاسی قیادت سے یہ بھی کہا کہ احتجاج کرنا ہے تو اپنے علاقے اور اپنے شہر میں کریں، اسلام آباد کو بند کرنے یا کسی دوسرے صوبے میں جا کر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
بظاہر یہ ایک سخت حکومتی انتباہ ہے، لیکن اسے صرف دھمکی قرار دینا اس پریس کانفرنس کے قانونی اور سکیورٹی پس منظر کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ محسن نقوی دراصل یہ بتا رہے تھے کہ ایک عدالتی فیصلہ آچکا ہے، ریاستی اداروں کو اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اگر احتجاج اس فیصلے کی حدود سے باہر جاتا ہے تو حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ یہ الگ بحث ضرور ہے کہ پولیس اس قانون کو کس طریقے، کس حد تک اور کس تناسب سے نافذ کرتی ہے، لیکن عدالتی حکم پر عمل درآمد ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے آج جاری ہونے والے 37 صفحات کے تفصیلی فیصلے نے معاملے کی قانونی بنیاد بھی واضح کردی ہے۔ عدالت نے سیاسی جماعتوں کے پرامن اجتماع اور اختلاف رائے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ حق آئین اور قانون کے تابع ہے اور دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق کسی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا سرکاری عہدہ رکھنے والے شخص کو اسلام آباد کی طرف آنے والی شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا دوسری عوامی جگہوں پر قبضہ کرکے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم، علاج اور دوسری بنیادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ احتجاج کا حق اور دارالحکومت کو مفلوج کرنے کا حق ایک چیز نہیں ہیں۔ جمہوری معاشرے میں حکومت کے خلاف احتجاج، اختلاف رائے اور سیاسی اجتماع بنیادی سیاسی حقوق کا حصہ ہیں، لیکن یہ حقوق دوسرے شہریوں کے حقوق کو ختم نہیں کرسکتے۔ عدالت نے اسی توازن کو اپنے فیصلے کا مرکز بنایا ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی مارچ یا جلوس کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری، وسائل یا سرکاری اہلکار استعمال نہ ہوں اور کسی سرکاری ملازم کو سیاسی مارچ میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی عوامی عہدے دار کی ایسی سرگرمی جس کے نتیجے میں شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں، آئینی اور قانونی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔
اس پس منظر میں محسن نقوی کی پریس کانفرنس کا پہلا حصہ دراصل عدالتی فیصلے کی حکومتی تشریح اور اس پر عمل درآمد کا اعلان ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کو اپنی مرضی سے سزا دینے کا اعلان۔
دوسرا حصہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ اگر پولیس پر فائرنگ کی گئی تو پولیس خاموش نہیں بیٹھے گی۔ یہ جملہ سخت ضرور ہے، لیکن اس کے قانونی مفہوم کو دہشت گردی اور سیاسی احتجاج کے فرق کے ساتھ سمجھنا ہوگا۔ ایک پرامن احتجاج کرنے والا شہری اور پولیس پر فائرنگ کرنے والا مسلح شخص ایک ہی قانونی زمرے میں نہیں آسکتا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پرامن سیاسی اجتماع کو قانون کے مطابق سہولت دے، لیکن مسلح تشدد یا پولیس پر حملے کی صورت میں شہریوں اور اپنے اہلکاروں دونوں کا تحفظ کرے۔
یہی بات آج کے کوہاٹ سانحے نے انتہائی خونیں انداز میں ہمارے سامنے رکھ دی ہے۔
