ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
شام اتر رہی تھی۔ شہر کی روشنیاں ایک ایک کرکے جل رہی تھیں، مگر دور کہیں کسی بستی کے ملبے پر ابھی بھی دھوئیں کی ایک باریک لکیر آسمان کی طرف اٹھ رہی تھی۔ ایک مفکر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں سوال تھا۔
نوجوان نے کہا: ’’آج عالمی یومِ انسانیت منایا جا رہا ہے۔ جگہ جگہ تقاریر ہوں گی، پیغامات جاری ہوں گے، انسانیت کے نام پر الفاظ کے چراغ روشن کیے جائیں گے۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انسانیت آخر ہے کیا؟‘‘
مفکر نے مسکرا کر پوچھا: ’’تمہارے خیال میں انسان ہونا کافی نہیں؟‘‘
’’کیا انسان پیدا ہونا انسان ہونے کے لیے کافی نہیں؟‘‘
’’اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں ظلم کہاں سے آتا؟‘‘
نوجوان کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: ’’تو کیا انسان ہونا ایک فطری حالت نہیں بلکہ ایک اخلاقی مقام ہے؟‘‘
’’اب تم سوال کے قریب پہنچ رہے ہو۔ جسم کے اعتبار سے انسان ہونا پیدائش کا نتیجہ ہے، مگر کردار کے اعتبار سے انسان ہونا انتخاب کا نتیجہ ہے۔ انسان ہمیں جسم کی صورت میں ملتا ہے، مگر انسانیت ہمیں اپنے اعمال سے تعمیر کرنا پڑتی ہے۔‘‘
’’لیکن ہم نے تو انسانی تہذیب کو بہت آگے پہنچا دیا ہے۔ ہم نے ستاروں تک رسائی حاصل کرلی، سمندروں کی تہوں کو کھوج لیا، مصنوعی ذہانت پیدا کرلی، بیماریوں کے علاج دریافت کیے اور دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔‘‘
’’اور پھر؟‘‘
’’اور پھر کیا؟‘‘
’’کیا اس ترقی کے ساتھ انسان کا دل بھی وسیع ہوا؟‘‘
نوجوان نے پہلی مرتبہ نظریں جھکا لیں۔
مفکر نے کہا: ’’یہی تو ہمارے عہد کا عجیب المیہ ہے۔ عقل نے کائنات کے فاصلے کم کردیے، مگر دلوں کے فاصلے بعض اوقات بڑھتے گئے۔ ہم نے پیغام کو ایک لمحے میں براعظموں تک پہنچا دیا، لیکن ایک مظلوم کی فریاد کو اپنے ضمیر تک پہنچنے میں کبھی کبھی برسوں لگ جاتے ہیں۔ ہم نے ایسی مشینیں بنالیں جو سوچ سکتی ہیں، مگر خود سوچنے سے بچنے لگے کہ کسی انسان کا درد ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔‘‘
نوجوان نے پوچھا: ’’تو انسانیت کا پہلا امتحان کیا ہے؟‘‘
’’یہ کہ تم کسی ایسے انسان کے دکھ کو بھی اپنا مسئلہ سمجھو جس سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں۔‘‘
’’کیا یہی ہمدردی ہے؟‘‘
’’ہمدردی اس کا آغاز ہے، انتہا نہیں۔‘‘
’’پھر انتہا کیا ہے؟‘‘
’’انصاف۔‘‘
نوجوان چونکا۔ ’’انصاف؟ انسانیت تو رحم کا نام سمجھی جاتی ہے۔‘‘
’’رحم ضروری ہے، مگر اگر رحم صرف زخم پر پٹی باندھے اور یہ نہ پوچھے کہ زخم کس نے لگایا، تو وہ درد کو وقتی طور پر خاموش تو کرسکتا ہے، ختم نہیں۔ بھوکے کو کھانا دینا رحم ہے؛ یہ پوچھنا کہ وہ بھوکا کیوں ہے، انصاف ہے۔ بے گھر کو خیمہ دینا رحم ہے؛ یہ دریافت کرنا کہ اسے گھر سے کس نے محروم کیا، انصاف ہے۔ جنگ کے زخمی کو دوا دینا رحم ہے؛ جنگ کے دروازے پر کھڑے ہوکر یہ پوچھنا کہ اسے شروع کس نے کیا، انصاف ہے۔‘‘
