دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دنیا میزائل گن رہی ہے اور پاکستانی انڈے۔ محمد اکرم چوہدری
No image ایران اور امریکہ چھ ماہ سے ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کبھی بند ہونے کے قریب پہنچتی ہے، کبھی کھلنے کی خبر آتی ہے۔ قطر اور عمان صلح کرانے نکلتے ہیں۔ پاکستان درمیان میں پیغام پہنچاتا ہے۔ امریکہ پابندیاں سخت کرتا ہے اور ایران کہتا ہے ہم نہیں جھکیں گے۔
آپ کہیں گے، بھائی ہمیں کیا؟
ہمیں تو بہت کچھ ہے۔
ایران پر میزائل گرے تو لاہور میں پٹرول مہنگا ہوسکتا ہے۔ ہرمز میں جہاز رکے تو کراچی میں بجلی مہنگی ہوسکتی ہے۔ روس ڈیزل روک دے تو عالمی منڈی ہل سکتی ہے۔ ڈالر چڑھے تو دوا، موبائل، مشینری، دال، تیل سب کی قیمت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
یعنی جنگ ان کی ہوتی ہے، بل ہمارا آتا ہے۔
آبنائے ہرمز کو نقشے پر دیکھیں تو سمندر کی ایک پتلی سی گلی لگتی ہے۔ مگر یہ گلی بند ہو تو دنیا کے تیل کا بخار چڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے کبھی ہرمز کھلنے کی معمولی امید پیدا ہوتی ہے تو تیل نیچے آنے لگتا ہے، اور خطرہ بڑھے تو بازار پھر اچھل پڑتا ہے۔
پاکستان کی اصل پریشانی یہی ہے۔
ہم تیل کے کنویں پر نہیں بیٹھے۔ ہمیں تیل اور گیس خریدنی پڑتی ہے۔ ڈالر دے کر خریدنی پڑتی ہے۔ تیل مہنگا ہو تو صرف پٹرول پمپ متاثر نہیں ہوتا۔
سبزی والا بھی متاثر ہوتا ہے۔
بس والا بھی۔
کسان بھی۔
فیکٹری والا بھی۔
اور آخر میں وہی شخص متاثر ہوتا ہے جس کی تنخواہ مہینے میں ایک مرتبہ بڑھتی نہیں، مگر قیمتیں مہینے میں کئی مرتبہ بڑھ سکتی ہیں۔
اسی لیے پاکستان اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے محض سفارتی فوٹو سیشن نہ سمجھے۔ ہرمز محفوظ ہوجائے، تیل نیچے آئے اور جنگ پھیلے نہیں تو اس کا فائدہ پاکستانی جیب تک پہنچ سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک دوسرا پھندا بھی ہے۔
امریکہ اب ایران پر صرف میزائل اور بیانات سے دباؤ نہیں ڈال رہا، ڈالر سے بھی لڑ رہا ہے۔
ایران سے منسلک مالی نیٹ ورک کے الزام میں مصر کے Misr Banque کی متحدہ عرب امارات والی شاخیں امریکی کارروائی کی زد میں آگئیں۔ پاکستان کے لیے اس خبر میں صاف سبق ہے۔
ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔
اسے اٹھا کر بحرِ اوقیانوس کے پار نہیں رکھا جاسکتا۔
ہمیں ایران سے امن بھی چاہیے، تجارت بھی، محفوظ سرحد بھی اور ممکن ہو تو توانائی بھی۔ مگر دوسری طرف پاکستان ایسا مالی خطرہ بھی مول نہیں لے سکتا جس سے اس کے بینک امریکی پابندیوں کی زد میں آجائیں۔
گویا ایک ہاتھ تہران سے ملانا ہے اور دوسرا واشنگٹن سے چھڑانا بھی نہیں۔
یہی سفارت کاری ہے۔
اور اسی دوران بھارت امریکہ سے Javelin اینٹی ٹینک میزائل خرید رہا ہے۔
یہ خبر بھی پاکستانی کو سننی چاہیے، مگر گھبرانا نہیں چاہیے۔ پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط رکھنا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا قومی سلامتی صرف میزائل کا نام ہے؟
پمز اسلام آباد میں چودہ نومولود بچے آگ میں جان سے چلے گئے۔
ذرا اس ایک واقعے کو عالمی سیاست کے برابر رکھ کر دیکھئے۔
ہم ہرمز کی حفاظت پر گفتگو کررہے ہیں، مگر اپنے ہسپتال کی نرسری محفوظ نہ رکھ سکے۔
ہمیں دشمن کے میزائل کا توڑ چاہیے، ضرور چاہیے۔
مگر ہسپتال میں آگ کا توڑ بھی چاہیے۔
ہمیں مضبوط فوج چاہیے۔
مگر مضبوط ہسپتال بھی چاہیے۔
ہمیں ایٹمی طاقت رہنا ہے۔
مگر ایسی طاقت بھی بننا ہے جہاں ماں بچہ علاج کے لیے ہسپتال دے تو اسے بچہ واپس ملے، لاش نہیں۔
اصل قومی سلامتی یہی مکمل تصویر ہے۔
روٹی بھی۔
روزگار بھی۔
سرحد بھی۔
ہسپتال بھی۔
اور دفاع بھی۔
دنیا اس وقت اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہی ہے۔ امریکہ ایران کو جھکانا چاہتا ہے۔ ایران خود کو بچانا چاہتا ہے۔ روس اپنی جنگ لڑ رہا ہے۔ بھارت اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ قطر اور عمان اپنی سفارتی جگہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان کو بھی ایک بیماری چھوڑ دینی چاہیے:
دوسروں کی لڑائی میں جذباتی فریق بننے کی بیماری۔
نہ امریکہ ہمارا ماموں ہے، نہ ایران ہمارا خالو۔
ملک رشتے داری سے نہیں، مفاد سے چلتے ہیں۔
پاکستان کا مفاد بہت سیدھا ہے: ایران سے جنگ نہ ہو، امریکہ سے تعلق نہ ٹوٹے، ہرمز کھلا رہے، تیل سستا ملے، ڈالر قابو میں رہے، بھارت کے مقابل دفاع مضبوط ہو اور کسی دوسرے کی جنگ کا بل پاکستانی عوام سے وصول نہ کیا جائے۔
کیونکہ اسلام آباد میں بیٹھا وزیر شاید برینٹ آئل کا چارٹ دیکھتا ہو۔
عام آدمی چارٹ نہیں دیکھتا۔
وہ موٹر سائیکل کی سوئی دیکھتا ہے۔
وہ بجلی کا بل دیکھتا ہے۔
وہ بچے کی فیس دیکھتا ہے۔
وہ بیوی کو یہ کہتے سنتا ہے کہ گھی ختم ہوگیا ہے۔
اور پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر خاموش ہوجاتا ہے۔
یہ خاموشی سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے فیصلوں کا آخری نتیجہ اقوامِ متحدہ کی تقریر نہیں ہوتا۔
گھر کا بجٹ ہوتا ہے۔
اس لیے پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان امن کرا سکتا ہے تو ضرور کرائے۔ ہرمز کھلوا سکتا ہے تو پوری طاقت لگائے۔ دنیا میں اپنا سفارتی وزن بڑھا سکتا ہے تو بڑھائے۔
مگر کامیابی کا سرٹیفکیٹ اس دن ملے گا جب اس کا فائدہ عام پاکستانی تک پہنچے گا۔
تیل سستا ہو تو پٹرول سستا ہو۔
ڈالر نیچے آئے تو چیزیں بھی نیچے آئیں۔
معیشت بہتر ہو تو نوکری پیدا ہو۔
اور ریاست مضبوط ہو تو ہسپتال میں بچہ محفوظ ہو۔
ورنہ دنیا کے نقشے پر پاکستان جتنا مرضی بڑا دکھائی دے، گھر کے بجٹ میں چھوٹا ہی رہے گا۔
عام پاکستانی کو تہران فتح نہیں کرنا۔
واشنگٹن بھی نہیں۔
اسے صرف مہینے کی آخری تاریخ تک پہنچنا ہے۔
اور یقین مانیے، آج کے پاکستان میں بعض اوقات یہ بھی کسی عالمی جنگ سے کم نہیں
واپس کریں