دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی رہائی
No image احتشام الحق شامی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج انسانی حقوق کی نامور وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ متنازع سوشل میڈیا پوسٹس (ٹویٹس) کے مقدمے میں سنایا گیا، جس میں دونوں کو جنوری 2026 میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے بعد یہ حکم صادر کیا۔ عدالت نے دونوں وکلاء کو ایک یا دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا اپیلوں پر حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے ہائی کورٹ میں کیس کے مسلسل التواء پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، عدالت ان کی عزت رکھ رہی ہے، لیکن انہیں بھی عدالت کے تقدس (ڈیکورم) کا خیال رکھنا چاہیے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پیکا (انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ الزام تھا کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس ریاست مخالف بیانیہ پیش کرتی ہیں یا لسانی بنیادوں پر تقسیم پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔24 جنوری 2026 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے دونوں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی۔ اس میں پیکا کی دفعہ 9 کے تحت پانچ سال، دفعہ 10 کے تحت دس سال اور دفعہ 26-A کے تحت دو سال قید شامل تھی، جبکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ دونوں کو فیصلے سے ایک روز قبل ایک الگ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔
دونوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں اور سزا معطلی کی درخواستیں دائر کیں، لیکن ہائی کورٹ میں سماعت میں تاخیر ہوتی رہی۔ سپریم کورٹ نے اس تاخیر پر کئی بار نوٹس لیا اور بالآخر خود ریلیف فراہم کیا۔اہمیت اور ردعملیہ رہائی انسانی حقوق کے حلقوں اور وکلاء کے لیے اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ایمان مزاری اقلیتی حقوق، توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والوں اور صحافیوں کے دفاع کے لیے مشہور ہیں۔ کیس کے ابتدائی مراحل میں اقوام متحدہ کے ماہرین اور وکلاء نے سزاؤں پر تنقید بھی کی تھی۔ تاہم، کیس ابھی ختم نہیں ہوا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلوں پر حتمی فیصلہ باقی ہے، جس کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔ کیس کی مکمل تفصیلات اور حتمی نتیجہ آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔
واپس کریں