
(بیدار اسپیشل) دنیا میں سامنے جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، پردے کے پیچھے بعض اوقات کچھ اور ہو رہا ہوتا ہے، جسے انسانوں کو کچھ عرصے بعد سمجھ آتی ہے۔عوام کو ایک بات سمجھنی چاہیے کہ کشمیر گریٹ گیم کا حصہ ہے اور اس وقت کشمیر پاکستان کے لیے ایک ٹرمپ کارڈ یا ’’ترپ کا پتہ‘‘ ہے۔ کشمیر کا معاملہ عالمی سیاست کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کی حکومت اس ترپ کے پتے کو کب، کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے، یہ بات چند دنوں بعد لوگوں کو سمجھ آ جائے گی۔
ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف جغرافیائی علاقے خطے کے لیے اہم گیٹ ویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر پاکستان مکہ دفاعی معاہدے پر قائم رہتا ہے، جو امریکہ کے کہنے پر کیا گیا تھا، تو پھر کشمیر کا معاملہ بھی امریکی مفادات یا پالیسی کے مطابق کسی اور سمت جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان مکہ دفاعی معاہدے سے نکل جاتا ہے تو پھر کشمیر کے معاملے میں چین کی پالیسی کو فالو کیا جا سکتا ہے اور کشمیر کو صوبہ بنانے، فیڈرل ٹیریٹری کے تحت لانے یا موجودہ اسٹیٹس کو برقرار رکھنے جیسے آپشنز زیرِ غور آ سکتے ہیں۔
مجھے جو لگ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ پاکستان نے مارکیٹ سے ساڑھے سات فیصد سود پر ڈالرز حاصل کر لیے ہیں۔ سعودی عرب کے جو تین ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، ان کے لیے بھی پیسوں کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے ایس سی او کے اجلاس، جو 13 اور 14 اکتوبر کو ہو رہا ہے، کے بعد چین کے بلاک کی طرف جا سکتا ہے۔
کچھ دن پہلے جرمنی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں یورپی ممالک اور عرب ممالک نے شرکت کی، اور وہاں ایک نئے بلاک کی تشکیل کی تیاریوں پر بھی کام جاری ہے۔
اگر پاکستان چین کے بلاک میں چلا جاتا ہے تو پاکستان میں چین ماڈل نافذ ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جس کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان اس میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، یہ آنے والے ایک، دو ماہ میں حالات اور واقعات سے واضح ہو جائے گا۔
اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں انتخابات ہو رہے ہیں، جبکہ نومبر میں امریکہ میں مڈٹرم انتخابات ہونے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے دیگر معاملات بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت دو قسم کے طبقات موجود ہیں: ایک امریکی لابی سے وابستہ طبقہ اور دوسرا چین کے ساتھ تعلقات کا حامی طبقہ۔ اگر چین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینے والا طبقہ کامیاب ہوتا ہے تو عمران خان کے ساتھ معاملات کس طرح ڈیل کیے جاتے ہیں، یہ آنے والا وقت واضح کرے گا۔
اگلا ایس سی او اجلاس پاکستان میں 13 اور 14 اکتوبر کو ہو رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان چین کے بلاک میں شامل ہوتا ہے یا نہیں، جس میں چین، روس، ایران اور دیگر ممالک شامل ہیں۔
اگر پاکستان اس بلاک میں مکمل طور پر چلا جاتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا۔ اگر اسرائیل کا منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو اسرائیل کے پاس، بعض لوگوں کے خیال میں، دنیا میں جنگیں کروانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ معاملات بالآخر جنگ کی طرف جا سکتے ہیں اور دنیا کے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ جنگی ماحول پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اگر پاکستان مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کرتا ہے اور پاکستان یمن کی جنگ میں شامل ہو جاتا ہے تو بھی پاکستان کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ اگر پاکستان ایران، چین اور روس کے خلاف کسی سمت میں چلا جاتا ہے تو پھر پاکستان کے لیے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
