دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حکومت ہمیں پانی دے رہی ہے یا زہر؟ خالد خان
No image صبح سویرے جب پشاور، مردان، ایبٹ آباد، سوات یا خیبر پختونخوا کے کسی دوسرے شہر میں ایک شہری نل کھولتا ہے اور گلاس میں پانی بھرتا ہے تو اس کے لیے یہ صرف پانی ہوتا ہے۔ وہ اسے دیکھتا ہے، اگر شفاف ہو تو اطمینان کرتا ہے، گلاس ہونٹوں سے لگاتا ہے اور زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت پوری کر لیتا ہے۔ اسے شاید یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس گلاس تک پہنچنے والے پانی نے راستے میں کن کن مراحل سے گزرنا ہے، کہاں سے آیا ہے، کس مقام پر صاف کیا گیا، کتنی دیر تک ذخیرہ رہا، کن پائپوں سے گزرا اور آخرکار اس کے گھر تک پہنچنے سے پہلے کہیں آلودہ تو نہیں ہوگیا۔
پانی بظاہر دنیا کی سب سے سادہ چیز ہے، مگر حقیقت میں انسانی صحت کے لیے اس سے زیادہ پیچیدہ معاملہ شاید ہی کوئی ہو۔ شفاف پانی ضروری نہیں کہ محفوظ بھی ہو اور بدبودار یا گدلا پانی ہر مرتبہ کسی ایک مخصوص بیماری کی علامت بھی نہیں ہوتا۔ پانی میں موجود بعض خطرناک جراثیم اور کیمیائی مادے نہ دکھائی دیتے ہیں، نہ ان کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی موجودگی کا اندازہ عام آدمی صرف دیکھ کر لگا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محفوظ پانی کا فیصلہ آنکھ، ناک اور زبان نہیں بلکہ سائنسی جانچ کرتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں حکومت مختلف شہری اور دیہی علاقوں کو پانی فراہم کرتی ہے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس کی مکمل شدہ سکیموں سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں، مگر یہاں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پانی کی فراہمی اور محفوظ پانی کی فراہمی کیا ایک ہی چیز ہیں؟ اگر کسی علاقے میں نل سے پانی باقاعدگی سے آرہا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ پانی صحت کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے؟ جواب اتنا سادہ نہیں۔
پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کے قومی جائزوں نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ 2020 کے قومی مانیٹرنگ پروگرام میں خیبر پختونخوا کے مانیٹر کیے گئے نمونوں میں 57 فیصد کو غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ ان نمونوں میں مختلف مقامات پر جراثیمی آلودگی، گدلا پن، زیادہ نمکیات، سختی، لوہا، آرسینک، نائٹریٹ اور فلورائیڈ سمیت مختلف مسائل سامنے آئے تھے۔ یہ اعداد 2020 کی مانیٹرنگ سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں 2026 میں صوبے کے ہر شہر اور ہر واٹر سپلائی سکیم کی موجودہ کیفیت قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ پانی کے معیار کو محض سرکاری سپلائی کا نام دے کر محفوظ تصور نہیں کیا جا سکتا۔
پشاور، مردان، مینگورہ اور ایبٹ آباد جیسے بڑے شہری مراکز میں پانی کی کیفیت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں آبادی، تعمیرات، سیوریج، زیر زمین پانی کے استعمال اور پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف آبادی پھیل رہی ہے اور دوسری طرف پانی کے ذرائع پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ پانی کہاں سے حاصل کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اسے کس طرح صاف کیا جا رہا ہے اور صارف تک پہنچتے پہنچتے اس کی کیفیت کیا رہ جاتی ہے۔
پانی کا سب سے فوری خطرہ جراثیمی آلودگی ہے۔ اگر پانی انسانی یا حیوانی فضلے سے آلودہ ہو جائے تو اس میں ای کولی اور دوسرے جراثیم شامل ہوسکتے ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہو کر اسہال، الٹی، پیٹ کے انفیکشن اور دوسری بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعت رکھنے والے افراد کے لیے ایسا پانی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جراثیمی آلودگی ہمیشہ پانی کو بدصورت یا بدبودار نہیں بناتی۔ ممکن ہے ایک گلاس پانی بالکل شفاف ہو اور پھر بھی اس میں بیماری پیدا کرنے والے جراثیم موجود ہوں۔
اس کے بعد پانی کا کیمیائی پہلو آتا ہے، جو بسا اوقات جراثیمی آلودگی سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ آرسینک اس کی ایک مثال ہے۔ آرسینک نہ پانی کا رنگ بدلتا ہے، نہ لازماً اس کا ذائقہ، مگر طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں موجود ہو تو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ نائٹریٹ، فلورائیڈ، سیسہ اور دوسرے کیمیائی اجزا بھی اپنی اپنی مقدار اور مدت کے لحاظ سے صحت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کو صرف جراثیم سے پاک کر دینا کافی نہیں، اس کے کیمیائی معیار کو جانچنا بھی ضروری ہے۔
ہمارے ہاں پانی کے بارے میں ایک عام تصور ٹی ڈی ایس کے گرد گھومتا ہے۔ گھروں میں چھوٹے میٹر سے پانی کا ٹی ڈی ایس دیکھا جاتا ہے اور پھر فیصلہ کرلیا جاتا ہے کہ پانی اچھا ہے یا خراب۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی ڈی ایس پانی میں موجود حل شدہ نمکیات کی مجموعی مقدار کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ پانی کے بارے میں کچھ معلومات ضرور دیتا ہے، مگر صرف ٹی ڈی ایس سے پانی کو محفوظ یا غیر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کم ٹی ڈی ایس والا پانی بھی جراثیم سے آلودہ ہوسکتا ہے اور زیادہ ٹی ڈی ایس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ پانی زہریلا ہے۔ مکمل تصویر کے لیے جراثیمی اور کیمیائی دونوں جانچ ضروری ہیں۔
پانی کی صفائی میں کلورین ایک اہم حفاظتی ذریعہ ہے۔ کلورین جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے، مگر سوال صرف یہ نہیں کہ پانی میں کلورین ڈالی گئی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کتنی مقدار ڈالی گئی، صفائی کے بعد کتنی باقی رہی اور صارف کے نل تک پہنچنے کے وقت اس کی مقدار کیا تھی۔ اگر پانی کے نظام میں مناسب مقدار میں باقی کلورین موجود نہ ہو تو راستے میں دوبارہ جراثیمی آلودگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
یہاں پانی کے سفر کا سب سے کم زیر بحث مگر انتہائی اہم مرحلہ سامنے آتا ہے، یعنی پائپ لائن۔
فرض کریں پانی کا منبع صاف ہے، اسے باقاعدہ فلٹر کیا گیا، کلورین بھی ڈالی گئی اور لیبارٹری میں نمونہ محفوظ بھی نکلا۔ لیکن اگر آگے چل کر پانی کی پائپ لائن ٹوٹی ہوئی ہو، کہیں سے لیکیج ہو، سیوریج لائن قریب سے گزر رہی ہو، پانی کے دباؤ میں کمی آتی ہو یا غیر قانونی کنکشن موجود ہوں تو صاف کیا ہوا پانی صارف تک پہنچنے سے پہلے دوبارہ آلودہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے پانی کی حفاظت صرف ٹریٹمنٹ پلانٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کا مسئلہ ہے۔
اسی طرح گھروں کے پانی کے ٹینک بھی اس زنجیر کا حصہ ہیں۔ اگر ٹینک برسوں سے صاف نہ کیا گیا ہو، اس کا ڈھکن درست نہ ہو، گرد و غبار، کیڑے مکوڑے یا دوسری آلودگی اس میں داخل ہو رہی ہو تو گھر کے نل تک پہنچنے والا پانی سرکاری نظام سے آنے کے باوجود آلودہ ہوسکتا ہے۔ اس مقام پر حکومت کی ذمہ داری اور شہری کی ذمہ داری دونوں الگ الگ مگر اہم ہوجاتی ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ پانی کو ابالنے کے بارے میں عام تاثر کو درست سمجھا جائے۔ مناسب طریقے سے پانی ابالنا بہت سے بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے خلاف مؤثر حفاظتی قدم ہے، لیکن ابالنے سے آرسینک، فلورائیڈ، نائٹریٹ اور پانی میں موجود دوسرے تحلیل شدہ کیمیائی مادے ختم نہیں ہوتے۔ اس لیے اگر مسئلہ جراثیمی آلودگی ہے تو ابالنا مفید ہوسکتا ہے، مگر اگر مسئلہ کیمیائی آلودگی ہے تو اس کے لیے مختلف طریقہ علاج اور صاف کرنے کا نظام درکار ہوگا۔
