ثوبیہ شاہد کی معطلی: پارلیمانی نظم و ضبط یا سیاسی کشمکش؟ خالد خان

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی رکن ثوبیہ شاہد کی دو ہفتوں کے لیے اسمبلی کارروائی میں شرکت سے معطلی ایک ایسا واقعہ ہے جسے محض ایک رکن اور ڈپٹی سپیکر کے درمیان تلخ کلامی یا ایوان میں ہونے والے ہنگامے تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورت حال، حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعلقات، پارلیمانی روایات اور ایوان کے اندر اختلافِ رائے کے بڑھتے ہوئے تصادم کی ایک واضح تصویر بھی پیش کرتا ہے۔
21 اگست 2026 کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی رکن سجاد بارکوال نے بانی تحریک انصاف عمران خان کی صحت اور ان کے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے معاملے پر گفتگو کی۔ اسی دوران مسلم لیگ ن کی رکن ثوبیہ شاہد نے کورم کی نشاندہی کردی۔ اس پر حکومتی ارکان کی جانب سے احتجاج شروع ہوگیا اور ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق دونوں جانب سے شور شرابہ ہوا اور ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے متعدد مرتبہ ارکان کو خاموش رہنے اور اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔
یہاں پہلے بنیادی سوال کو الگ کرنا ضروری ہے: کیا کورم کی نشاندہی کرنا اپوزیشن رکن کا حق ہے؟ پارلیمانی نظام میں کورم ایوان کی کارروائی کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر کسی رکن کو یہ محسوس ہو کہ اجلاس کے لیے مطلوبہ تعداد پوری نہیں تو اس کی نشاندہی کرنا پارلیمانی طریقہ کار کا حصہ ہے۔ اس لیے صرف اس بنیاد پر ثوبیہ شاہد کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہوگا کہ انہوں نے کورم کی نشاندہی کیوں کی۔
اس معاملے میں دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اے این پی کے پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان نے بھی حکومتی بینچوں کی خالی نشستوں کی طرف توجہ دلائی اور ایوان کے تقدس کا احترام کرنے کی بات کی۔ بعد ازاں مختصر وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور مطلوبہ تعداد میں ارکان ایوان میں موجود تھے۔
لیکن معاملے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کورم کی نشاندہی ایک بات ہے اور چیئر کی ہدایات کے باوجود ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا دوسری بات۔ اگر ثوبیہ شاہد نے واقعی متعدد مرتبہ ہدایت ملنے کے باوجود احتجاج اور شور جاری رکھا تو ڈپٹی سپیکر کے لیے ایوان کا نظم برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کرنا غیر معمولی بات نہیں۔ پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کسی بھی رکن کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اختلافِ رائے کے اظہار کے نام پر کارروائی مکمل طور پر مفلوج کردے۔
رپورٹس کے مطابق ڈپٹی سپیکر نے ثوبیہ شاہد کو متعدد مرتبہ اپنی نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسمبلی میں ہیں اور انہیں اپنی نشست پر بیٹھنا چاہیے۔ اس کے بعد ثوبیہ شاہد کو دو ہفتوں تک اسمبلی اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا۔
یہاں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے: کیا سزا مناسب اور متناسب تھی؟
ایک غیر جانب دار تجزیے میں اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں دینا آسان نہیں۔ اگر ثوبیہ شاہد کا بنیادی قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے کورم کی نشاندہی کی تو دو ہفتے کی معطلی یقیناً سخت اقدام معلوم ہوگا۔ لیکن اگر کورم کی نشاندہی کے بعد انہوں نے مسلسل چیئر کی ہدایات نظرانداز کیں اور کارروائی میں خلل ڈالا تو ڈپٹی سپیکر کے پاس نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کا جواز موجود ہوسکتا ہے۔
اصل مسئلہ سزا کی مدت اور اس کے طریقۂ کار کا ہے۔ ایک جمہوری اسمبلی میں سزا کا مقصد رکن کو سیاسی طور پر خاموش کرنا نہیں بلکہ ایوان کے نظم کو بحال کرنا ہونا چاہیے۔ اگر دو ہفتوں کی پابندی واقعی پارلیمانی قواعد کے تحت دی گئی ہے تو اس کا قانونی جواز اپنی جگہ موجود ہوگا، لیکن سیاسی طور پر اس اقدام کا تاثر اس وقت تک متنازع رہے گا جب تک عوام کے سامنے واضح نہ ہو کہ کون سا مخصوص پارلیمانی ضابطہ استعمال کیا گیا، کیا وارننگز دی گئیں اور سزا کی بنیاد کیا بنی۔
یہاں حکومت کے لیے بھی ایک سبق موجود ہے۔ تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں واضح سیاسی طاقت حاصل ہے، اس لیے اسے اپوزیشن کے احتجاج سے خوف زدہ ہونے کے بجائے پارلیمانی اکثریت کے اعتماد کے ساتھ اختلاف برداشت کرنا چاہیے۔ حکومت اگر ہر سخت سوال یا احتجاج کو بدنظمی قرار دے گی تو اپوزیشن کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع ملے گا کہ اسے ایوان میں بولنے نہیں دیا جارہا۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی یہ واقعہ ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو جواب دہ بنانا ہے، حکومت کی ہر بات پر ہنگامہ کرنا نہیں۔ کورم کی نشاندہی، توجہ دلاؤ نوٹس، سوالات، تحریکیں، قراردادیں، واک آؤٹ اور دیگر پارلیمانی ذرائع اسی لیے موجود ہیں کہ اختلاف کو ادارہ جاتی شکل دی جاسکے۔ اگر احتجاج مسلسل شور میں تبدیل ہوجائے تو بالآخر اپوزیشن بھی وہ اخلاقی برتری کھو دیتی ہے جو ایک مؤثر پارلیمانی اپوزیشن کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