اولڈ پولیس لائنز، کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملے میں تازہ ترین دستیاب اعداد کے مطابق شہدا کی تعداد 21 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 75 افراد زخمی ہیں، جن میں 16 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور وہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ صدر مملکت اور وزیراعظم نے بھی اولڈ پولیس لائنز کے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ حملہ عام شہریوں کی کسی بھیڑ یا بازار میں نہیں بلکہ اولڈ پولیس لائنز کے احاطے میں واقع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ پولیس لائن اب بھی پولیس کے استعمال میں ہے، اس لیے وہاں پولیس اہلکاروں کی موجودگی فطری امر تھی اور شہدا اور زخمیوں میں پولیس اہلکاروں کی نمایاں تعداد اس حملے کے براہ راست سکیورٹی تناظر کو واضح کرتی ہے۔ شہدا میں ایس پی، ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر جیسے پولیس افسران کی موجودگی اس پہلو کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ حملے کی زد میں پولیس کے مختلف سطحوں کے اہلکار بھی آئے؛ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی افسر یا سپاہی کی جان کی قدر میں کوئی فرق ہے، بلکہ یہ حملے کے سکیورٹی تناظر اور پولیس کو لاحق خطرے کی نوعیت کو واضح کرتا ہے۔
یعنی جس روز وفاقی وزیر داخلہ یہ کہہ رہے تھے کہ اگر پولیس پر حملہ ہوگا تو پولیس خاموش نہیں بیٹھے گی، اسی روز خیبر پختونخوا میں پولیس کے اپنے احاطے میں پولیس اہلکار دہشت گرد حملے کا نشانہ بن رہے تھے۔ یہ محض ایک سیاسی اتفاق نہیں، بلکہ ریاست کو درپیش سکیورٹی حقیقت کی ایک انتہائی تلخ تصویر ہے۔
یہاں محسن نقوی کا تیسرا نکتہ سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، شہدا کے جنازے اٹھ رہے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو جمع کرکے احتجاج اور دھرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ احتجاج اپنے علاقوں اور شہروں تک محدود رکھا جائے اور وزیراعلیٰ و صوبائی کابینہ دہشت گردی کے خلاف اسی شدت سے کام کریں جس شدت سے مارچ کی تیاری کی جارہی ہے۔
اس بیان کا یہ حصہ سیاسی طور پر اختلاف کا موضوع بن سکتا ہے، لیکن اس میں اٹھایا گیا بنیادی سوال قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ جب کسی صوبے میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار مسلسل دہشت گردی کا سامنا کررہے ہوں تو اس صوبے کی سیاسی اور انتظامی قیادت کی اولین ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟
یہ سوال کسی ایک جماعت پر اعتراض نہیں سمجھنا چاہیے۔ لیکن چونکہ موجودہ مجوزہ مارچ کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں، اس لیے ان کی آئینی ذمہ داری بھی اسی تناظر میں زیر بحث آئے گی۔
سہیل آفریدی ایک سیاسی جماعت کے رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی ہیں۔ سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما کی حیثیت سے ان کا سیاسی مؤقف ایک معاملہ ہے، لیکن وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری پورے صوبے کے عوام، سرکاری اداروں، پولیس، امن و امان اور سرکاری وسائل سے متعلق ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں بھی یہی نکتہ سامنے آیا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے سرکاری وسائل، گاڑیوں، مشینری اور ملازمین کو سیاسی مارچ کے لیے استعمال نہیں کرسکتیں۔
یہاں کسی وزیراعلیٰ کو احتجاج کے حق سے محروم کرنے کی بات نہیں ہورہی۔ سوال صرف یہ ہے کہ سیاسی کردار اور آئینی منصب کے درمیان لکیر کہاں قائم ہوگی؟
اگر کوئی وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے سیاسی اجتماع میں شریک ہوتا ہے تو یہ سیاسی سرگرمی کا معاملہ ہے۔ لیکن اگر صوبائی حکومت کے وسائل، پولیس، سرکاری گاڑیاں یا سرکاری مشینری کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے تو پھر معاملہ سیاسی سرگرمی سے نکل کر آئینی اور قانونی ذمہ داری کا بن جاتا ہے۔ عدالت نے اسی فرق کو اپنے فیصلے میں نمایاں کیا ہے۔
