
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملک کو درپیش معاشی بحران اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں نئی کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری فیول کے کوٹے میں پچاس فیصد کٹوتی‘ غیر ملکی دوروں پر پابندی اور نئی اشیا اور گاڑیوں کی خریداری پر مکمل روک لگانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت کا یہ حالیہ فیصلہ بظاہر خوش آئند ہے‘ تاہم ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ مسئلہ پالیسیوں کی تشکیل کا نہیں بلکہ ان پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد نہ ہونے کا ہے۔ معاشی ماہرین کے علاوہ عوامی حلقوں کا بھی یہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ اس نوعیت کی مہمات کو چند ہفتوں یا چند مہینوں تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر ملکی طرزِ حکمرانی کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ اگر ہم گزشتہ چند برسوں ہی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جون 2022ء میں بھی توانائی کی بچت کیلئے ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ فروری 2023ء میں وفاقی کابینہ کی جانب سے تنخواہیں نہ لینے کا اعلان سامنے آیا تھا۔ فروری 2024ء کے الیکشن کے فوری بعد‘ مارچ میں حکومتی اخراجات کم کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ قومی خزانے کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ پھر جنوری 2025ء میں وفاقی اداروں کا حجم چھوٹا کرنے اور ڈیرھ لاکھ اسامیاں ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ رواں سال بھی یہ دوسرا موقع ہے کہ حکومت نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں مارچ میں کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا گیا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ضمن میں اعلیٰ سطح پر ارادے کی پختگی نظر نہیں آتی۔ ہر کفایت شعاری مہم کے چند ماہ بعد ہی تمام اعلان کردہ اقدامات سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عارضی مصلحتوں کے تحت کی جانے والی یہ مشقیں اب ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گئی ہیں اور حکومتی سنجیدگی پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ عوامی مایوسی کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں کا تضاد بھی ہے‘ جس کی ایک واضح مثال بجلی اور فیول کی بچت کیلئے 2023ء میں منظور کی جانے والی پانچ سالہ قومی بجلی بچت پالیسی ہے‘ جسکے تحت توانائی کے ضیاع کو روکنے کیلئے مارکیٹوں کو جلد بند کرنے اور بجلی کی بچت کے دیگر منصوبے بنائے گئے تھے۔ اس پالیسی میں سولرائزیشن کو کلیدی اہمیت دی گئی تھی مگر دو سال بعد ہی اربابِ اختیار یہ بتانے لگے کہ سولرائزیشن نے ملکی توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسی عارضی اور عبوری پالیسیوں کا یہی نتیجہ نکل سکتا تھا‘ جو آج ہمارے سامنے ہے۔ اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی کفایت شعاری کا اعلان کیا جاتا ہے تو کچھ ہی عرصہ بعد اعلیٰ گریڈز کے افسران اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں‘ مراعات اور الاؤنسز میں بھاری اضافہ کر دیا جاتا ہے‘ یا پھر نئی پُرتعیش گاڑیوں کی خریداری شروع ہوجاتی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران وفاقی حکومت نے چھ ارب 60کروڑ روپے مالیت کی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی جبکہ پنجاب میں چار ارب 23 کروڑ کی لاگت سے سرکاری افسران کیلئے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ ایسے تضادات کی موجودگی میں کسی بھی کفایت شعاری مہم پر حقیقی معنوں میں عمل نہیں ہو سکتا۔ جب تک حکومتی سطح پر ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کے نام پر غیر ضروری منصوبوں کو سختی سے نہیں روکا جائے گا‘ تب تک فیول میں پچاس فیصد کٹوتی جیسے اقدامات کے خاطر خواہ نتائج نہیں مل سکیں گے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ معاشی اور سماجی اصلاحات کا سفر ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف اثر کرتا ہے۔ اگر حکومت کفایت شعاری کے معاملے میں واقعی سنجیدہ ہے تو پہلے شاہانہ سرکاری اخراجات پر روک لگانا ہو گی۔ کفایت شعاری کیلئے اعلانات یا نوٹیفیکیشن کی نہیں بلکہ ایک ایسی مستقل‘ شفاف اور بلاامتیاز پالیسی کی ضرورت ہے جس کا اثر سب سے پہلے بالائی طبقے پر نظر آئے۔
بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں