دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مجھے گوجرانوالہ میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ سہیل آفریدی
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ گوجرانوالہ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور پنجاب پولیس کے کانسٹیبل مقدس علی کو وزیر اعلی کی سیکیورٹی دستے نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے نے پنجاب میں جاری تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس کے مطابق کانسٹیبل مقدس علی نے موقع پر اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے محکمانہ شناختی کارڈ بھی پیش کیا، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ کی حفاظتی ٹیم کے ارکان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ موقع پر موجود سٹی وزیرآباد کے ایس ایچ او نے مداخلت کرکے اسے چھڑایا۔ دوسری طرف سہیل آفریدی نے اس شخص کو اپنے قتل کے لیے بھیجا گیا مسلح شخص قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی سکیورٹی ٹیم نے اسے پکڑا اور اس سے پستول برآمد کیا۔
یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ یہاں عام سیاسی کارکن اور پولیس آمنے سامنے نہیں تھے بلکہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی حفاظتی ٹیم اور دوسرے صوبے کی پولیس کے اہلکاروں کے درمیان معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ ایک پولیس اہلکار کو مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف وزیراعلیٰ نے اتنا سنگین الزام عائد کر دیا کہ انہیں قتل کرنے کے لیے ایک شخص بھیجا گیا تھا۔ یعنی چند سو افراد کی موجودگی میں، خود وزیراعلیٰ کے سامنے، ریاستی قوت کے دو حصے ایک دوسرے کے مقابل آ گئے۔
یہی واقعہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے تناظر میں زیادہ بڑا سوال پیدا کرتا ہے۔ جب محدود تعداد میں موجود لوگوں کے درمیان، وزیراعلیٰ کی براہ راست موجودگی میں، ریاستی اہلکار ایک دوسرے سے الجھ سکتے ہیں اور معاملہ تشدد اور فوجداری کارروائی تک پہنچ سکتا ہے تو اس سے کئی گنا بڑے ہجوم کو قابو میں رکھنا کتنا مشکل ہوگا؟ یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ قیادت اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کرے گی یا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بڑے ہجوم کے اندر ہر فرد کے عمل کو کنٹرول کرنا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔
گوجرانوالہ کے اس واقعے کے فوراً بعد سیالکوٹ کا معاملہ بھی سامنے آ گیا، جہاں پولیس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت تقریباً 150 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس کے مطابق پیرس روڈ پر آنے والے جلوس کے شرکا نے پولیس ٹیم پر حملہ کیا، پتھراؤ کیا، سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے اور بعض افراد نے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ ایف آئی آر میں کانسٹیبل حامد علی کے زخمی ہونے کا بھی ذکر ہے جبکہ مقدمے میں انسداد دہشت گردی قانون، تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی شامل کی گئی ہے۔
یہ دونوں واقعات ایک ہی سیاسی سرگرمی کے دوران سامنے آئے ہیں اور دونوں کا تعلق سہیل آفریدی کی پنجاب میں موجودگی اور تحریک انصاف کی کارکنوں کو متحرک کرنے کی مہم سے ہے۔ اس لیے انہیں الگ الگ واقعات سمجھ کر نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ خود یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ تھا، دوسری طرف ان کی حفاظتی ٹیم پر ایک پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے، اور پھر سیالکوٹ میں پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان مبینہ تصادم کے بعد بڑی تعداد میں افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ 27 ستمبر کو جب ہجوم ان واقعات کے افراد سے کہیں بڑا ہوگا تو صورتحال کس سمت جائے گی؟ سیاسی قیادت اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت دے سکتی ہے، لیکن ہجوم کو مکمل طور پر قابو میں رکھنا کسی بھی سیاسی قیادت کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ایک شخص کا پتھر، ایک اشتعال انگیز نعرہ، ایک افواہ، ایک دھکا یا ایک ایسا واقعہ جس کی حقیقت فوری طور پر واضح نہ ہو، چند لمحوں میں پورے اجتماع کا ماحول بدل سکتا ہے۔ جب سامنے پولیس اور دوسری ریاستی قوت موجود ہو تو پھر معاملہ صرف سیاسی احتجاج نہیں رہتا بلکہ تصادم کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں بڑی تعداد میں غلیلیں اور کانچے جمع کرتے ہوئے افراد دکھائی دیتے ہیں۔ اس ویڈیو سے عام تاثر یہ لیا جا رہا ہے کہ اس میں تحریک انصاف کے کارکن نظر آ رہے ہیں، تاہم سہیل آفریدی نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اس ویڈیو کی حقیقت اور اس میں موجود افراد کی شناخت اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے، لیکن ایسے وقت میں جب پولیس اور سیاسی کارکنوں کے درمیان پہلے ہی تصادم کے واقعات سامنے آ رہے ہوں، اس قسم کی ویڈیو کا گردش کرنا بھی تشویش پیدا کرتا ہے۔
اس پورے منظرنامے کا ایک اور پہلو زیادہ خطرناک ہے۔ پاکستان کے کئی دشمن ہیں اور کسی بڑے سیاسی تصادم سے کوئی تیسرا فریق فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی ایسے واقعے کے پیچھے وہی فریق ہو جس پر فوری طور پر انگلی اٹھائی جائے۔ بڑے ہجوم، کشیدہ ماحول اور ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کی صورتحال کسی بھی شرپسند عنصر کے لیے موقع پیدا کر سکتی ہے۔ اگر کوئی تیسرا شخص یا گروہ ایک ایسا واقعہ پیدا کر دے جس میں جانی نقصان ہو جائے تو ریاست اور تحریک انصاف ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے رہ سکتے ہیں جبکہ اصل ہاتھ پس پردہ رہ جائے۔
یہی وجہ ہے کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ اب محض تعداد کا سوال نہیں رہا۔ اصل سوال اس کے نظم و ضبط کا ہے۔ اگر چند سو افراد کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کے سامنے ریاستی اہلکار ہی ایک دوسرے کے مقابل آ سکتے ہیں، اگر پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم کے بعد فوجداری مقدمات درج ہو سکتے ہیں اور اگر سیاسی ماحول میں اس قدر کشیدگی پیدا ہو چکی ہے کہ ایک وزیراعلیٰ اپنے قتل کے لیے آدمی بھیجے جانے کا الزام عائد کر رہا ہے تو بڑے ہجوم کے امکانات اور خطرات کو معمولی سمجھنا دانش مندی نہیں ہوگی۔
سہیل آفریدی لانگ مارچ کے روح رواں ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری صرف کارکنوں کو جمع کرنا نہیں بلکہ انہیں مکمل نظم و ضبط میں رکھنا بھی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے امن قائم رکھے اور ایسے اقدامات سے بچے جو کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ دونوں طرف ایک غلط قدم دوسرے غلط قدم کو جنم دے سکتا ہے اور پھر صورتحال قیادت کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔
27 ستمبر ابھی آیا نہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ لانگ مارچ لازماً پرتشدد ہوگا۔ لیکن آج کے واقعات نے اس خدشے کو ضرور گہرا کر دیا ہے کہ اگر سیاسی درجہ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو پرامن احتجاج اور پرتشدد تصادم کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جائے گا۔
سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ریاست اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوں، ہجوم جذبات میں آ جائے اور اسی لمحے کوئی تیسرا فریق موقع سے فائدہ اٹھا لے۔ پھر یہ صرف ایک سیاسی احتجاج نہیں رہے گا بلکہ ایسا بحران بن سکتا ہے جس کے اثرات سڑک سے نکل کر ریاستی نظام اور پورے ملک کے امن تک پہنچ سکتے ہیں۔
لانگ مارچ کا راستہ ابھی کھلا ہے، مگر گوجرانوالہ سے سیالکوٹ تک کے واقعات نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ کیا 27 ستمبر کا ہجوم واقعی آخری لمحے تک پرامن اور قابو میں رکھا جا سکے گا؟
واپس کریں