پی ٹی آئی: تبدیلی کے منشور سے بدحکمرانی تک، جھوٹ اور فریب کا تیرہ سالہ سفر

(پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کو اب تقریباً تیرہ برس ہونے کو ہیں۔ یہ تیرہ برس ایک ہی سیاسی جماعت کے مسلسل اقتدار کی سادہ کہانی نہیں، درمیان میں نگران حکومت، انتخابات اور سیاسی تبدیلیاں بھی آئیں، لیکن 2013 سے 2026 تک صوبائی حکمرانی کی سب سے نمایاں سیاسی ذمہ داری بہرحال پاکستان تحریک انصاف کے حصے میں رہی ہے۔ اس لیے اب یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہا کہ اس جماعت نے خیبر پختونخوا کو کیا دیا اور اس کے دعووں کے مقابلے میں صوبے کو کیا ملا۔
اس سوال کا جواب پی ٹی آئی کے مخالفین کے بیانات سے نہیں بلکہ خود پی ٹی آئی کے منشور سے شروع ہونا چاہیے، کیونکہ 2013 میں جب یہ جماعت پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو اس نے عوام کے سامنے محض حکومت چلانے کا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ تبدیلی کا ایک پورا تصور پیش کیا تھا۔ اس تصور میں اچھی حکمرانی، جواب دہ حکومت، بہتر سرکاری خدمات، تعلیم میں انقلاب، صحت کی سہولت، روزگار، میرٹ، پولیس اور ادارہ جاتی اصلاحات، بدعنوانی کا خاتمہ، شہری حقوق کا تحفظ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بنیادی وعدے تھے۔ خود صوبائی حکومت کی اصلاحاتی دستاویز میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کا تبدیلی کا ایجنڈا بدعنوانی، بدانتظامی، کمزور صلاحیت اور احتساب کے مسائل سے نمٹنے اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کرنے کے لیے تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تیرہ برس بعد حساب شروع ہوتا ہے۔
اگر کوئی حکومت اپنے پہلے دن یہ کہتی ہے کہ وہ اچھی حکمرانی قائم کرے گی تو تیرہ برس بعد اس کا امتحان کسی جلسے کے نعروں، سیاسی مقبولیت یا چند بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی سے ہوگا۔ اگر اس نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کا وعدہ کیا تھا تو دیکھا جائے گا کہ پولیس آج کتنی قانون کے تابع ہے۔ اگر تعلیم میں انقلاب کا وعدہ تھا تو تعلیمی بورڈوں کے نتائج، سرکاری سکولوں کی حالت، اساتذہ، طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت اور سکول چھوڑنے کی شرح دیکھی جائے گی۔ اگر صحت سب کے لیے قابل رسائی بنانے کا وعدہ تھا تو صحت کارڈ کی تشہیر سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ ایک مریض کو واقعی بروقت علاج ملا یا نہیں۔ اگر احتساب کا وعدہ تھا تو احتساب کے اداروں کی آزادی اور بڑے مقدمات کے نتائج دیکھے جائیں گے۔ اگر روزگار کا وعدہ تھا تو سرکاری تقریروں کے بجائے نئے معاشی مواقع اور نجی شعبے کی حالت دیکھی جائے گی۔
یہی تقابل اس پورے تجربے کی اصل کسوٹی ہے۔
یہاں 2018 کا ایک اہم آزاد تحقیقی جائزہ بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے جولائی 2018 میں ’’سیاسی جماعتیں کیا کہتی ہیں اور کیا کرتی ہیں: منشور اور کارکردگی‘‘ کے عنوان سے ایک مطالعہ شائع کیا۔ یہ رائے عامہ کا سروے نہیں تھا بلکہ 2013 کے انتخابات کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں بنانے والی تین بڑی سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی، کے منشوروں اور پانچ سالہ عملی کارکردگی کا تقابلی مطالعہ تھا۔ اس کی تحقیق حسن نبی دار نے کی۔ ادارے نے خود کو ایک آزاد اور غیر جماعتی تحقیقی ادارہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس کا مقصد 2013 سے 2018 تک حکومت بنانے والی جماعتوں کی کارکردگی کو ان کے منشوری وعدوں کے تقابل میں جانچنا تھا۔ محققین نے جہاں ممکن ہوا منشوری وعدوں کو قابلِ شمار نکات میں تقسیم کیا، پھر ہر وعدے کو تین خانوں، پیش رفت، درمیانی کارکردگی اور کمزور کارکردگی، میں رکھا۔ مطالعے میں سرکاری ذرائع سے دستیاب اعداد و شمار کو بنیادی ماخذ بنایا گیا۔
اس مطالعے کا دائرہ صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں تھا بلکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی مجموعی منشوری کارکردگی کا تقابلی جائزہ تھا۔ اس لیے اسے پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے بارے میں عوامی رائے کا سروے کہنا درست نہیں ہوگا۔ البتہ پی ٹی آئی کے اپنے منشور اور اس کی پہلی پانچ سالہ حکومتی کارکردگی کے درمیان فرق جانچنے کے لیے یہ ایک اہم ابتدائی تحقیقی حوالہ ضرور ہے۔
اس مطالعے کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے 2013 کے منشور کے مجموعی وعدوں میں 23 فیصد پر پیش رفت کی، 25 فیصد میں درمیانی کارکردگی دکھائی جبکہ 52 فیصد وعدے کمزور کارکردگی کے زمرے میں آئے۔ خود تحقیقی ادارے نے لکھا کہ تینوں جماعتوں میں سے کوئی بھی اپنے منشور کے ایک تہائی اہداف تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی۔
لیکن پی ٹی آئی کے لیے اس ابتدائی حساب کی اہمیت آج اس لیے بڑھ گئی ہے کہ 2018 کے بعد بھی اسے خیبر پختونخوا میں طویل حکومتی مدت ملی۔ یعنی پہلی مدت کی خامیوں کی اصلاح کے لیے وقت، تجربہ اور اختیار دونوں موجود تھے۔ تیرہ برس بعد بھی اگر وہی بنیادی سوالات موجود ہیں تو پھر انہیں محض ابتدائی دور کی مشکلات کہہ کر نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
سب سے پہلے پولیس کو لیجیے۔
پولیس اصلاحات پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے کا اہم ترین حصہ تھیں۔ 2013 کے منشور میں قانون کی حکمرانی، احتساب اور پولیس اصلاحات کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔
پولیس اصلاحات کے اس دعوے کو اب صرف یہ کہہ کر نہیں پرکھا جا سکتا کہ قانون تبدیل ہوا یا انتظامی اختیارات کی نئی تقسیم ہوئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام شہری کو پولیس سے قانون کے مطابق تحفظ، انصاف اور عزت مل رہی ہے؟ کیا پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد ہے؟ کیا اختیارات کے ناجائز استعمال کا مؤثر احتساب ہوتا ہے؟ اور کیا شہری یہ اعتماد رکھتے ہیں کہ پولیس قانون کی محافظ ہے یا طاقت کے استعمال کا ایک آزاد مرکز؟
جعلی پولیس مقابلوں، غیر قانونی حراست یا ماورائے قانون کارروائی کے کسی مخصوص واقعے کو حتمی حقیقت قرار دینے کے لیے ہر کیس کا الگ ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں قانون کی حکمرانی اور شہری تحفظ کے سوالات ختم نہیں ہوئے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 2024 کے اپنے جائزے میں صوبے میں قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں اور امن و امان کی صورت حال میں نمایاں خرابی کی نشاندہی کی۔
اور پھر امن و امان کے اعداد و شمار ہیں، جو کسی سیاسی تقریر کے محتاج نہیں۔
جنوبی ایشیا دہشت گردی پورٹل کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتیں 2019 میں 130 تھیں، 2020 میں 216، 2021 میں 301، 2022 میں 527، 2023 میں 941 اور 2024 میں 1,363 تک پہنچ گئیں۔ یعنی 2019 کے مقابلے میں 2024 کی مجموعی ہلاکتیں دس گنا سے بھی زیادہ سطح پر پہنچ گئیں۔ 2023 میں 312 ہلاکت خیز واقعات ہوئے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 487 ہوگئی۔ 2024 میں 421 سکیورٹی اہلکار، 284 شہری اور 654 شدت پسند شہید اور ہلاک ہوئے۔
