دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عام آدمی کو عمران خان کی رہائی نہیں، علاج چاہیے
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔
خیبرپختونخوا میں صحت کا مسئلہ اب محض ہسپتالوں کی کارکردگی یا صحت کارڈ کے انتظامی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ براہ راست حکمرانی کی ترجیحات، نگرانی اور ریاستی ذمہ داری کا سوال بن چکا ہے۔ ایک طرف صحت کارڈ کے تحت سرجریوں کے لیے غیر معمولی انتظار کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، دوسری طرف ہسپتالوں کے واجبات، صحت کارڈ کے مالیاتی نظام، مبینہ نقد ادائیگیوں اور علاج میں ممکنہ امتیاز کے سوالات موجود ہیں، جبکہ ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج بھی طبی خدمات کو متاثر کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ حکومت ان مسائل کی فہرست بنا رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عام مریض کو بروقت علاج کیوں نہیں مل رہا۔
11 ستمبر 2026 کو صحت کارڈ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شفافیت، مالی نظم و ضبط، ہسپتالوں کے ضابطۂ کار اور صحت کارڈ کے غلط استعمال کی روک تھام سمیت اصلاحات پر زور دیا۔ اسی عرصے میں صحت کارڈ کے مریضوں کو بعض سرجریوں کے لیے طویل انتظار کی تاریخیں ملنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ ڈان نے مختلف طبی تدریسی اداروں کے ڈاکٹروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بعض صحت کارڈ مریضوں کو 2027 سے 2029 تک کی تاریخیں دی جا رہی ہیں، جبکہ ادارہ جاتی ادائیگی کے ذریعے علاج کرانے والے مریضوں کو نسبتاً جلد سہولت ملنے کی شکایات موجود ہیں۔ یہ دعوے متعلقہ ڈاکٹروں سے منسوب ہیں اور ان کی باقاعدہ سرکاری تحقیقات ضروری ہیں، لیکن اگر ایک غریب مریض سرجری کے لیے مہینوں انتظار کرے اور ادائیگی کرنے والا مریض پہلے علاج حاصل کر لے تو یہ صحت کے نظام کے لیے ایک بنیادی سوال ضرور ہے۔
صحت کارڈ کے ہسپتالوں کے واجبات بھی اسی تصویر کا حصہ ہیں۔ حکومت اور ہسپتالوں کے درمیان مالی معاملات میں تاخیر کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں اور حکومت نے اس پروگرام کی مالیاتی اصلاح اور نگرانی بہتر بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اور ہسپتال کے درمیان حساب کتاب کا بوجھ مریض پر نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر کسی ہسپتال کو حکومت یا متعلقہ ادارے سے رقم وصول کرنی ہے تو اس کا تنازع حکومت اور ہسپتال کے درمیان ہونا چاہیے، مریض کے علاج کا حق اس تنازع کا فریق نہیں بن سکتا۔
یہاں صحت کارڈ کے تحت نقد رقم طلب کرنے کی شکایات بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ کسی مخصوص ہسپتال یا فرد پر الزام ثابت کیے بغیر یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا ایسی شکایات پورے صوبے میں موصول ہو رہی ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے، کتنی شکایات کی تحقیقات ہوئی ہیں اور کتنے معاملات میں کارروائی کی گئی ہے۔ اگر ایک مستحق مریض سے یہ کہا جائے کہ صحت کارڈ پر علاج کے لیے انتظار کرو لیکن نقد رقم دو تو علاج جلد ہو سکتا ہے، تو یہ محض مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ پورے نظام کے مقصد کو متاثر کرنے والی شکایت ہے۔ اس لیے ایسی شکایات کی ہسپتال وار اور ضلع وار جانچ ہونی چاہیے۔
اسی طرح ینگ ڈاکٹرز کا جاری احتجاج بھی محض حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان انتظامی تنازع نہیں ہے۔ ڈاکٹر اپنے مطالبات رکھتے ہیں اور حکومت کو ان سے مذاکرات اور مسائل کے حل کا اختیار حاصل ہے، لیکن جب احتجاج کے باعث او پی ڈی، سرجری یا دوسری طبی خدمات متاثر ہوتی ہیں تو اس کا براہ راست نقصان مریض کو پہنچتا ہے۔ ایک مریض جو پہلے ہی صحت کارڈ پر سرجری کی تاریخ کا منتظر ہے، اگر مقررہ دن ڈاکٹرز کے احتجاج کی وجہ سے علاج نہ کرا سکے تو اس کے لیے حکومت، ہسپتال اور احتجاج کے درمیان فرق ختم ہو جاتا ہے؛ اسے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا علاج نہیں ہوا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حکمرانی کی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی سیاسی سرگرمی اپنی جگہ ایک سیاسی معاملہ ہے اور ہر سیاسی جماعت کو اپنی سیاسی سرگرمی کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن وزیراعلیٰ ایک سیاسی جماعت کے رہنما ہونے کے ساتھ صوبے کے انتظامی سربراہ بھی ہیں۔ ان کے منصب کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ صوبے کے ہسپتال چل رہے ہوں، مریضوں کو بروقت علاج مل رہا ہو، ڈاکٹرز کے مسائل حل ہوں، صحت کارڈ کے واجبات کا نظام شفاف ہو اور غریب شہری کو اپنے علاج کے لیے کسی سفارش، تعلق یا نقد رقم کی ضرورت نہ پڑے۔