اسی طرح گھر میں فلٹر لگا لینا بھی مکمل ضمانت نہیں۔ ہر فلٹر ہر قسم کی آلودگی ختم نہیں کرتا۔ بعض فلٹر گدلا پن اور ذرات کم کرتے ہیں، بعض جراثیم کے خلاف کام کرتے ہیں اور بعض کیمیائی مادوں کو کم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس لیے پانی کے مسئلے کو جانے بغیر صرف فلٹر خرید لینا ایسا ہی ہے جیسے بیماری جانے بغیر دوا خرید لینا۔
بوتل بند پانی بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ بوتل پر صاف پانی لکھا ہونا اپنی جگہ، مگر اصل سوال معیار اور نگرانی کا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز بوتل بند پانی کے مختلف برانڈز کی بھی نگرانی کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ پانی خواہ سرکاری نل سے آرہا ہو یا بازار کی بوتل میں بند ہو، اس کی حفاظت کا فیصلہ دعوے سے نہیں بلکہ معیار کی جانچ سے ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا جیسے صوبے میں جہاں ایک طرف پہاڑی چشمے، دریا اور زیر زمین پانی کے ذخائر موجود ہیں اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، سیوریج، صنعتی سرگرمیاں، زرعی آلودگی اور موسمی سیلاب جیسے مسائل بھی موجود ہیں، پانی کو محض ایک شہری سہولت سمجھنا کافی نہیں۔ یہ براہ راست صحت، معیشت اور انسانی زندگی کا مسئلہ ہے۔
یہاں حکومت سے ایک بنیادی سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے۔ پشاور، مردان، ایبٹ آباد، سوات اور دوسرے بڑے شہروں میں جو پانی عوام کو پینے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے، اس کی آخری جامع جانچ کب ہوئی؟ نمونے صرف پانی کے منبع سے لیے گئے یا شہری کے نل سے بھی؟ کتنے نمونوں میں ای کولی موجود تھا؟ آرسینک، فلورائیڈ، نائٹریٹ اور سیسے کی مقدار کیا تھی؟ کلورین کی باقی مقدار کتنی تھی؟ پائپ لائنوں کی حالت کیا ہے؟ پانی کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک کتنی مرتبہ صاف کیے جاتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کسی علاقے کا پانی معیار پر پورا نہیں اترتا تو عوام کو اس بارے میں کب اور کیسے آگاہ کیا جاتا ہے؟
یہ سوال کسی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری کے حق میں ہیں، کیونکہ صاف پانی فراہم کرنا صرف نل تک پانی پہنچانا نہیں بلکہ شہری کو بیماری سے بچانے کی ذمہ داری بھی ہے۔
دنیا میں پانی کے معیار کا جدید تصور بھی یہی ہے کہ پانی کو صرف اس مقام پر نہیں پرکھا جائے جہاں سے وہ حاصل کیا جاتا ہے بلکہ منبع سے لے کر صارف کے گلاس تک پورے سفر کو محفوظ بنایا جائے۔ اگر درمیان میں ایک کڑی بھی کمزور ہے تو پورا نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑے شہروں کی ہر واٹر سپلائی سکیم کا باقاعدہ اور آزادانہ معیار جانچا جائے، نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں اور پانی کے معیار کی نگرانی کو معمول کی انتظامی کارروائی کے بجائے صحت عامہ کا مستقل نظام بنایا جائے۔ پشاور کا شہری جاننا چاہتا ہے کہ اس کے نل کا پانی کیسا ہے، مردان کا شہری بھی یہی حق رکھتا ہے، ایبٹ آباد، سوات اور صوبے کے ہر چھوٹے بڑے شہر کا شہری بھی۔
کیونکہ آخرکار مسئلہ صرف پانی کا نہیں، اس گلاس کا ہے جو ایک ماں اپنے بچے کے ہاتھ میں دیتی ہے، اس پانی کا ہے جو ایک بیمار شخص دوا کے ساتھ پیتا ہے، اس پانی کا ہے جو ایک مزدور دن بھر کی مشقت کے بعد حلق سے اتارتا ہے اور اس یقین کا ہے کہ ریاست کی طرف سے فراہم کی جانے والی بنیادی ضرورت اس کی صحت کے لیے خطرہ نہیں بنے گی۔
صاف پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن محفوظ پانی ریاستی ذمہ داری ہے۔ اور دونوں کے درمیان جو فرق ہے، اسے صرف لیبارٹری کی رپورٹ ختم کرسکتی ہے، سرکاری دعویٰ نہیں۔
واپس کریں