اس پوری بحث میں وفاقی حکومت کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست احتجاج کرنے والوں کے خلاف اندھا دھند طاقت استعمال کرے۔ پرامن احتجاج اور تشدد میں فرق قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر لوگ قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرتے ہیں تو ان کے حق کا احترام ہونا چاہیے، اور اگر کوئی فرد یا گروہ پولیس، شہریوں یا سرکاری املاک پر حملہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی بھی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔
یہی وہ توازن ہے جو اس وقت پاکستان کے لیے سب سے ضروری ہے۔
ایک طرف کوہاٹ کے 21 شہدا ہیں، جن کے خاندان آج سوگ میں ہیں۔ دوسری طرف 75 زخمی ہیں، جن میں 16 کی حالت تشویشناک ہے اور جو ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تیسری طرف دہشت گردی کے خلاف صف اول میں کھڑی پولیس ہے۔ چوتھی طرف سیاسی اختلاف، احتجاج اور دارالحکومت تک مارچ کا معاملہ ہے۔ پانچویں طرف عدالت کا واضح حکم ہے۔
ان پانچوں حقیقتوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں۔
دہشت گردی کا جواب سیاسی انتقام نہیں ہوسکتا، اور سیاسی احتجاج کا جواب دہشت گردی کے انداز میں ریاستی طاقت نہیں ہوسکتا۔ دونوں معاملات کے لیے الگ قانونی راستہ موجود ہے۔
دہشت گرد کے لیے قانون کی گرفت ضروری ہے، سیاسی کارکن کے لیے آئینی حق ضروری ہے، عام شہری کے لیے آزادانہ نقل و حرکت ضروری ہے، پولیس اہلکار کے لیے جان کا تحفظ ضروری ہے اور حکومت کے لیے عدالتی حکم کی پابندی ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی کی پریس کانفرنس کو صرف ایک سخت سیاسی بیان کے طور پر پڑھنا شاید درست نہیں ہوگا۔ اس کے بعض جملے یقیناً سخت ہیں، لیکن اس کے بنیادی نکات عدالتی حکم، شہریوں کے تحفظ، پولیس کی حفاظت اور ریاستی ذمہ داری سے جڑے ہوئے ہیں اور انہیں محض دھمکی قرار دے کر ختم کردینا اصل قانونی بحث سے فرار ہوگا۔
اسی طرح سیاسی جماعت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج کرے، اپنے مطالبات پیش کرے اور عوام کو متحرک کرے۔ لیکن عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد احتجاج کی قانونی حدود مزید واضح ہوگئی ہیں۔ عدالت نے صاف کہا ہے کہ سیاسی اجتماع کا حق دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
اب اصل امتحان حکومت اور سیاسی قیادت دونوں کا ہے۔
حکومت کا امتحان یہ ہے کہ وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے قانون سے تجاوز نہ کرے۔ سیاسی قیادت کا امتحان یہ ہے کہ وہ احتجاج کرتے ہوئے آئینی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ وزیراعلیٰ کا امتحان یہ ہے کہ وہ سیاسی قیادت اور صوبے کے آئینی سربراہ کی ذمہ داریوں میں فرق برقرار رکھے۔ پولیس کا امتحان یہ ہے کہ وہ امن و امان قائم کرتے ہوئے قانون اور متناسب طاقت کے اصولوں کی پابندی کرے۔
اور عوام کا امتحان یہ ہے کہ وہ نعروں سے آگے بڑھ کر یہ دیکھیں کہ کس کا حق کہاں ختم ہوتا ہے اور دوسرے کا حق کہاں سے شروع ہوتا ہے۔
آج کوہاٹ کے شہدا ہم سے یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب دہشت گرد نماز پڑھتے ہوئے پولیس کے احاطے میں انسانوں کو قتل کرسکتے ہیں تو کیا ہماری سیاسی قیادت اپنے اختلافات کو ایسے طریقے سے نہیں چلا سکتی جس میں ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی پوری توجہ برقرار رکھ سکیں؟
اس سوال کا جواب کسی ایک جماعت، حکومت یا وزیر کے حق میں نہیں۔ یہ سوال پاکستان کے آئینی اور انسانی مفاد میں ہے۔
سیاسی اختلاف زندہ رہنا چاہیے، احتجاج کا حق بھی زندہ رہنا چاہیے، لیکن قانون، شہریوں کی آزادی اور انسانی جان ان دونوں سے زیادہ بنیادی ہیں۔
کوہاٹ کے 21 شہدا اور 75 زخمیوں کے بعد شاید ہمیں سیاست سے ایک لمحے کے لیے اوپر اٹھ کر یہی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ریاست کو اس وقت ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے سیاسی کیمپ نہیں، بلکہ دہشت گردی، قانون شکنی اور آئینی بے ترتیبی کے خلاف واضح قانونی نظم درکار ہے۔
واپس کریں