افضال ریحان
11؍ستمبر 2026ءکو پوری دنیا بالخصوص امریکا میں نائن الیون ٹریجڈی کی پچیسویں برسی منائی گئی۔ اس سانحہ میں نیو یارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک سو دس منزلہ ٹوئن ٹاورز سے دو جہازوں کے ٹکرانےسے جو انسانی المیہ وقوع پذیر ہوا اس میں تین ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں زخمی ہوئے اور لاکھوں بیروزگار،مالی نقصان اربوں ڈالرز پر محیط تھا شاید 83ارب سے بھی زائد۔ ردعمل میں افغانستان اور پھر 2003ءمیں عراق کے اندر جو تباہی ہوئی کم وہ بھی نہیں تھی، درویش نے ربع صدی قبل اس پر بہت لکھا اور آج اس سوچ و بچار میں گم تھا کہ یہ تباہیاں ڈھانے والوں کو کیا ملا؟حاصل حصول کیا ہوا؟ ناچیز نے اوپر ’’نائن الیون سے باب المندب تک‘‘ کا جو عنوان باندھا ہے تھوڑی اس کی بھی وضاحت پیش خدمت ہے۔ باب المندب بھی ہرمز جیسی ہی آبنائے، تنگنائےیا سٹریٹ ہے دونوں کو بند کرنے میں کوشاں ایک ہی مائنڈ سیٹ ہے، بلا شبہ نو کروڑ روشن خیال ایرانی عوام سیال سونے کی دولت سے مالا مال عظیم قوم ہیں لیکن بدقسمتی سے نصف صدی قبل وہ اگر ایک شاہی جبر کا شکار تھے تو آج بھی انتہا پسندی کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔
آج اسٹریٹ آف ہرمز کو ایران نے بند کر رکھا ہے تو یمن میں انہی کےہم خیال حوثی اور انصار اللہ نے سعودی عرب کا ناطقہ بند کرنے کیلئے نہ صرف یہ کہ باب المندب کا گھیراؤ کر رکھا ہے بلکہ سعودیہ عربیہ پر ڈرونز اور میزائل کے ساتھ بارود پھینک رہے ہیں۔ یہ حملے یمن کی اطراف بحرۂ احمر سے ملحق سعودی شہروں ابہا،خمیس، مشیط، نجران اور جازان میں ہوئے ہیں۔ جازان میں آرامکو کی آئل ریفائنریز ان حملوں کی زد میں آئی اور کئی مقامات پر آگ لگ گئی، یہ 2022ء کے بعد سعودی عرب پر ہونیوالا بڑا حملہ تھا جسے خود حوثیوں نے سعودی عرب کیخلاف جوابی فوجی کارروائی قرار دیا اور سعودیوں نے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے ڈپلومیسی کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔
امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر اس حملے کا ذمہ دار ایرانی پاسداران کو قرار دیا ہے جن کی یہ حوثی باغی پراکسی ہیں جبکہ ایرانی تسنیم نیوز نے اپنے جزیرے خارگ اور جاسک شہر پر امریکی حملوں کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی جواباً امریکی فوجی اڈوں پر حملے کریں گے۔ علاوہ ازیں حوثی سرکاری میڈیا نے بیان جاری کیا ہے کہ ہمارے میزائلوں نے ابہاانٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور جازان میں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو ٹارگٹ کیا ہے۔ ایرانیوں نے ایک امریکی آبدوز پر قبضہ کرنے اور ایک ڈرون مار گرانے کا دعوی بھی کیا ۔
پاکستان سے لیکر یو این سیکریٹری جنرل تک سبھی نے سعودی عرب پر ہونیوالےحوثی حملوں کی مذمت کی ۔ ہمارے پرائم منسٹر نے کہا کہ سعودی عرب پر حالیہ حملہ علاقائی امن کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ میڈیا میں البتہ اس نوع کے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ مکہ معاہدہ کی مطابقت میں پاکستان اور ترکیہ سعودیوں کی معاونت میں کہاں تک جا سکتے ہیں؟۔ بات شروع ہوئی تھی نائن الیون کے القاعدہ حملوں اور انصار اللہ کے تازہ حملوں میں مماثلت کی،تو سوال یہ ہے کہ عربوں میں مسلکی اختلاف کے باوجود اپنے ٹارگٹس کے حوالے سے اتنی مماثلت کیوں ہے؟ اس حوالےسےکسی اوروقت تفصیل سےبات ہوگی۔
اب بات کرتے ہیں ایک اندوہناک قتل کی ۔ چند روز قبل مریدکے کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت،سابق چیئرمین بلدیہ میرے دوست شیخ شبیر مرحوم کو انتہائی دردناک طریقے سے قتل کر دیا گیا۔شیخ شبیر تو محبتیں بانٹنے والے انسان تھے ان کی تو کسی سے دشمنی نہ تھی، ہم نے نوجوانی کا جو دور مریدکے میں اکٹھے گزارا ،پروردگار ان کی فیملی کو صبر جمیل عنایت فرمائے ۔ وہ اپنی گاڑی پر رات دس بجے کے قریب مریدکے سے لاہور آ رہے تھے جب کالا شاہ کاکو رائس ریسرچ سنٹر کے قریب دو گاڑیوں میں سوار قاتلوں نے ایک گاڑی آگے اور ایک پیچھے لگاتے ہوئے ان پر گولیوں کی بوچھاڑکر دی۔ دو سو کے قریب گولیاں ان کی گاڑی کو لگیں اور درجن بھر ان کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ اگرچہ ان کے بھائی میاں کبیر کی مدعیت میں چھ نامعلوم قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے لیکن پولیس ہنوزان ظالم وحشیوں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ مرحوم شیخ شبیر ہمارے علاقے کی سب سے مقبول اور بااثر شخصیت وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے ساتھی تھے۔ ان وحشی درندوں کو پکڑتے ہوئے قرار واقعی سزا دینا نہ صرف رانا صاحب کیلئے بلکہ پنجاب حکومت کیلئے بھی ایک طرح سے چیلنج ہے۔ ہماری چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز کا یہ کہنا قابل فہم ہے کہ ہمارے صوبے میں جرائم پیشہ دہشت گرد ہمسایہ ملک سے نہیں ہمسایہ صوبوں سے آ رہے ہیں۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال اگرچہ دوسرے صوبوں کی نسبت بہتر قرار دی جا سکتی ہے لیکن قابل اطمینان یا تسلی بخش ہرگز نہیں۔ اس حوالے سے جرائم پیشہ وارداتیے کہیں اور سے آئیں نہ آئیں مقامی سطح پر بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ مریدکے میں بھتہ خوری کی شکایات بھی زبان زد عام و خاص ہیں۔بہر کیف جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کا قلع قمع پنجاب حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
واپس کریں