دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شعبہ انتہائی نگہداشت خیبر پختونخوا : جہاں ایک کی موت دوسرے کی زندگی ہوتی ہے
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ رات تقریباً دو بجے ایک انسان زندگی کی جنگ ہار گیا، مگر اس کی موت سے پہلے اس کے لواحقین ایک اور جنگ لڑتے رہے۔ انہیں شعبہ انتہائی نگہداشت میں بستر درکار تھا۔ پہلے لیڈی ریڈنگ ہسپتال گئے، وہاں بستر دستیاب نہیں تھا۔ پھر خیبر ٹیچنگ ہسپتال، جسے عام طور پر شیرپاؤ ہسپتال بھی کہا جاتا ہے، کا رخ کیا، مگر وہاں بھی کوئی بستر خالی نہیں تھا۔ آخرکار حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پہنچے تو معلوم ہوا کہ میڈیکل شعبہ انتہائی نگہداشت میں صرف آٹھ بستر ہیں اور ان میں سے ایک بھی خالی نہیں۔ ہر جگہ ایسے مریض موجود تھے جنہیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت درکار تھی اور ہر خاندان اپنے عزیز کے لیے اس ایک بستر کی تلاش میں تھا جس کے ملنے اور نہ ملنے کے درمیان زندگی اور موت کا فاصلہ تھا۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے انچارج ڈاکٹر ثنا اللہ سے جب میں نے بستر کی دستیابی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے خود اجازت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں منسوب کیا جا سکتا ہے کہ ’’بستر تب ملتا ہے جب خالی ہو اور خالی تب ہوتا ہے جب کوئی صحت مند ہو کر ڈسچارج ہوتا ہے یا کوئی مرتا ہے۔ صحت مند ہونے کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، اس لیے مرنے پر سب کی نظر ہوتی ہے۔‘‘
یہ ایک ڈاکٹر کا محض انتظامی جواب نہیں بلکہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے نظام کی ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کا بستر حاصل کرنا بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک مریض کے لیے جگہ دوسرے مریض کی زندگی کے اختتام سے پیدا ہو رہی ہو۔ ایک طرف کوئی خاندان اپنے عزیز کی زندگی بچانے کے لیے بستر تلاش کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف بستر کے منتظر خاندانوں کی نگاہیں اس امید پر لگی ہوتی ہیں کہ کوئی مریض صحت یاب ہو کر گھر جائے یا کوئی بستر موت کے بعد خالی ہو جائے۔ یہ صورت حال طبی ضرورت سے زیادہ ہمارے نظام کی ناکافی گنجائش کا نوحہ ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ انتہائی نگہداشت کے لیے باقاعدہ سرکاری انتظار فہرست موجود ہے۔ انتظار فہرست کسی معمول کے علاج، معائنے یا ایسے آپریشن کے لیے قابل فہم ہو سکتی ہے جسے کچھ وقت مؤخر کیا جا سکے، مگر انتہائی نگہداشت کا مریض کسی معمول کی قطار کا مریض نہیں ہوتا۔ اسے مسلسل نگرانی، مصنوعی تنفس، مخصوص ادویات، طبی آلات اور تربیت یافتہ عملے کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے مریض کو یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ بستر دستیاب ہونے تک انتظار کریں، کیونکہ انتہائی نگہداشت میں گزرتا ہوا ہر لمحہ مریض کی حالت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف حیات آباد میڈیکل کمپلیکس تک محدود نہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال جیسے بڑے سرکاری مراکز بھی شدید نوعیت کے مریضوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی آبادی چار کروڑ سے زیادہ ہے اور صوبے کے بڑے ہسپتال صرف اپنے شہر کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے بلکہ دور دراز اضلاع سے آنے والے ہزاروں مریض بھی انہی مراکز کا رخ کرتے ہیں۔ جب ضلع کی سطح پر مناسب انتہائی نگہداشت دستیاب نہ ہو تو مریض کو پشاور لایا جاتا ہے، پھر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے اور آخرکار لواحقین کے سامنے ایک ایسا نظام آ جاتا ہے جہاں بستر موجود نہیں ہوتا مگر مریض کو فوری طور پر بستر درکار ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال حکومت سے بنتا ہے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جیسے بڑے ہسپتال کے شعبہ انتہائی نگہداشت میں صرف آٹھ بستروں کی گنجائش کیوں ہو اور اس گنجائش کو بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کیا کیا جا رہا ہے؟ انتہائی نگہداشت کی ضرورت محض ایک کمرہ، چند بستر یا چند مشینیں نہیں۔ اس کے لیے تربیت یافتہ ڈاکٹر، نرسیں، طبی معاون عملہ، مصنوعی تنفس کی مشینیں، مسلسل نگرانی کے آلات، آکسیجن، بجلی کا متبادل انتظام، ادویات اور چوبیس گھنٹے نگہداشت کا مکمل نظام درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے اس شعبے کی توسیع ایک سنجیدہ طبی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتی ہے، مگر اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ضرورت کے مقابلے میں گنجائش کم ہو تو باقی تمام سہولتیں اپنی جگہ بے معنی ہو جاتی ہیں۔
سرکاری ہسپتال میں بستر نہ ملنے کا اگلا دروازہ نجی ہسپتال کا ہے، مگر یہاں مسئلہ ایک مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے۔ میری باقاعدہ فیلڈ تحقیق کے دوران بڑے نجی ہسپتالوں میں شعبہ انتہائی نگہداشت کے لیے تقریباً ایک لاکھ روپے فی چوبیس گھنٹے تک کے نرخ سامنے آئے، جبکہ کم درجے کی بعض نجی طبی سہولتوں میں بھی ایک بستر کا روزانہ خرچ تقریباً اٹھارہ ہزار روپے تک ہے۔ یہ صرف بستر کا خرچ ہے؛ ڈاکٹر کی فیس، ادویات، ٹیسٹ، طبی آلات، مصنوعی تنفس اور دوسری خدمات کے اخراجات الگ ہوتے ہیں۔ ایک متوسط یا غریب خاندان کے لیے یہ رقم محض ایک طبی خرچ نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی کی جمع پونجی ختم کرنے کا آغاز ہو سکتی ہے۔
یہاں نجی ہسپتالوں کے کردار اور ریاستی نگرانی کا سوال بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کی نگرانی کے لیے قانونی ادارہ اور ضابطہ موجود ہے، مگر مریض کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ نگرانی عملی طور پر کتنی مؤثر ہے۔ نجی ہسپتالوں کے علاج کے نرخ، شعبہ انتہائی نگہداشت کے روزانہ اخراجات، مختلف مدات میں وصول ہونے والے بل، ہنگامی خدمات اور مریضوں کے حقوق کے بارے میں واضح، قابل عمل اور شفاف نظام ہونا چاہیے۔ قانون کتاب میں موجود ہو اور مریض ہسپتال کے کاؤنٹر پر بے بس کھڑا ہو تو ریاستی نگرانی کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔
نجی ہسپتالوں کے بلوں کا معاملہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ ایک خاندان جب اپنے عزیز کی جان بچانے کے لیے شعبہ انتہائی نگہداشت میں داخل کراتا ہے تو اس وقت وہ قیمتوں پر بحث کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ اس کی ترجیح صرف زندگی بچانا ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کو مریض اور طبی ادارے کے درمیان طاقت کے اس غیر مساوی تعلق میں کمزور فریق کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ علاج کے نرخ، اضافی خدمات، ادویات، ٹیسٹ، مشینوں کے استعمال اور دیگر اخراجات کی واضح تفصیل اور باقاعدہ نگرانی ضروری ہے تاکہ ہنگامی حالت کسی خاندان کو مالی استحصال کے سامنے بے یار و مددگار نہ چھوڑ دے۔