اسی ماخذ کے مطابق 2023 میں صوبے میں 941 ہلاکتوں کے ساتھ دہشت گردی سے متعلق 470 واقعات رونما ہوئے، جو 2013 کے بعد سب سے زیادہ تھے۔ 2023 میں 28 خودکش حملے بھی ریکارڈ ہوئے، جبکہ پشاور پولیس لائنز کی ایک خودکش کارروائی میں کم از کم 83 پولیس اہلکار سمیت 84 افراد شہید اور 220 زخمی ہوئے۔
ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے مطابق 2023 میں خیبر پختونخوا میں 160 سے زیادہ پولیس اہلکار، 70 سے زیادہ فوجی اہلکار اور 60 سے زیادہ شہری مارے گئے، جبکہ 170 سے زیادہ مبینہ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔
2024 میں صورت حال مزید سنگین دکھائی دیتی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے مطابق صوبے میں کم از کم 204 پولیس اہلکار، جن میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 22 اہلکار بھی شامل تھے، جان سے گئے جبکہ 383 زخمی ہوئے۔ شہریوں میں کم از کم 174 افراد شہید اور 275 زخمی ہوئے۔ پولیس کی ہلاکتوں میں یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ تھی۔
انسداد دہشت گردی محکمہ خیبر پختونخوا کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں صوبے میں 670 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، 204 پولیس اہلکار شہید اور 383 زخمی ہوئے، جبکہ 174 شہری شہید اور 275 زخمی ہوئے۔ محکمہ نے اپنے آپریشنز میں 212 شدت پسندوں کے مارے جانے کی بھی اطلاع دی۔
یہاں ایک ضروری وضاحت بھی ہے۔کہ دہشت گردی کا پورا بوجھ صرف صوبائی حکومت پر ڈالنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ سرحدی حالات، وفاقی پالیسی، سکیورٹی اداروں کے اختیارات اور علاقائی صورت حال سب اس بحران کے عوامل ہیں۔ لیکن تیرہ سالہ صوبائی حکمرانی کا جائزہ لیتے ہوئے پولیس، انتظامیہ، شہری تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو اس حساب سے باہر بھی نہیں نکالا جا سکتا۔
تعلیم کی طرف آئیں تو یہاں بھی دعوے اور نتیجے کے درمیان فاصلہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
2013 میں پی ٹی آئی نے تعلیم میں انقلاب کا وعدہ کیا تھا۔ اس کا مقصد صرف نئی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ تعلیم کا معیار بلند کرنا اور ہر بچے کو بنیادی تعلیم تک رسائی دینا تھا۔
تیرہ برس بعد اگر تعلیم کو کامیابی کا پیمانہ بنانا ہے تو افتتاح ہونے والی عمارتوں کی تعداد سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ بچے کیا سیکھ رہے ہیں۔
اور یہاں آڈیٹر جنرل پاکستان کی حالیہ رپورٹس محض رسمی کاغذات نہیں رہتیں بلکہ حکومتی کارکردگی کے اندر موجود کمزوریوں کی تصویریں بن جاتی ہیں۔
مثلاً آڈیٹر جنرل نے ضلع چارسدہ کے دوہری شفٹ سکول پروگرام کا کارکردگی آڈٹ کیا۔ آڈٹ میں بتایا گیا کہ 2021-22 اور 2022-23 کے دوران پروگرام پر چارسدہ میں 130.470 ملین روپے خرچ ہوئے، لیکن 40 سکول بعد میں کم یا صفر داخلے کی وجہ سے بند ہوگئے۔ آڈٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پروگرام شروع کرنے سے پہلے مناسب قابلِ عمل جائزہ، ضرورت کا اندازہ اور واضح اہداف مقرر نہیں کیے گئے تھے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ آڈٹ کے مطابق نو ایسے سکولوں کو دوہری شفٹ پروگرام میں شامل کیا گیا جو مقررہ معیار کے مطابق گنجائش سے زیادہ طلبہ والے سکول ہی نہیں تھے، جبکہ تین ایسے سکول جو معیار کے مطابق زیادہ رش والے تھے، انہیں پروگرام میں شامل نہیں کیا گیا۔ آڈیٹر جنرل نے اسے کمزور انتظامی نگرانی قرار دیا اور کہا کہ اس سے پروگرام کا بنیادی مقصد، یعنی سکولوں میں رش کم کرنا، حاصل نہیں ہو سکا۔
