دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جب مسائل پہلے سے معلوم ہوں تو نئی انکوائری کیوں؟ عثمان چیمہ
No image پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آگ لگنے سے بچوں کی ہلاکتوں کے بعد یہ سوال ایک بار پھر بڑے پیمانے پر زیرِ بحث ہے کہ حکومت ہر افسوسناک واقعے کے بعد انکوائری کمیٹی تو بنا دیتی ہے لیکن پھر ایک اور سانحہ پیش آتا ہے اور ایک اور کمیٹی قائم کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بار بار انکوائری کے باوجود ملک میں ادارہ جاتی اور انتظامی مسائل کیوں دور نہیں ہو رہے؟
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی افسوسناک واقعے کے بعد انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہو۔ جون سن 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں آگ لگنے سے 11 بچوں کی ہلاکت کے بعد بھی تحقیقات کی گئی تھیں۔ ایسے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات اور نشاندہی کی گئی خامیوں کو کیا واقعی دور کیا جاتا ہے؟
پمز آتشزدگی کے معاملے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ ادارے میں فائر سیفٹی کی خامیوں کی نشاندہی سانحے سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ مئی سن 2024 میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے پمز انتظامیہ کو خط لکھ کر فائر سیفٹی کے حوالے سے متعدد خامیوں کی نشاندہی کی اور تین ماہ کے اندر ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یعنی پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق مسائل کی نشاندہی کسی نئی انکوائری کے بعد نہیں بلکہ حالیہ سانحے سے تقریبا دو سال قبل ہی ہو چکی تھی۔
سابق آئی جی خیبر پختونخوا اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سابق چیئرمین احسان غنی کہتے ہیں، ’’جب مسئلے کا پہلے سے ہی پتا ہو تو انکوائری کمیٹیاں کس نئی بات کا پتا لگائیں گی۔‘‘
مسائل کا پہلے سے علم ہونا اور ان کا تدارک نہ کیا جانا ایک بڑا سوال ہے لیکن اس کے علاوہ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا ایسی تحقیقات کرنے والے افراد اس کی اہلیت بھی رکھتے ہیں یا پھر انہی لوگوں کو یہ انکوائریاں کرنے کے لیے دے دی جاتی ہیں، جو خود اس نظام اور اس کی خرابیوں کا حصہ ہیں؟
احسان غنی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان انکوائری کمیٹیوں کی افادیت اور طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ایسے حساس معاملات کی تحقیقات متعلقہ شعبے کے ماہرین سے کرائی جانی چاہییں۔ ان کا سوال ہے کہ پمز جیسے واقعے کی انکوائری کے لیے شفا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹیو یا کسی دوسرے آزاد اور ماہر شخص کو یہ ذمہ داری کیوں نہیں دی گئی؟
احسان غنی کے مطابق چند دنوں میں ایسی کوئی انکوائری مکمل کرنے کے احکامات جاری کرنا بھی اس کی سنجیدگی اور افادیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی تحقیقات اکثر چند افراد کو معطل کرنے تک محدود رہتی ہیں جبکہ نظام کی بنیادی خامیاں برقرار رہتی ہیں۔
کیا بس دکھاوے کی کارروائیاں ہو رہی ہیں؟
کچھ ماہرین کے مطابق ایسی انکوائریاں محض دکھاوے تک محدود رہتی ہیں اور ان کے نتائج بھی پہلے سے واضح ہوتے ہیں کہ چند افراد کو معطل کر دیا جائے گا، جنہیں بعد میں کسی وقت بحال کر دیا جائے گا۔ اس صورتِ حال میں معطل کیے جانے والے افراد بھی ممکنہ انجام سے آگاہ ہوتے ہیں اور انہیں کسی سنجیدہ کارروائی کا خدشہ نہیں ہوتا۔
سابق جج شاہد جمیل ایسی انکوائری کمیٹیوں سے کسی خاص نتیجے کی امید نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق محض کمیٹیاں بنانے سے نظام کی خامیاں دور نہیں کی جا سکتیں بلکہ پورے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں شاہد جمیل نے کہا کہ ہر شعبے میں خودمختار اور باصلاحیت ادارے قائم کیے جائیں اور اختیارات کو مقامی حکومتوں کی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ لوگ اپنے نمائندوں تک براہِ راست پہنچ سکیں اور اصلاحات کے عمل میں بھی حصہ لے سکیں۔ ان کے بقول، ”میرا ماننا ہے کہ یہ کمیٹیاں کسی مقصد کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ صرف کمیٹی ڈالنے کی حیثیت ہی رکھتی ہیں۔‘‘
احسان غنی بھی شاہد جمیل کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹس کے نتائج پہلے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، ”جب نتائج پہلے ہی معلوم ہوں تو انکوائری شروع ہی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
نتائج پہلے سے معلوم ہونے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پمز ہسپتال میں حالیہ واقعے سے پہلے بھی متعدد مسائل کی نشاندہی ہو چکی تھی، کئی انکوائریاں کی جا چکی تھیں جبکہ کچھ اب بھی جاری ہیں۔ یہ صورتحال ماہرین کے اس سوال کو تقویت دیتی ہے کہ جب مسائل پہلے ہی معلوم ہوں تو بار بار انکوائری کیوں کی جائے، ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کیوں نہ کیے جائیں؟
ایسے حادثات کی وجہ کیا ہے؟
سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کے مطابق پمز سانحے سے پہلے بھی اس ہسپتال میں مختلف انتظامی مسائل سامنے آ چکے تھے اور ان پر متعدد انکوائریاں اور تحقیقات ہو چکی تھیں۔ ان کے مطابق پوسٹ گریجویٹ نشستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، نرسنگ داخلوں، طبی فضلے کی تلفی اور سینئر ڈاکٹروں کی حاضری سے متعلق معاملات پر بھی کارروائیاں کی گئی تھیں۔
دانیال عزیز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بڑے بیوروکریٹک اداروں میں انتظامی سطحوں کی کثرت جواب دہی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں نگرانی کا نظام اور اچھی طرزِ حکمرانی متاثر ہوتی ہے۔
ان کے مطابق مسئلے کا حل مزید انکوائری کمیٹیاں قائم کرنا نہیں بلکہ اداروں کو زیادہ خودمختار اور مؤثر بنانا اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے تاکہ فیصلے کرنے اور جواب دہی کا عمل دونوں ہی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکیں۔
واپس کریں