مریض کی زندگی بچانے کے بعد بھی اس خاندان کی آزمائش ختم نہیں ہوتی۔ میری تحقیق کے دوران یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ہسپتال مریض کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنے یا موت کے بعد میت گھر پہنچانے کے لیے اپنی ایمبولینس فراہم نہیں کرتے۔ ہسپتالوں کے باہر کھڑی بہت سی نجی ایمبولینسوں کی حالت بھی ایک الگ سوال ہے۔ متعدد گاڑیاں سوزوکی کیری یا عام گاڑیوں کی شکل میں ہیں، جن پر صرف ایمبولینس لکھا ہوتا ہے اور سرخ گھومنے والی بتی نصب ہوتی ہے۔ ان میں طبی عملہ موجود نہیں ہوتا، بلکہ اکثر صرف ایک ڈرائیور مریض یا میت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہنگامی طبی منتقلی اور صرف ایک گاڑی میں مریض یا میت لے جانے کے درمیان فرق کو قانون اور نگرانی کے ذریعے واضح کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پشاور سے چارسدہ تک ایمبولینس کے لیے دس ہزار روپے تک وصول کیے جانے کا معاملہ بھی میری تحقیق میں سامنے آیا جو کمترین کرایہ ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اس فاصلے کے لیے یہ کرایہ غیر معمولی ہے اور حکومت کو فاصلے، ایندھن اور حقیقی اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے باقاعدہ نرخ مقرر کرنے چاہئیں۔ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ جب گھر میں موت واقع ہو چکی ہو تو سوگوار خاندان کے پاس بحث کرنے کی طاقت بھی نہیں رہتی۔ ایسے حالات میں اگر کوئی نظام غم زدہ انسان کی مجبوری کو منافع کا موقع بنا دے تو وہ طبی سہولت نہیں رہتا، ایک ایسا بازار بن جاتا ہے جہاں انسان کی بے بسی کی قیمت لگائی جاتی ہے۔
میت کی منتقلی اور ہسپتال کے واجبات کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ تحقیق میں یہ مسئلہ سامنے آیا کہ بعض نجی ہسپتالوں میں بقایا بل کی ادائیگی تک میت حوالے نہ کرنے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور اگر میت کچھ دن ہسپتال میں رہے تو سرد خانے کے اخراجات بھی شامل ہوتے رہتے ہیں۔ ایک خاندان جس نے پہلے علاج کے لیے اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کیا، پھر اپنے عزیز کو کھو دیا، اسے اس کے بعد بھی مالی مطالبات اور میت کی حوالگی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے تو یہ انسانی حقوق، مریضوں کے حقوق اور ریاستی نگرانی تینوں کے لیے سنجیدہ سوال ہے۔ علاج کا بل اپنی جگہ ایک قانونی معاملہ ہو سکتا ہے، مگر میت کو مالی تنازع کا ذریعہ بننے سے روکنے کے لیے واضح قانون اور مؤثر طریقہ کار ضروری ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ نجی ہسپتال مہنگے کیوں ہیں یا ایمبولینس کا کرایہ زیادہ کیوں ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سرکاری نظام میں اتنی گنجائش کیوں نہیں کہ کسی شدید بیمار انسان کو ایک سرکاری ہسپتال سے دوسرے سرکاری ہسپتال اور پھر تیسرے ہسپتال کے دروازے تک لے جانا پڑے۔ اگر ایک ضلع میں مناسب انتہائی نگہداشت کی سہولت موجود ہو تو مریض کو پشاور کے بڑے ہسپتالوں کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ اگر بڑے ہسپتال میں بستر نہ ہو تو صوبے کے دوسرے ہسپتال میں موجود خالی بستر کا فوری علم ہونا چاہیے۔ اگر سرکاری بستر کہیں دستیاب نہیں تو حکومت کو نجی شعبے سے عارضی طور پر گنجائش حاصل کرنے کا نظام بنانا چاہیے تاکہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے کسی مریض کو صرف اس لیے موت کے قریب نہ پہنچنا پڑے کہ سرکاری بستر ختم ہو چکے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ہر ضلع کے بڑے سرکاری ہسپتال میں مناسب شعبہ انتہائی نگہداشت ہونا چاہیے اور ضلعی صدر ہسپتالوں کی موجودہ گنجائش کو مرحلہ وار بڑھایا جانا چاہیے۔ بڑے تدریسی ہسپتالوں میں بھی مریضوں کی تعداد، بیماریوں کی نوعیت اور علاقے کی آبادی کے مطابق مزید شعبے قائم کیے جانے چاہئیں۔ اس کے ساتھ پورے صوبے میں انتہائی نگہداشت کے بستروں کا مرکزی برقی نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں ہر ہسپتال کے دستیاب، زیر استعمال اور متوقع خالی ہونے والے بستروں کی تازہ معلومات موجود ہوں۔ اس سے ڈاکٹر کو معلوم ہو گا کہ مریض کو کہاں منتقل کیا جا سکتا ہے اور لواحقین کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھٹکنے سے بچایا جا سکے گا۔