آڈٹ میں 13.497 ملین روپے کے ایسے اساتذہ کے وظیفوں کی بھی نشاندہی کی گئی جو گرمیوں کی تعطیلات کے دوران ادا کیے گئے اور جن کی وصولی کی سفارش کی گئی۔ سات گرلز سکولوں میں سرکاری معلوماتی نظام کے اعداد و شمار میں 447 طلبہ جبکہ سکولوں کی رپورٹ میں 339 طلبہ درج تھے۔ یعنی 108 طلبہ کا فرق موجود تھا، جس نے طلبہ کے ریکارڈ کی درستگی پر سوال اٹھایا۔
یہ صرف مالی بے قاعدگی کا مسئلہ نہیں؛ یہ منصوبہ بندی، نگرانی، اعداد و شمار اور پالیسی پر عمل درآمد کے چاروں ستونوں کا مسئلہ ہے۔
اسی طرح آڈیٹر جنرل کی 2023-24 کی معلوماتی نظام کی جانچ نے خیبر پختونخوا کے ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مربوط تعلیمی انتظامی معلوماتی نظام کا جائزہ لیا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد خود حکومت کے مطابق تعلیمی منصوبہ بندی، نگرانی، فیصلہ سازی، اعداد و شمار کی توثیق اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ لیکن آڈٹ کے دوران محکمہ بار بار مطالبے کے باوجود بھرتی اور خریداری سے متعلق مکمل مالی معلومات فراہم نہ کر سکا، جسے آڈٹ ٹیم نے قابل قبول جواب نہیں سمجھا۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ حکومت نے جدید معلوماتی نظام بنایا یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ جس نظام کے ذریعے حکومت پورے تعلیمی شعبے کے بارے میں درست فیصلے کرنے والی تھی، اگر اسی نظام کے مالی اور انتظامی معاملات کی مکمل معلومات آڈٹ کو فراہم نہ ہو سکیں تو پھر اعداد و شمار کی بنیاد پر حکمرانی کی دعویداری کتنی مضبوط رہ جاتی ہے؟
صحت کے معاملے میں پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سیاسی حوالہ صحت کارڈ ہے۔ اس منصوبے نے علاج کی مالی رسائی کے لیے ایک نیا راستہ ضرور پیدا کیا، لیکن اسے صوبائی صحت کے پورے نظام کی کامیابی کا مترادف بنا دینا ایک الگ مسئلہ ہے۔
صحت کارڈ سے پہلے بھی خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں عام شہریوں کو علاج کی سہولت حاصل تھی۔ کئی علاج اور ادویات سرکاری نظام کے ذریعے مفت یا معمولی خرچ پر دستیاب تھیں۔ اس لیے تیرہ برس بعد اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے خاندان صحت کارڈ پر رجسٹر ہوئے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں کی اپنی استعداد کتنی بڑھی، ادویات کتنی دستیاب ہوئیں، آپریشن کے لیے انتظار کتنا کم ہوا اور مریض کو فوری ضرورت کے وقت علاج ملا یا نہیں۔
صحت کارڈ کے بارے میں آڈٹ کی نشاندہی اس بحث کو مزید سنگین بناتی ہے۔ 2018 سے 2021 کے عرصے کے متعلق صحت محکمے کے آڈٹ میں صحت کارڈ اور دیگر صحت منصوبوں میں 28.61 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی رپورٹ ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق 48 ہسپتالوں میں سے 17 ایسے تھے جو متعلقہ صحت کارڈ پینل پر رجسٹرڈ نہیں تھے، اس کے باوجود غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کو ادائیگیاں ہوئیں؛ سوات کے دو نجی ہسپتالوں کو ایک ایک ارب روپے سے زیادہ ادائیگیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ 32 ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ضرورت سے زیادہ بھرتیوں سے قومی خزانے کو 824 ملین روپے کے نقصان کی نشاندہی ہوئی، جبکہ مریضوں کا مکمل ڈیٹا بھی دستیاب نہیں تھا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پھر کھڑا ہوتا ہے کہ جس منصوبے کو شفاف، جدید اور مستحق شہری تک براہ راست صحت کی سہولت پہنچانے کے ایک بڑے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا، اس کے اندر اگر اربوں روپے کی بے قاعدگیاں، غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کو ادائیگیاں اور مریضوں کی مکمل معلومات کی عدم دستیابی سامنے آئے تو کیا صرف کارڈ کی تعداد کو کامیابی کا پیمانہ قرار دیا جا سکتا ہے؟
اتنے بڑے مالی حجم کی آڈٹ آبزرویشنز خود نگرانی، شفافیت اور انتظامی کنٹرول پر سنگین سوال ضرور اٹھاتی ہیں۔
مالیاتی نظم و نسق بھی اسی حساب کا ایک اہم حصہ ہے۔
پی ٹی آئی کے منشور میں مالیاتی نظم، آمدن بڑھانے، غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے اور صوبائی معیشت کو مضبوط بنانے کے اہداف موجود تھے۔ 2013 سے 2018 کے پہلے دور کے بارے میں انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے جائزے میں ریکارڈ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کی کل آمدنی 2012-13 کے تقریباً 245.9 ارب روپے سے بڑھ کر 2016-17 میں تقریباً 470.9 ارب روپے ہوئی، لیکن اسی دوران موجودہ اخراجات بھی تقریباً 195 ارب روپے سے بڑھ کر 339 ارب روپے ہوگئے۔ یعنی آمدن بڑھی تو جاری اخراجات بھی بہت تیزی سے بڑھے۔
یہاں بھی سوال یہ ہے کہ اخراجات میں اضافے کے مقابلے میں سرکاری خدمات کا معیار اسی تناسب سے بہتر ہوا یا نہیں۔
اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی موجودہ فہرست بتاتی ہے کہ مالیاتی نگرانی کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ 2024-25 کے صوبائی حسابات کے علاوہ توانائی، محصولات، بلدیاتی نظام، تعلیم، صحت اور مختلف منصوبوں کے الگ الگ آڈٹ موجود ہیں۔ تعلیم کے دوہری شفٹ پروگرام سے لے کر مربوط تعلیمی معلوماتی نظام تک مخصوص کارکردگی اور معلوماتی نظام کے آڈٹ کیے گئے ہیں۔مختلف شعبوں میں بار بار کمزور منصوبہ بندی، غیر مناسب انتخاب، ناقص نگرانی، ریکارڈ میں تضاد، غیر مجاز ادائیگیوں یا مکمل معلومات فراہم نہ کرنے جیسی آبزرویشنز سامنے آئیں تو یقینی طور پر بنیادی سوال انتظامی صلاحیت اور حکمرانی کے معیار کا بن جاتا ہے۔
احتساب کا باب بھی اسی لیے اہم ہے۔
پی ٹی آئی نے کرپشن کے خاتمے اور احتساب کو اپنی سیاست کا بنیادی ستون بنایا تھا۔ لیکن اس کے پہلے دور میں قائم کیا گیا احتساب کمیشن خود اس حد تک مؤثر نہ رہ سکا کہ اس کے سربراہ نے استعفا دے دیا۔ 2018 کے تقابلی مطالعے میں بھی صوبائی احتساب کمیشن کی کارکردگی، قانونی ترامیم اور ادارہ جاتی مشکلات کا ذکر موجود ہے۔
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ احتساب کا ادارہ اگر سیاسی طاقت سے آزاد نہ ہو تو احتساب خود ایک سیاسی نعرہ بن سکتا ہے۔
بلدیاتی نظام بھی اسی امتحان سے گزرتا ہے۔ منشور میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن اصل جمہوری اختیار تب منتقل ہوتا ہے جب مقامی نمائندے صرف نام کے نمائندے نہ ہوں بلکہ ان کے پاس فیصلہ سازی، مالی وسائل اور انتظامی اختیار بھی ہو۔ مقامی حکومتوں کے وجود کو کامیابی سمجھ لینا کافی نہیں؛ ان کی عملی خودمختاری اور وسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
روزگار اور معاشی سرگرمی کا سوال بھی تیرہ سال بعد نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے 2013 کے منشور میں صوبائی معاشی ترقی، زراعت، صنعت، چھوٹے کاروبار اور روزگار کو اہمیت دی گئی تھی۔ ابتدائی دور کے آزاد تقابلی مطالعے میں بھی یہ نشاندہی کی گئی کہ منشور میں صوبائی معیشت کے لیے سات فیصد شرح نمو کا ہدف رکھا گیا تھا، جبکہ 2013 کے قریب صوبائی شرح نمو تقریباً 4.9 فیصد اور 2018 میں پانچ فیصد سے کچھ زیادہ بتائی گئی۔ اسی مطالعے نے یہ بھی ریکارڈ کیا کہ موجودہ اخراجات کم کرنے کے وعدے کے برعکس اخراجات میں بڑا اضافہ ہوا۔
یہاں پھر سوال یہ ہے کہ تیرہ برس میں عام نوجوان کے لیے روزگار کے کتنے پائیدار مواقع پیدا ہوئے اور صوبائی معیشت سرکاری ملازمتوں اور حکومتی اخراجات سے آگے کتنی بڑھی؟
تیرہ سالہ حکمرانی کا سب سے مشکل امتحان دراصل یہی ہے کہ حکومت نے اپنے اداروں کو کتنا مضبوط کیا۔
ایک حکومت پانچ سال میں کچھ منصوبے بنا سکتی ہے۔ آٹھ سال میں ادارہ جاتی اصلاحات کا آغاز کر سکتی ہے۔ لیکن تیرہ برس کے بعد اگر تعلیمی نظام میں ریکارڈ کی درستگی، صحت میں مالی نگرانی، سکولوں کے انتخاب میں بنیادی منصوبہ بندی، پولیس اور امن و امان میں سنگین مسائل اور مالیاتی نظم میں مسلسل آڈٹ آبزرویشنز موجود ہوں تو پھر سوال منصوبوں کی تعداد کا نہیں رہتا، حکمرانی کے معیار کا رہتا ہے۔
تیرہ سال کسی بھی حکومت کے لیے معمولی مدت نہیں۔
پانچ سال میں حکومت کہہ سکتی ہے کہ اصلاحات شروع کر دی گئی ہیں۔ آٹھ سال میں کہا جا سکتا ہے کہ ادارہ جاتی تبدیلی ابھی جاری ہے۔ لیکن جب ایک سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر تقریباً تیرہ برس کا تجربہ اور اختیار حاصل ہو جائے تو پھر سوال زیادہ سخت ہونا فطری ہے کہ منشور کہاں ہے، وعدے کہاں ہیں، دعوے کہاں ہیں اور نتائج کہاں ہیں؟
خیبر پختونخوا کے عوام کو اب سیاسی تقریروں سے زیادہ ایک ایسا حساب درکار ہے جس میں ہر بڑے وعدے کے سامنے اس کا موجودہ نتیجہ لکھا ہو۔
اگر وعدہ پولیس اصلاحات کا تھا تو پولیس کا موجودہ کردار سامنے رکھا جائے۔
اگر وعدہ تعلیمی انقلاب کا تھا تو بچے کا تعلیمی معیار سامنے رکھا جائے۔
اگر وعدہ صحت سب کے لیے تھا تو مریض کا انتظار اور علاج کی دستیابی سامنے رکھی جائے۔
اگر وعدہ کرپشن کے خاتمے کا تھا تو سرکاری خزانے کے آڈٹ اور احتساب کے نتائج سامنے رکھے جائیں۔
اگر وعدہ روزگار کا تھا تو روزگار کے حقیقی مواقع سامنے رکھے جائیں۔
اگر وعدہ مالیاتی نظم کا تھا تو صوبے کی موجودہ مالی ذمہ داریاں سامنے رکھی جائیں۔
اگر وعدہ بلدیاتی اختیار کا تھا تو مقامی حکومتوں کے پاس موجود حقیقی اختیار اور وسائل سامنے رکھے جائیں۔
اور اگر وعدہ اچھی حکمرانی کا تھا تو عام شہری کا سرکاری اداروں سے روزمرہ تجربہ سامنے رکھا جائے۔
یہی تیرہ سالہ تجربے کا اصل حساب ہے۔
پی ٹی آئی کو نہ کسی مخالف سیاسی جماعت کے الزام سے بری کیا جا سکتا ہے اور نہ مخالفین کے الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا فیصلہ منشور، سرکاری ریکارڈ، آڈٹ، تعلیمی نتائج، صحت کے اعداد، مالیاتی حقائق اور عوامی تجربے کے مجموعی مطالعے سے ہونا چاہیے۔
اور اگر ان سب کو ایک میز پر رکھ کر دیکھا جائے تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ تبدیلی کا نعرہ ایک سیاسی وعدہ تھا، مگر تبدیلی کا اصل امتحان اداروں اور عام آدمی کی زندگی تھی۔ تیرہ برس بعد بھی خیبر پختونخوا کے سامنے بہت سے وہ بنیادی سوال موجود ہیں جنہیں ختم کرنے کا وعدہ اسی تبدیلی کے منشور میں کیا گیا تھا۔
یہ کسی جماعت سے دشمنی نہیں۔
یہ اقتدار سے حساب مانگنے کا جمہوری حق ہے۔
اور اگر تنقید کا مقصد اصلاح ہو تو حکومت کی تعریف سے زیادہ قیمتی وہ سوال ہوتا ہے جو حکومت کو اپنے ہی وعدے یاد دلا دے۔
واپس کریں