
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بیماری اور علاج کے حوالے سے تنقید کرنے والوں کی سطحی اور غیر پیداواری سوچ پر افسوس ہوتا ہے، گو کہ خاکسار کو ان سے کسی قسم کی ہمدردی نہیں رہی اور نہ ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف تنقید اور مذاق صرف اس بنیاد پر ہو رہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں علاج کے حوالے سے نواز شریف صاحب کے ساتھ نامناسب یا ظالمانہ رویہ رکھا گیا تھا لیکن کچھ ہی عرصہ پہلے تک ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے سابق انقلابیوں کو کوئی یہ بات سمجھائے کہ عمران خان کے علاج کی بابت، پس پردہ اب بھی وہی ہاتھ کارفرما ہے جو نواز شریف کے علاج معالجے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔پہلے بغض نواز تھا،اس سے پہلے بغض بھٹو،بغض جونیجو،بغض بے نظیر پھربغض زرداری اور اب بغض عمران کار فرما ہے اور ایسا ناروا رویہ انہی سیاسی یا سماجی لیڈران کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے جو عوام میں مقبولیت رکھتے ہوں۔(جن کو عمران خان کی مقبولیت پر اعتراض ہو وہ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کا الیکشن رزلٹ یاد کریں) خفیہ ہاتھ سب کچھ برداشت کر لیں گے لیکن کسی سیاسی لیڈر کی عوام میں ضرورت سے زیادہ شہرت اور عزت کسی طور قبول نہیں کریں گے بلکہ اسے رگڑا دیں گے جیسا کہ عمران خان کو دیا جا رہا ہے اور جیسے اس سے پہلے بھی مذکورہ بالا پاپولر سیاسی لیڈران کو سبق سکھایا گیا۔
ناچیز یقین سے کہتا ہے کہ جمہوری اور سیاسی سوچ رکھنے والا اس ملک کا کوئی بھی لیڈر کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے سیاسی مخالفین جیلوں میں اذیتیں سہیں کیونکہ جمہوری اور سیاسی لوگ زاتی نہیں بلکہ سیاسی انتقام پر یقین رکھتے ہیں،زاتی انتقام یا جیل میں قید کرنے کا سیدھا مطلب اپنے سیاسی مخالفین کو ہیرو بنانا ہوتا ہے اور یہ بات بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر زاتیات پر اترا گیا تو کل ان کی اپنی باری بھی آ سکتی ہے۔ناچیز دوبارہ عرض کیئے دیتا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں اپوزیشن بلخصوص مسلم لیگ ن کے ساتھ جو ناروا سلوک بلکہ ظلم ہوا اس میں عمران خان کی دلچسپی کم اور عمران خان کو لانے والوں کی زیادہ تھی اوریہ بات ثابت ہو چکی ہے۔جہاں تک موجودہ وقت میں عمران خان کے ساتھ منسلک معاملات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں آپ کسی بھی حکومتی عہدیدار کو حلف دے کر پوچھیں تو وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دے گا اور کہے گا کہ ہمارا لینا دینا نہیں بلکہ عمران خان کے حوالے سے احکامات کہیں اور سے جاری ہوتے ہیں۔ اسی بات کو ثابت کرتے ہوئے آج پی ٹی آئی کے لیڈر بیرسٹر گوہر علی خان نے عمران خان کے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ”جو کچھ ہوا وہ بڑی بدقسمتی ہے اس کی توقع نہیں تھی، کوئی ہے جو نہیں چاہتا کہ حالات بہتری کی طرف جائیں، ہمیں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہو گا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑا واضح تھا، کوئی ابہام تھا تو دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا“
یہاں یہ واضع رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں جب نوازشریف صاحب بیمار تھے یا کہا گیا کہ انہیں علاج کی ضرورت ہے تو انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے لاہور کارڈیالوجی اور تین مرتبہ سروسز ہسپتال حکومت نے منتقل کیا گیا تھا، نواز شریف کو کسی عدالت کا دروازہ کھٹکٹکانے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔
اگر تنقید کرنی ہے تو اس سسٹم یا نظام کے خلاف کیجئے جو عوام کو سر اٹھا کر جینے نہیں دے رہا،تنقید کرنے کا شوق پورا کرنا ہے تو اس ملک کے عدالتی نظام کے خلاف کیجئے جہاں پسند اور ناپسند کی بنیاد پر انصاف تقسیم کیا جاتا ہے،سال ہا سال فیصلے نہیں ہوتے اور انصاف کے طلب گار انصاف کی بھیک مانگتے مانگتے قبر میں جا پہنچتے ہیں اور اگر گالیاں دینی ہیں تو فرنگی سامراج کے دیئے گئے اس ظالمانہ نظام سے منسلک ان عناصر کو دیجئے جس کی کرپشن، نالائقیوں اور بے بنیاد پالیسیوں کے باعث اس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور جو باقی سفید پوش آبادی ہے وہ اس ملک سے بھاگنے کی تدبیریں کر رہی ہے۔
تجربہ کاروں کی اس حکومت میں پہلے ایران جنگ کا بہانہ بنا کر اس ملک کے عوام کو خوب لوٹا گیا،اب آئی ایم ایف کے نام پر پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مہنگائی اور بے روز گاری مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ملکی قرضوں پر 5 برس کے دوران 32 ہزار ارب روپے سود ادا کیے گئے، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا سے 10 ارب ڈالرز کی مالی سہولت مانگنے کی تصدیق کر دی ہے۔
آخر میں دوبارہ عرض کروں کہ یہاں کسی بھی فردِ واحد کی سیاسی یا سماجی مقبولیت کسی طور بھی قابل قبول نہیں اور یہی بغض اس ملک میں سارے عدم استحکام کی واحد وجہ ہے۔
واپس کریں