اسی طرح ایمبولینس کے لیے بھی ایک مربوط سرکاری نظام ضروری ہے۔ ہر بڑے سرکاری ہسپتال کے پاس مریضوں کی منتقلی اور میت کی منتقلی کے لیے مناسب گاڑیاں، تربیت یافتہ عملہ اور واضح نرخ ہونے چاہئیں۔ نجی ایمبولینسوں کی باقاعدہ رجسٹریشن، گاڑی کی طبی اہلیت، عملے کی تربیت، حفاظتی معیار اور کرایوں کی نگرانی ہونی چاہیے۔ صرف گاڑی پر ایمبولینس لکھ دینے اور سرخ بتی لگا دینے سے کوئی گاڑی طبی ایمبولینس نہیں بن جاتی۔
انتہائی نگہداشت کے ایک بستر کی لاگت اپنی جگہ ایک اہم سوال ہے، مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ریاست ایک ایسے بستر کی عدم دستیابی کی قیمت کتنی ادا کر رہی ہے جس کی ضرورت کسی انسان کو آج، اسی لمحے پڑتی ہے۔ تعمیراتی منصوبے مؤخر ہو سکتے ہیں، معمول کے علاج کے لیے مریض انتظار کر سکتے ہیں، مگر انتہائی نگہداشت کا مریض انتظار کی فہرست میں اپنی باری کا انتظار نہیں کر سکتا۔ حکومت اگر واقعی ہنگامی صحت کی سہولت بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے ہر ضلع کے لیے کم از کم مطلوبہ گنجائش طے کرکے اس کے مطابق بجٹ، عملہ اور آلات فراہم کرنا ہوں گے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صحت کا مسئلہ صرف ہسپتال بنانے سے حل نہیں ہوتا۔ ہسپتال میں بستر موجود ہو مگر ڈاکٹر نہ ہو، ڈاکٹر ہو مگر نرس نہ ہو، مشین ہو مگر اسے چلانے والا تربیت یافتہ عملہ نہ ہو، آکسیجن کا نظام ہو مگر بجلی کا متبادل انتظام نہ ہو تو انتہائی نگہداشت مکمل نہیں ہوتی۔ اسی لیے حکومت کو ضلع وار ضرورت کا تخمینہ، بستروں کی تعداد، عملے کی ضرورت، آلات، ادویات اور سالانہ اخراجات کو ایک مربوط منصوبے میں شامل کرنا چاہیے۔
ایک ایسے صوبے میں جہاں ہر روز ہزاروں خاندان علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، انتہائی نگہداشت کو چند بڑے شہروں تک محدود رکھنا مستقبل کے بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ انتہائی نگہداشت کی کمی صرف آج کے مریض کو متاثر نہیں کرتی، یہ کسی بھی وقت کسی بھی گھر کے دروازے پر پہنچ سکتی ہے۔ آج جو خاندان بستر تلاش کر رہا ہے، کل وہ خاندان ہم میں سے کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے صرف آٹھ بستروں کی حقیقت ہمیں ایک بہت بڑا سوال دے کر جاتی ہے۔ جب ایک مریض زندگی بچانے کے لیے بستر کا منتظر ہو اور دوسرے مریضوں کے لواحقین بھی اسی بستر کی قطار میں کھڑے ہوں تو ریاست صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ بستر خالی نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ ضرورت کے مطابق بستر پیدا کرے، ضلع کی سطح پر انتہائی نگہداشت پہنچائے، بڑے ہسپتالوں کی گنجائش بڑھائے، نجی شعبے کے نرخ اور بلوں کی نگرانی کرے، ایمبولینس کے نام پر چلنے والے کاروبار کو ضابطے میں لائے اور موت کے بعد بھی سوگوار خاندان کو مالی بے بسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے۔
ڈاکٹر ثنا اللہ کے الفاظ میں بستر تب ملتا ہے جب وہ خالی ہو، اور خالی تب ہوتا ہے جب کوئی صحت یاب ہو کر ڈسچارج ہو یا کوئی مر جائے۔ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد کم ہو تو سب کی نظریں مرنے والے پر لگ جاتی ہیں۔ ایک ذمہ دار صحت کا نظام وہ نہیں ہو سکتا جہاں ایک مریض کی زندگی کے لیے دوسرے مریض کے بستر خالی ہونے کا انتظار کیا جائے۔ حکومت کو ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں انتہائی نگہداشت کا بستر کسی کی موت کا منتظر نہ ہو، بلکہ ضرورت مند کی زندگی بچانے کے لیے پہلے سے موجود ہو۔
واپس کریں