
.. دنیا کا پہلا باقاعدہ قانون ساز حمورابی 1792 قبل مسیح میں بابل کا حکمران بنا، جس نے پتھر کی سلوں پر مفصل ضابطۂ قانون کندہ کرایا۔ یعنی اسلام کی آمد سے تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل۔
.. جدید طب کا بانی بقراط 460 قبل مسیح میں پیدا ہوا، جس نے بیماریوں کو توہم پرستی اور دیوتاؤں کے غضب کے بجائے طبعی اسباب سے جوڑا اور وہ طبی حلف دیا جو آج بھی پڑھا جاتا ہے۔ یعنی اسلام سے گیارہ سو سال قبل•
.. دنیا کا عظیم طبیعات دان اور ریاضی دان ارشمیدس 287 قبل مسیح میں پیدا ہوا، جس نے اچھال کا اصول (Buoyancy) اور لیور کے قوانین دریافت کیے۔ یعنی اسلام سے نو سو سال قبل.
.. دنیا کا عظیم ترین ریاضی دان فیثاغورث 570 قبل مسیح میں پیدا ہوا، جس کے جیومیٹری کے فارمولے آج بھی رائج ہیں۔ یعنی اسلام سے بارہ سو سال قبل۔
.. دنیا کے عظیم ترین مفکرین سقراط، افلاطون اور ارسطو پانچویں اور چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئے.منطق، سیاسیات، اخلاقیات، حیاتیات اور فلسفے کی بنیادیں انہی کی فکر پر رکھی گئیں .یعنی اسلام سے ایک ہزار سال قبل.
.. ریاضی اور جیومیٹری کا امام اقلیدس 300 قبل مسیح میں گزرا، جس کی کتاب ایلیمنٹس صدیوں تک دنیا کی درسی کتاب رہی۔ یعنی اسلام سے نو سو سال قبل۰
.. فلکیات اور جغرافیہ کا ماہر ایراتوستھینز 276 قبل مسیح میں گزرا، جس نے اسلام سے آٹھ سو سال قبل زمین کے حجم اور اس کے گھیر Circumference کی درست پیمائش کر کے دنیا کے گول ہونے کا سائنسی ثبوت فراہم کر دیا تھا.
.. جراحت اور علمِ تشریح الاعضاء (Anatomy) کا ماہر ہیرو فیلس (Herophilus) 335 قبل مسیح میں گزرا، جس نے اسلام سے ایک ہزار سال قبل دماغ اور اعصابی نظام (Nervous System) کے تعلق کو دریافت کیا۔
.. عظیم ہندوستانی ماہرِ معاشیات، سیاست اور ریاستی امور کا ماہر چانکیہ (کوتلیہ) 375 قبل مسیح میں گزرا، جس کا ارتھ شاستر آج بھی ریاستی انتظام اور سفارت کاری کا شاہکار ہے۔ یعنی اسلام سے قریباً ایک ہزار سال قبل.
.. عظیم چینی فلسفی کنفیوشس 551 قبل مسیح میں پیدا ہوا، جس نے سماجی انصاف، ذاتی اخلاقیات اور فلاحی ریاست کا ایسا مربوط نظام دیا جس نے مشرقی تہذیب کو صدیوں سنبھالے رکھا۔ یعنی اسلام سے گیارہ سو سال قبل۔
.. دنیا کی پہلی باقاعدہ منظم یونیورسٹی "تکشیلا" (ٹیکسلا) 600 قبل مسیح میں قائم ہو چکی تھی، جہاں دنیا بھر سے ہزاروں طلبہ سائنس، طب، فلسفہ اور فلکیات پڑھنے آتے تھے۔ یعنی اسلام سے بارہ سو سال قبل.
.. قدیم مصر، سندھ طاس (موہنجودڑو و ہڑپہ)، میسوپوٹیمیا اور چین کی شاندار شہری تہذیبیں، پختہ انڈرگراؤنڈ نکاسیٔ آب، سڑکیں، فنِ تعمیر اور تحریری خطوط، اسلام کی آمد سے ہزاروں سال قبل وجود میں آ کر عروج پا چکے تھے.
لہٰذا اب یہ راگ الاپنا کہ اسلام سے قبل کا دور، دورِ جہالت تھا بند کر دیجئے کیونکہ یہ کہنا بذاتِ خود آپ کی اپنی ہی تاریخی اور فکری جہالت کا کھلا ثبوت ہے۔ پوری دنیا کے علوم، ایجادات، قوانین، فنِ تعمیر اور فلسفے کو ایک ہی جھٹکے میں اندھیرا قرار دے دینا تاریخی حقائق کیساتھ کھلے فراڈ کے سوا کچھ نہیں۰
ہاں البتہ یہ ضرور کہا جانا چاہیے کہ صرف ایک خطۂ عرب ہی اس وقت دورِ جاہلیت میں تھا... اور پھر لازم ہے کہ اس تاریخی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اسلام کو عرب کے مخصوص سماجی تناظر میں رکھ کر یہ غیر جانبدارانہ اور بے لاگ سوال اٹھایا جائے: کیا واقعی ان پندرہ سو برسوں میں اس نام نہاد حتمی دینی نظام نے عربوں اور بالخصوص باقی تمام اسلامی معاشروں کی جہالت دور کر دی ہے ؟؟؟
واپس کریں