دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کے بعد تقریباً 1400 زلزلے
No image رپورٹ خالد خان ۔ شمالی کوریا کے زیرِ زمین ایٹمی تجربات کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں ایک نئی سائنسی تحقیق نے زمین کے اندر ہونے والی ایسی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے جو برسوں بعد بھی زلزلوں کا سبب بن سکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق شمالی کوریا کی ایٹمی تجربہ گاہ پونگئے ری کے نیچے واقع ماؤنٹ مانتاپ کے علاقے میں 2008 سے 2025 تک مجموعی طور پر 1,399 زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2017 کے آخری اور سب سے طاقتور ایٹمی تجربے کے بعد ان زلزلوں کی تعداد اور شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہ تحقیق امریکی سائنسی جریدے سائنس میں 17 ستمبر 2026 کو شائع ہوئی۔ جنوبی کوریا کی پُسان نیشنل یونیورسٹی اور چینی اداروں سے وابستہ محققین نے جنوبی کوریا اور شمال مشرقی چین میں نصب زلزلہ پیما مراکز سے حاصل ہونے والے 17 سال کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا۔ ان مراکز میں بعض ایسے مقامات بھی شامل تھے جو پونگئے ری سے تقریباً 80 سے 200 کلومیٹر دور واقع ہیں۔
شمالی کوریا نے پونگئے ری ایٹمی تجربہ گاہ میں 2006 سے 2017 کے درمیان چھ زیرِ زمین ایٹمی تجربات کیے۔ آخری تجربہ 3 ستمبر 2017 کو کیا گیا اور یہ سابقہ تمام تجربات کے مقابلے میں سب سے طاقتور تھا۔ اس دھماکے سے پیدا ہونے والی زمین کی لرزش کی شدت تقریباً 6.3 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی طاقت کا اندازہ 100 سے 250 کلوٹن تک لگایا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد ماؤنٹ مانتاپ کی چوٹی اور اردگرد کی زمین میں نمایاں تبدیلیاں بھی ریکارڈ کی گئیں۔
تحقیق کا سب سے اہم انکشاف یہ ہے کہ 2017 کے دھماکے کے بعد زلزلوں کی سرگرمی فوراً ختم نہیں ہوئی۔ تقریباً تین ہفتے بعد علاقے میں زلزلوں کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا اور پھر یہ سرگرمی کئی برس تک جاری رہی۔ 2008 سے 2025 تک شناخت کیے گئے 1,399 زلزلوں میں سے تقریباً 1,330 واقعات 2017 کے آخری ایٹمی تجربے کے بعد ریکارڈ ہوئے۔ ان زلزلوں میں وقت کے ساتھ شدت بھی بڑھتی گئی اور 2023 اور 2024 میں بعض واقعات کی شدت تین سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق ان زلزلوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد زمین کی سطح کے قریب واقع ہوئی۔ زلزلوں کے مقامات کے تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ بیشتر واقعات دو ایسی دراڑوں کے ساتھ ہوئے جو تقریباً شمال مغرب سے جنوب مشرق کی سمت پھیلی ہوئی ہیں۔ تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان دونوں دراڑوں کا مجموعی نظام تقریباً 24 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بار بار کیے جانے والے زیرِ زمین ایٹمی دھماکوں نے ماؤنٹ مانتاپ کے نیچے موجود چٹانوں کو بتدریج نقصان پہنچایا اور زمین کے اندر دباؤ کی کیفیت تبدیل کی۔ اس عمل سے پہلے سے موجود دراڑوں کے دوبارہ فعال ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔ یوں ایٹمی تجربات کے کئی برس بعد بھی زمین کے اندر زلزلوں کا سلسلہ جاری رہا۔
تاہم اس تحقیق کے حوالے سے ایک اہم صحافتی احتیاط ضروری ہے۔ 1,399 زلزلوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک زلزلہ براہِ راست ایٹمی دھماکے سے پیدا ہوا تھا۔ تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ ایٹمی تجربات نے زمین کی اوپری پرت کو نقصان پہنچایا، زیرِ زمین دباؤ میں تبدیلی پیدا کی اور پہلے سے موجود دراڑوں کو دوبارہ حرکت میں آنے کے لیے سازگار حالات فراہم کیے۔ اس لیے ان زلزلوں کو ایٹمی تجربات سے پیدا ہونے والی بعد ازاں ظاہر ہونے والی زمینی سرگرمی کہنا زیادہ درست ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2006 میں ایٹمی تجربات شروع ہونے سے پہلے ماؤنٹ مانتاپ کے علاقے میں ایسی نمایاں زلزلہ خیزی کے شواہد موجود نہیں تھے۔ 2006 سے 2017 کے چھٹے تجربے تک تقریباً 60 زلزلے شناخت ہوئے، جبکہ آخری اور سب سے طاقتور تجربے کے بعد تقریباً 1,330 زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ اس فرق نے محققین کو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مدد دی کہ زیرِ زمین ایٹمی دھماکوں اور بعد کی زلزلہ خیزی کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔
اس تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ زیرِ زمین ایٹمی تجربات کے اثرات کو صرف دھماکے کے فوراً بعد پیدا ہونے والی زمین کی لرزش تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر دھماکوں سے زمین کے اندر موجود دراڑوں پر دباؤ اور چٹانوں کی ساخت تبدیل ہو جائے تو ان کے اثرات طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ماؤنٹ مانتاپ کا معاملہ اس حوالے سے ایک اہم سائنسی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
محققین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اس علاقے میں موجود تقریباً 24 کلومیٹر طویل دراڑوں کا نظام ایک ساتھ حرکت میں آ جائے تو نسبتاً بڑا زلزلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک محقق کے اندازے کے مطابق ایسی صورت میں زلزلے کی شدت تقریباً 6.4 تک پہنچ سکتی ہے، تاہم یہ ایک ممکنہ منظرنامہ ہے، پیش گوئی نہیں۔
پونگئے ری کی یہ تحقیق ایٹمی تجربات کے ایک ایسے اثر کی طرف توجہ دلاتی ہے جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا مگر زمین کے اندر برسوں تک موجود رہ سکتا ہے۔ شمالی کوریا نے 2017 کے بعد کوئی نیا ایٹمی تجربہ نہیں کیا، لیکن ماؤنٹ مانتاپ کے نیچے زلزلوں کا جاری رہنا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زیرِ زمین ایٹمی دھماکوں کے ارضیاتی اثرات دھماکے کے ساتھ ختم ہونا ضروری نہیں۔
واپس کریں