عام آدمی کو اسلام آباد کی سیاست سے پہلے اپنے گھر کے مریض کی فکر ہے۔ اسے اس بات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں کتنے لوگ جمع ہوں گے، کون کس کے خلاف نعرہ لگائے گا اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ کس شکل میں ہوگا۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جب اس کا باپ، ماں، بچہ یا بھائی بیمار ہو تو اسے بروقت علاج کہاں سے ملے گا، سرجری کے لیے کتنے ماہ انتظار کرنا ہوگا، آئی سی یو میں جگہ نہ ملنے کی صورت میں اسے کہاں منتقل کیا جائے گا اور صحت کارڈ ہونے کے باوجود اس سے اپنی جیب سے رقم کیوں طلب کی جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ صحت کے معاملے میں حکومت کو صرف اعلانات نہیں بلکہ ایک ایسا صوبائی نگرانی کا نظام قائم کرنا چاہیے جس میں ہر ضلع اور ہر بڑے ہسپتال کے بارے میں مسلسل معلوم ہو کہ صحت کارڈ پر کتنے مریض سرجری کے منتظر ہیں، کتنے مریضوں کا علاج تاخیر کا شکار ہے، کتنے آئی سی یو بستر دستیاب ہیں، کتنے مریض دوسرے ہسپتال منتقل کیے گئے، کتنے کلیمز زیر التوا ہیں، ہسپتالوں کے کتنے واجبات ہیں اور مریضوں کی کتنی شکایات موصول ہوئیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ صحت کارڈ اور نقد یا ادارہ جاتی ادائیگی والے مریضوں کے انتظار میں کوئی غیر معمولی فرق تو نہیں۔
اگر حکومت کے پاس یہ اعداد و شمار موجود نہیں تو مسئلہ صرف صحت کارڈ کا نہیں، نگرانی کا ہے۔ اگر اعداد موجود ہیں مگر ان کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہوتی تو مسئلہ حکمرانی کا ہے۔ اور اگر حکومت کو معلوم ہے کہ مریض کہاں مشکلات کا شکار ہیں مگر ان مسائل کے حل کے مقابلے میں دوسری ترجیحات زیادہ وقت اور توجہ لے رہی ہیں تو پھر سوال حکومتی ترجیحات کا ہے۔
صحت کارڈ کوئی خیرات نہیں۔ یہ عوام کے پیسے سے چلنے والا ایک عوامی فلاحی نظام ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غریب اور مستحق شہری بیماری کے وقت مالی تباہی سے بچ سکے۔ اس لیے حکومت کو یہ حق نہیں دینا چاہیے کہ مریض صحت کارڈ کی سہولت لے کر بھی علاج کے لیے ہسپتالوں کے درمیان بھٹکتا رہے۔ اگر نظام میں کہیں مالی بے ضابطگی ہے تو اس کی قیمت حکومت اور متعلقہ ادارے ادا کریں، مریض نہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے اصل سیاسی امتحان بھی شاید یہی ہے کہ وہ اپنے دور حکومت میں عام آدمی کو کیا محسوس کراتے ہیں۔ سیاسی جلسے، مارچ اور احتجاج تاریخ کا حصہ بنتے رہتے ہیں، لیکن ایک غریب آدمی کو حکومت اس وقت یاد آتی ہے جب اس کے گھر میں کوئی بیمار پڑتا ہے۔ اس وقت اسے تقریر نہیں، ہسپتال چاہیے؛ وعدہ نہیں، ڈاکٹر چاہیے؛ سیاسی نعرہ نہیں، بروقت سرجری چاہیے؛ اور سب سے بڑھ کر یہ یقین چاہیے کہ اس کے پاس پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کے علاج میں تاخیر نہیں ہوگی۔
اس لیے 27 ستمبر کی سیاست سے قطع نظر خیبرپختونخوا حکومت کے سامنے ایک فوری حکمرانی کا سوال کھڑا ہے: کیا صوبے کے عام شہری کو بروقت، قابلِ رسائی اور مالی بوجھ سے محفوظ علاج مل رہا ہے؟ اگر جواب مکمل طور پر ہاں نہیں ہے تو حکومت کی پہلی ترجیح اسی جواب کو ہاں میں تبدیل کرنا ہونی چاہیے۔
عام آدمی کو عمران خان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اسے اپنے بیمار عزیز کی زندگی سے دلچسپی ہے۔ اسے حکومت کی سیاسی مصروفیات نہیں، اپنی بیماری کے وقت حکومت کی موجودگی چاہیے۔ اور کسی بھی صوبائی حکومت کی اصل کامیابی کا پیمانہ یہی ہونا چاہیے کہ اس کے ہسپتال میں داخل غریب مریض کو یہ خوف نہ ہو کہ علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں، اور یہ انتظار بھی نہ ہو کہ شاید اس کی باری اگلے سال آئے گی۔
واپس کریں