نو منتخب وزیر اعظم آذاد کشمیر کی ترجیحات کیا ہونی چاہیں؟

آزاد جموں و کشمیر میں حال ہی میں ہونے والے انتخابات کے بعد بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے 28 اگست 2026 کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ وہ آزاد کشمیر کے سترہویں وزیر اعظم بنے اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے 30 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔ ان کی حکومت کو ایک ایسے وقت میں ذمہ داری ملی ہے جب ریاست حالیہ احتجاجات، سیکیورٹی خدشات، معاشی مشکلات اور سیاسی پولرائزیشن کا سامنا کر رہی ہے۔ نو منتخب وزیر اعظم کی ترجیحات کا تعین ان چیلنجز کے تناظر میں ہونا چاہیے تاکہ آزاد کشمیر کو استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
سب سے فوری ترجیح امن و امان کی بحالی اور عوامی مفاہمت ہونی چاہیے۔ حالیہ مہینوں میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجات نے علاقے میں کشیدگی پیدا کی، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ بندش، سڑکوں کی رکاوٹیں اور کچھ اضلاع میں انتخابات ملتوی ہوئے۔ وزیر اعظم نے خود دو دن میں انٹرنیٹ اور راستے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ان وعدوں پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔ ساتھ ہی، حراست میں لیے گئے افراد کے مقدمات کا جائزہ، نقصانات کا معاوضہ اور باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ پولرائزیشن کم ہو اور ریاست میں اعتماد بحال ہو۔
دوسری اہم ترجیح نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع ہے۔ آزاد کشمیر میں بے روزگاری، خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں میں، ایک بڑا چیلنج ہے۔ وزیر اعظم نے حلف برداری کے بعد نوجوان نسل کو روزگار فراہم کرنے، میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنانے اور ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے علاوہ نجی شعبے، سیاحت، ہائیڈرو پاور، زراعت اور معلوماتِ ٹیکنالوجی میں مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ "بولو کشمیر" جیسے سٹیزن پورٹل کے ذریعے شکایات کا فوری ازالہ اور شفاف نظام قائم کرنا بھی اس سمت میں اہم قدم ہوگا۔
تیسری ترجیح صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری ہے۔ بنیادی طبی سہولیات، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور دیہی علاقوں میں صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا عوام کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسی طرح تعلیم میں معیار بلند کرنا، انٹرنیٹ کی بحالی سے آن لائن تعلیم کو ممکن بنانا اور ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ یہ دونوں شعبے نہ صرف انسانی ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ نوجوانوں کو گمراہی سے بچانے اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
چوتھی ترجیح اچھی حکمرانی، شفافیت اور کرپشن کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔ میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں، عوامی وسائل کا درست استعمال اور احتساب کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ بجلی کے نرخوں، ٹیکسوں اور مہنگائی جیسے مسائل جو احتجاجات کا باعث بنے، ان پر وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر عملی حل تلاش کرنا چاہیے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی، سڑکوں اور رابطوں کی بہتری، اور سیاحت کو فروغ دے کر مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔پانچویں اور طویل المدتی ترجیح تحریک آزادی کشمیر اور سیاسی موقف ہے۔ نو منتخب وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد تک حل نہیں ہو سکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کی مذمت اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔ تاہم، اندرونی استحکام کے بغیر بیرونی موقف کمزور پڑ سکتا ہے، اس لیے داخلی مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے تحریک آزادی کو مضبوط بنانا چاہیے۔
وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ اور پنجاب جیسے ترقیاتی ماڈل سے استفادہ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کو ایک مثال بنانا چاہیے۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت نے 100 دن کے اصلاحاتی پروگرام کی بات کی ہے جس میں صحت، تعلیم، صفائی اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ اس پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ سات خالی نشستوں پر انتخابات مکمل کرنا بھی ضروری ہے۔
نو منتخب وزیر اعظم افتخار گیلانی کے سامنے موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ اگر وہ فوری ریلیف، شفاف حکمرانی، روزگار اور مفاہمت پر توجہ دیں تو آزاد کشمیر نہ صرف اپنے عوام کے لیے بہتر مستقبل بنا سکتا ہے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کا نمونہ بھی بن سکتا ہے۔ عوام کی امیدیں اب ان کے عملی اقدامات پر منحصر ہیں۔
واپس کریں