اس واقعے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اسمبلی میں بحث ایک اہم سیاسی مسئلے سے شروع ہوئی تھی۔ حکومتی رکن سجاد بارکوال عمران خان کی صحت اور جیل منتقلی پر بات کر رہے تھے۔ یہ ایسا موضوع تھا جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنا اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھ سکتے تھے۔ لیکن چند ہی لمحوں میں بحث کورم، احتجاج، شور شرابے اور بالآخر ایک اپوزیشن رکن کی معطلی میں تبدیل ہوگئی۔
اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا اسمبلی واقعی صوبے کے بنیادی مسائل پر وہ بحث کر رہی ہے جس کی عوام اس سے توقع رکھتے ہیں؟ خیبر پختونخوا اس وقت امن و امان، دہشت گردی، بے روزگاری، مالی مشکلات، صحت، تعلیم، بلدیاتی نظام اور بنیادی سہولیات جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اسمبلی کا وقت اور توانائی اگر مسلسل حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تصادم میں صرف ہوگی تو پارلیمانی ادارے کی اصل افادیت متاثر ہوگی۔
ثوبیہ شاہد خود بھی اسمبلی کی کارروائی میں فعال رہی ہیں اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق مختلف قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔ جنوری 2026 میں وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و قبائلی امور کے اجلاس میں بھی شریک تھیں، جبکہ مارچ میں قائمہ کمیٹی برائے بلدیات، انتخابات اور دیہی ترقی کے اجلاس میں ان کی شرکت ریکارڈ پر موجود ہے۔
اس لیے اس واقعے کو کسی ایک رکن کی پوری سیاسی شخصیت کا فیصلہ سمجھنا بھی مناسب نہیں۔ ایک پارلیمانی رکن کسی موقع پر قواعد کی پابندی میں غلطی کرسکتا ہے، اسی طرح حکومت یا چیئر بھی کسی معاملے میں سخت ردعمل کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ جمہوریت کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ ادارے شخصیات سے بڑے ہوتے ہیں اور کسی ایک واقعے کو پورے سیاسی کردار کا پیمانہ نہیں بنایا جاتا۔
دوسری طرف ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے لیے بھی یہ واقعہ ایک امتحان ہے۔ چیئر کی بنیادی ذمہ داری صرف حکومت یا اپوزیشن کو خاموش کرانا نہیں بلکہ دونوں کو یکساں طور پر پارلیمانی قواعد کا پابند رکھنا ہے۔ اگر حکومتی ارکان بھی شور شرابے میں شریک تھے تو نظم و ضبط کا معیار دونوں اطراف کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ غیر جانب داری صرف غیر جانب دار ہونے سے نہیں بلکہ غیر جانب دار دکھائی دینے سے بھی ثابت ہوتی ہے۔
اسی طرح اپوزیشن کے لیے بھی اصول واضح ہونا چاہیے کہ چیئر کی ہدایت سے اختلاف ہو تو اس کے خلاف پارلیمانی طریقہ اختیار کیا جائے، نہ کہ ایوان کی کارروائی روک دی جائے۔ ایک رکن کو اپنے مؤقف کی طاقت اپنے دلائل سے ثابت کرنی چاہیے، آواز کی بلندی سے نہیں۔
یہ واقعہ دراصل خیبر پختونخوا اسمبلی کے لیے ایک چھوٹا مگر اہم امتحان ہے۔ اگر حکومت اس معطلی کو اپوزیشن کو دبانے کے لیے سیاسی کامیابی سمجھتی ہے اور اپوزیشن اسے صرف انتقامی کارروائی قرار دے کر اگلے اجلاس میں مزید شدید احتجاج کرتی ہے تو دونوں فریق اصل سبق کھو دیں گے۔ لیکن اگر اسے پارلیمانی نظم و ضبط اور اختلافِ رائے کے درمیان توازن قائم کرنے کا موقع سمجھا جائے تو یہی واقعہ اسمبلی کی روایت بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ثوبیہ شاہد کی معطلی کو نہ اندھی حمایت کی ضرورت ہے نہ اندھی مخالفت کی۔ کورم کی نشاندہی کو سیاسی جرم قرار دینا درست نہیں، لیکن چیئر کی واضح ہدایات کے باوجود کارروائی میں خلل ڈالنے کو بھی پارلیمانی استحقاق نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح نظم و ضبط قائم کرنا ڈپٹی سپیکر کا اختیار ہے، مگر اس اختیار کا استعمال شفاف، متناسب اور بلاامتیاز ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو ایسی اسمبلی چاہیے جہاں حکومت اپنی کارکردگی کا دفاع کرے، اپوزیشن اس کا احتساب کرے، چیئر دونوں کو برابر مواقع دے اور اختلافِ رائے شور میں نہیں بلکہ دلیل میں تبدیل ہو۔ اگر یہ اصول قائم ہوجائے تو ثوبیہ شاہد کا حالیہ واقعہ محض ایک معطلی کی خبر نہیں رہے گا بلکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے پارلیمانی کلچر کے لیے ایک اہم سبق بن سکتا ہے۔
اصل کامیابی کسی رکن کو دو ہفتوں کے لیے خاموش کرانے میں نہیں، بلکہ اس ماحول کو ختم کرنے میں ہے جس میں ایک منتخب اسمبلی میں دلیل کی جگہ شور لے لیتا ہے۔
واپس کریں