نجیب الغفور خان
ہر سال 21 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ امن منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانیت کو اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جنگ، تشدد، نفرت اور تنازعات کا خاتمہ اور امن، برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کا فروغ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عالمی یومِ امن محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک، اداروں اور عوام کو یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ حقیقی اور پائیدار امن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے اور ان عوامل کا خاتمہ کیسے ممکن ہے جو معاشروں کو جنگ اور بدامنی کی طرف لے جاتے ہیں۔
عالمی یومِ امن کا باقاعدہ آغاز بھی اسی سوچ کے تحت ہوا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 30 نومبر 1981 کو قرارداد 36/67 کے ذریعے ستمبر کے تیسرے منگل کو عالمی یومِ امن قرار دیا، جس کا مقصد اقوام اور عوام کے درمیان امن کے تصورات کو مضبوط بنانا تھا۔ پہلا عالمی یومِ امن ستمبر 1982 میں منایا گیا۔ بعد ازاں 7 ستمبر 2001 کو قرارداد 55/282 کے ذریعے جنرل اسمبلی نے 21 ستمبر کو عالمی یومِ امن کے لیے مستقل تاریخ مقرر کی اور اسے عالمی جنگ بندی اور عدم تشدد کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ 2002 سے نافذ ہوا اور تب سے ہر سال 21 ستمبر کو دنیا بھر میں یہ دن منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے نزدیک اس دن کا مقصد صرف امن کے حق میں بیانات دینا نہیں بلکہ تنازعات کو کم کرنے، تشدد کے خاتمے، جنگ بندی کی حوصلہ افزائی، مکالمے کو فروغ دینے اور عوام میں امن کی اہمیت کے بارے میں شعور پیدا کرنا بھی ہے۔
لیکن عالمی یومِ امن کے موقع پر یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا دنیا میں انصاف، انسانی حقوق اور دیرینہ تنازعات کے منصفانہ حل کے بغیر امن کا تصور مکمل ہو سکتا ہے؟ اگر امن انسان کا بنیادی حق ہے تو پھر ان خطوں اور عوام کو بھی اس حق کا یکساں مستحق سمجھنا ہوگا جو دہائیوں سے تنازعات اور کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
دنیا کے دیرینہ حل طلب تنازعات میں جموں و کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ریکارڈ میں جموں و کشمیر کے مسئلے سے متعلق متعدد قراردادیں اور فیصلے موجود ہیں۔ ان قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں نے اس تنازع کو عالمی سطح پر ایک باقاعدہ مسئلے کے طور پر تسلیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی لیے کشمیر کے مسئلے کا پائیدار حل صرف طاقت کے استعمال یا وقتی خاموشی سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، انسانی حقوق کے احترام اور جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک منصفانہ اور قابلِ قبول سیاسی عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی یومِ امن اور جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ امن انصاف، انسانی وقار، بنیادی حقوق اور مستقبل کے بارے میں تحفظ کے احساس کا نام ہے۔ اگر کسی خطے میں لوگ اپنے بنیادی حقوق، سیاسی آزادیوں، اظہارِ رائے اور اپنے مستقبل کے حوالے سے مسلسل بے یقینی کا سامنا کر رہے ہوں تو وہاں صرف خاموشی کو پائیدار امن قرار دینا مشکل ہے۔
5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا گیا جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی جس کے بعد مواصلاتی پابندیوں، گرفتاریوں، سیاسی سرگرمیوں پر قدغنوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش سامنے آئی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اس عرصے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، پرامن اجتماع، حراست اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق متعدد خدشات کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال، شہریوں کی ہلاکتوں، حراست، تشدد، پیلٹ گنز کے استعمال، آزادیِ اظہار اور احتساب کے مسائل سمیت متعدد معاملات پر توجہ دلائی گئی۔ ان رپورٹس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزاد، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
انہی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا اندازہ اعداد و شمار کی روشنی میں باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں جنوری 1989ء سے اب تک 96,502 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، جن میں سے 7,421 کو دورانِ حراست وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ صرف 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے بعد سے لے کر اب تک 1,068 سے زائد کشمیری شہید اور 37,813 شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ ایجنسیوں (این آئی اے، سی آئی کے، ایس آئی اے) نے اس عرصے کے دوران نوجوانوں، طلباء اور خواتین سمیت ہزاروں بے گناہ شہریوں کو گرفتار کیا، جن میں سے متعدد کے خلاف "پبلک سیفٹی ایکٹ" (PSA) اور "یواے پی اے" (UAPA) جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے اس وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں سینکڑوں شہری شدید زخمی بھی ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت مانگنے کی پاداش میں جس ظلم و جبر اور بدترین خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کا سوال محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں۔ اس کے پیچھے وہ خاندان ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، وہ نوجوان ہیں جو گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کرتے رہے، وہ صحافی ہیں جنہیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات پیش آئیں اور وہ عام شہری ہیں جو طویل عرصے تک کشیدگی اور غیر یقینی کے ماحول میں زندگی گزارتے رہے۔ کسی بھی تنازع میں عام شہریوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور یہی اصول عالمی یومِ امن کی روح سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں امن کی خواہش کا مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا پیدائشی اور بنیادی حق، حق خودارادیت دیا جائے۔
آج جب دنیا عالمی یومِ امن منا رہی ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کا سوال عالمی برادری کے سامنے ایک اہم یاد دہانی کے طور پر موجود ہے کہ امن کے اصول آفاقی ہونے چاہئیں۔ اگر عالمی ادارے جنگ بندی، عدم تشدد، انسانی حقوق اور مکالمے کو امن کی بنیاد قرار دیتے ہیں تو ان اصولوں کا اطلاق دنیا کے ہر تنازع اور ہر متاثرہ انسان پر یکساں ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے عالمی یومِ امن کی اہمیت بعض اوقات تقاریب، سیمینارز، بیانات اور علامتی سرگرمیوں تک محدود ہو جاتی ہے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات کے بنیادی اسباب اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ امن کو محض ایک دن منانے کے بجائے اسے ایک مسلسل عالمی عہد بنانا ہوگا۔ اس عہد کا تقاضا ہے کہ جہاں جنگ ہے وہاں جنگ بندی کے لیے کوشش کی جائے، جہاں انسانی حقوق پامال ہونے کے الزامات ہیں وہاں آزادانہ تحقیقات ہوں، جہاں سیاسی تنازع موجود ہے وہاں مکالمے کے دروازے کھولے جائیں اور جہاں عوام اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں وہاں ان کی آواز کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں پائیدار امن بھی اسی وسیع تصورِ امن کا حصہ ہے۔ کشمیر میں امن صرف خاموش سڑکوں، فوجی موجودگی یا طاقت کے زور سے آوازوں کو دبانے سے حاصل نہیں ہوگا، اس کے لیے انسانی حقوق، انصاف، سیاسی مکالمے اور حق خودارادیت کے منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو بھی اپنی ذمہ داری صرف امن کے دن کی تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے دنیا کے دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے عملی اور مسلسل کردار ادا کرنا ہوگا۔
21 ستمبر ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ دنیا کو جنگ سے امن کی طرف بڑھنا ہے، یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ امن اور انصاف ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جب تک تنازعات کے بنیادی اسباب حل نہیں ہوتے، انسانی حقوق محفوظ نہیں ہوتے اور متاثرہ عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں باوقار اور پرامن سیاسی راستہ نہیں ملتا، عالمی امن کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اسی عالمی ضمیر کا ایک امتحان ہے۔ عالمی یومِ امن کی اصل کامیابی تب ہوگی جب امن صرف تقریروں میں نہیں بلکہ ان خطوں میں بھی محسوس ہو جہاں نسلوں سے اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔
واپس کریں