پاکستان دونوں طرف پھسا ہوا ہے۔ پاکستان ہمیشہ ڈبل گیم کھیلتا رہا ہے، لیکن اس مرتبہ مجھے لگ رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ٹرپل گیم ہو رہی ہے اور پاکستان پھنس چکا ہے۔ پاکستان کے پاس کوئی آسان حل نہیں ہے۔ ایک ہی راستہ ہے کہ پاکستان اپنے اندرونی، خصوصاً سیاسی، حالات کو بہتر کرے۔ ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ کامیابی دے گا۔
پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے لیے چند چیزوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ حالات اور واقعات کو دیکھتے ہوئے چند سوالات پیدا ہوتے ہیں:
کیا مولانا فضل الرحمن صاحب اسٹیبلشمنٹ کی ایما کے بغیر اپوزیشن اتحاد میں شامل ہو سکتے ہیں؟
کیا جماعت اسلامی 20 تاریخ کو اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر لانگ مارچ کا اعلان کر سکتی ہے؟
کیا کسان اتحاد 25 تاریخ کو اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر لانگ مارچ کا اعلان کر سکتا ہے؟
کیا پی ٹی آئی کا ایک گروپ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے؟ جو لوگ جیل کے باہر ہیں، کیا وہ مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہیں اور ان کی ایما پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟
پاکستان میں اس وقت جو ماحول، حالات اور واقعات ہیں، وہ یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان حالات اور واقعات کو پیدا کرکے معاملات کو قومی حکومت کی طرف لے جا رہی ہے۔
کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرکے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ حالات کو بہتر نہیں کروا سکتی؟ 22 جولائی کو او پی ایف کے چیئرمین نے ایک مسودہ منظور کرکے بھیجا تھا جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لیے قابلِ قبول تھا، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ایک گروپ نے اس مسودے کو ناکام کروا دیا اور مذاکرات ناکام ہو گئے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت ایکشن کمیٹی سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتی، جس کے پیچھے بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
اس وقت پاکستان کے اندر دو قسم کی پالیسیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں: ایک امریکی پالیسی اور دوسری چین کی پالیسی۔ اب پاکستان نے فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کون سی پالیسی اپنانی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر چین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینے والا طبقہ کامیاب ہوتا ہے یا امریکی پالیسی کے حامی عناصر۔ حالات اور واقعات کو دیکھتے ہوئے مجھے ٹرپل گیم کے خدشات نظر آ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں مختلف خطوں میں جنگوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے...
کشمیر، فلسطین، لبنان، شام، عراق،افغانستان، لیبیا، سوڈان، یمن، ایران یہ سب بڑے بڑے نام ہیں اور ان کے علاوہ بہت سارے چھوٹے ملک اور علاقوں میں مسلمانوں کو بڑی ہی مہارت کے ساتھ تباہ کر دیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے... جیسے آپ پاکستان کے حالات پر بات نہیں کرنا چاہتے ایسے ہی مجھے ترس آتا ہے ان لوگوں پر جو احادیث مبارکہ نہیں پڑھتے اور سوچتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تباہ کرے گا یا ایران امریکہ کو برباد کر دے گا... ان سب کے لیے عرض کر رہا ہوں کہ ایرانی نسل ہی دنیا سے ختم ہونے والی ہے اور اس کے بعد عرب ممالک تباہ ہونگے اور روس بھی شاید اسکے ساتھ ہی پاکستان اور مصر پھر ترکی.. کوئی مسلمان ملک نہیں بچے گا اور پھر یہودی عالمی حکومت قائم کر لیں گے پھر ایک لمبے عرصے تک مسلمان غلامی کی بد ترین شکل میں زندگی گزاریں گے یہاں تک کہ امام مہدی تشریف لائیں گے اور اس کے بعد قیامت آج آئی کے کل آئی..
یہ سب اور بہت کچھ جاننے کے لئے احادیث مبارکہ پڑھیں۔
(نوٹ۔ مذکورہ تحریر نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر شائع کی گئی ہے)
واپس کریں