دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یمن کا پھندا اور بارود کاڈھیر
محمد نعیم قریشی
محمد نعیم قریشی
گزشتہ کئی دنوں سے ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ آخر اس دنیا کے امن کو ہو کیا گیا ہے؟ ایک محاذ کی آگ ابھی بجھتی نہیں کہ دوسری طرف بارود سلگنے لگتا ہے۔ غزہ کی تباہی اور بے دخلی کا المیہ اپنی جگہ، ایران کی جنگ نے پورے خطے کو ایک نئے اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے اور اب یمن سے آنے والی خبریں یہ خدشہ بڑھا رہی ہیں کہ کہیں مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی ہمہ گیر کشمکش کی طرف تو نہیں بڑھ رہا جس میں ایک کے بعد دوسرا ملک کھنچتا چلا جائے۔
یمن کوئی نیا میدانِ جنگ نہیں۔ ستمبر 2014 میں حوثیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد شروع ہونے والا بحران اگلے برس سعودی قیادت میں فوجی مداخلت تک پہنچا اور پھر برسوں کی جنگ، بھوک، نقل مکانی اور معاشی تباہی نے اس ملک کو ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل کردیا۔ اپریل 2022 کی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد محاذوں پر نسبتاً سکون ضرور آیا تھا، مگر بنیادی تنازع کبھی ختم نہیں ہوا۔ اب وہی پرانی آگ ایک مرتبہ پھر شعلوں میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں یمنی حکومت سے وابستہ افواج اور حوثیوں کے درمیان تعز، الحدیدہ، مارب اور دوسرے علاقوں میں جھڑپیں بڑھی ہیں۔ یمنی سرکاری فورسز فضائی اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کر رہی ہیں۔ دوسری طرف حوثیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ صرف 48 گھنٹوں میں سعودی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں 129 فضائی حملے کیے۔ ریاض کی جانب سے اس مخصوص تعداد کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، لیکن حوثیوں کی سعودی عرب کو جوابی کارروائی کی دھمکی نے خطرے کی گھنٹی ضرور بجا دی ہے۔
اصل تشویش صرف یمن کے چند شہروں یا پہاڑی محاذوں تک محدود نہیں۔ باب المندب آج اس پوری جنگ کا سب سے حساس نقطہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ وہ سمندری دروازہ ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور آگے بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ حوثیوں کی سرگرمیوں اور اس اہم بحری گزرگاہ کے گرد بڑھتی کشیدگی نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ایک طرف آبنائے ہرمز ایران جنگ کے باعث دباؤ میں ہے اور دوسری طرف باب المندب غیر محفوظ ہو جائے تو عالمی معیشت کے لیے مسئلہ صرف علاقائی جنگ نہیں رہے گا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے لیے معاملہ محض دور بیٹھ کر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ دیکھنے کا نہیں رہتا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد اب غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ سعودی سرزمین پر حوثی حملوں کے بعد فطری طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تصادم مزید بڑھتا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟ کیا اتحاد کا تقاضا پاکستان کو عملی فوجی کردار کی طرف لے جائے گا، یا اسلام آباد سفارت کاری اور دفاعی تعاون تک محدود رہتے ہوئے خطے میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا؟
اسی تناظر میں معروف تجزیہ کار عبداللہ حمید گل نے اپنے والد اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کا حوالہ دیتے ہوئے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’یمن ایک پھندا ہے اور جو فوج اس میں پھنس گئی، وہ اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکے گی۔‘‘ آج خطے میں تیزی سے بدلتے حالات کو دیکھا جائے تو یہ تنبیہ ایک بار پھر غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی محسوس ہوتی ہے۔
پاکستان کے لیے یہی سب سے نازک امتحان ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم دفاعی شراکت دار ہے، لیکن ایران بھی پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ تقریباً نو سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد، بلوچستان کی حساس صورتِ حال اور خطے کے فرقہ وارانہ توازن کو دیکھتے ہوئے پاکستان کسی ایسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا جس میں سعودی عرب کی حمایت کرتے کرتے وہ براہِ راست ایران یا اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ تصادم میں داخل ہوجائے۔
اس لیے اتحاد کا ساتھ نبھانے اور خود جنگ کا حصہ بن جانے میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے دفاع، انٹیلی جنس تعاون، فضائی و میزائل دفاع اور سفارتی حمایت میں کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن یمن کے اندر کسی وسیع زمینی جنگ میں داخل ہونا آخری اور انتہائی غیر معمولی آپشن ہونا چاہیے۔ پاکستان کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ترکی، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے جنگ کا دائرہ محدود کرائے۔ کیونکہ اگر ایران کی موجودہ جنگ، یمن کا محاذ اور خلیج میں بڑھتی کشیدگی ایک ہی بڑی جنگ میں تبدیل ہوگئے تو پاکستان کے لیے غیر جانب دار توازن برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہوجائے گا۔
آنے والے دنوں کے کم از کم تین ممکنہ منظرنامے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ سعودی عرب محدود فوجی کارروائی کے بعد حوثیوں کو مذاکرات کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرے اور مکہ اتحاد سیاسی و دفاعی دباؤ تک محدود رہے۔ دوسرا یہ کہ حوثی سعودی شہروں، فوجی اڈوں یا تیل کی تنصیبات پر بڑے حملے جاری رکھیں اور ریاض اتحادی ممالک سے عملی مدد طلب کرے۔ یہ پاکستان کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ہوگا۔
تیسرا اور سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہے کہ ایران جنگ، یمن کے حوثی، عراق میں سرگرم مسلح گروہ اور خلیجی ریاستوں کے مختلف محاذ ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔ تب جنگ یمن یا ایران کی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بن سکتی ہے۔ ہرمز اور باب المندب جیسے دو انتہائی اہم بحری راستوں پر بیک وقت دباؤ پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
اور اس سارے نقشے کے بیچ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ اور غیر متوقع سیاست ایک الگ سوال ہے۔ امریکہ آج بھی دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقتوں میں سرفہرست ہے، لیکن تاریخ بار بار بتاتی ہے کہ سپر پاور ہونا اور ہر جنگ کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ افغانستان اور عراق کے تجربات سامنے ہیں۔ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کے انجام، ردعمل اور آنے والی نسلوں پر پڑنے والے اثرات کو قابو میں رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت ایک اور فاتح کی نہیں، ایک راستہ نکالنے والے کی ضرورت ہے۔
بارود کا مسئلہ یہی ہے کہ اسے آگ لگانے والا ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ شعلے اس کے قابو میں رہیں گے۔ مگر غزہ سے ایران، ہرمز سے باب المندب اور اب یمن سے سعودی سرحد تک پھیلتی کشیدگی بتا رہی ہے کہ آگ سرحدوں کے نقشے نہیں پڑھتی۔
پاکستان کو اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ضرور ہونا چاہیے، مگر اس سے بھی بڑھ کر اسے امن کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ مکہ اتحاد اگر جنگ کو پھیلانے کے بجائے جنگ روکنے کے لیے اجتماعی طاقت اور سفارتی دباؤ کا ذریعہ بنے تو شاید یہی اس اتحاد کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
ورنہ آنے والی تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ جب پورا مشرقِ وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا تھا تو دنیا آگ بجھانے میں مصروف تھی یا اپنے اپنے حصے کی ماچس تلاش کر رہی تھی؟ ۔ نوٹ: قارئین اپنی رائے ایس ایم ایس یا واٹس ایپ کے ذریعے ارسال کرسکتے ہیں۔
واپس کریں