نوجوان نے کہا: ’’یعنی انسانیت صرف کسی مصیبت زدہ کو بچانے کا نام نہیں بلکہ مصیبت پیدا کرنے والے اسباب کو چیلنج کرنے کا نام بھی ہے؟‘‘
’’بالکل۔ کیونکہ اگر تم صرف زخموں کا علاج کرتے رہو اور زخم پیدا کرنے والی تلواروں کو مقدس سمجھتے رہو تو تمہاری انسانیت ادھوری ہے۔‘‘
دور کہیں اذان کی آواز بلند ہوئی۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔
نوجوان نے پھر پوچھا: ’’مگر دنیا میں اتنے دکھ ہیں کہ انسان ان سب کو کیسے محسوس کرے؟ جنگیں، قحط، سیلاب، زلزلے، ہجرتیں، بیماریاں، غربت کیا ایک انسان کا دل اتنے دکھوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟‘‘
مفکر نے آہستہ سے جواب دیا: ’’خطرہ دکھ کی کثرت میں نہیں، دکھ سے عادت ہوجانے میں ہے۔‘‘
’’دکھ سے عادت؟‘‘
’’ہاں۔ جب جنگ روزانہ کی خبر بن جائے، بھوک ایک عدد بن جائے، مہاجر ایک اصطلاح بن جائے اور موت ایک سرخی، تو انسان کا دل ایک عجیب خاموشی میں داخل ہوجاتا ہے۔ پہلی لاش ہمیں ہلا دیتی ہے، سوویں لاش شاید ہمیں صرف اسکرین بدلنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے اندر کا چراغ مدھم ہونے لگتا ہے۔‘‘
نوجوان نے کہا: ’’تو عالمی یومِ انسانیت دراصل دنیا کو اس بھولی ہوئی حساسیت کی یاد دہانی ہے؟‘‘
’’ہاں، مگر صرف حساسیت کی نہیں، ذمہ داری کی بھی۔‘‘
’’ذمہ داری کس کی؟ حکومتوں کی؟ عالمی اداروں کی؟ امدادی تنظیموں کی؟‘‘
’’سب کی۔ اور تمہاری بھی۔‘‘
’’میری؟ میں دنیا کی جنگیں تو نہیں روک سکتا۔‘‘
’’کیا تم اپنے محلے میں کسی بھوکے کو کھانا نہیں دے سکتے؟ کسی بیمار کی مدد نہیں کرسکتے؟ کسی مظلوم کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے؟ کسی ایسے شخص کی عزت نہیں کرسکتے جسے معاشرہ حقیر سمجھتا ہے؟‘‘
نوجوان نے کہا: ’’شاید کر سکتا ہوں۔‘‘
’’تو پھر انسانیت تمہارے اختیار سے باہر نہیں۔‘‘
نوجوان نے کچھ توقف کے بعد پوچھا: ’’مگر ہم انسانوں کو برابر کیوں نہیں دیکھ پاتے؟ ہم اپنے مقتول کو انسان اور دوسرے کے مقتول کو عدد کیوں سمجھتے ہیں؟ اپنے مہاجر کو مظلوم اور دوسرے کے مہاجر کو بوجھ کیوں؟‘‘
مفکر کی نگاہ افق پر جم گئی۔
’’کیونکہ انسان نے شناختوں کو انسانیت سے بڑا بنا دیا ہے۔ پہلے قوم، پھر مذہب، پھر زبان، پھر رنگ، پھر سیاست، اور آخر میں انسان۔ حالاں کہ اخلاقی ترتیب اس کے برعکس ہونی چاہیے۔ انسان پہلے انسان ہے؛ باقی شناختیں اس کے بعد آتی ہیں۔‘‘
’’لیکن سرحدیں تو ضروری ہیں۔ ریاستیں بھی ضروری ہیں۔‘‘
’’ضروری ہیں، مگر سرحدیں انسان کے لیے ہیں، انسان سرحدوں کے لیے نہیں۔ جب سرحد انسانی جان کی حرمت سے بڑی ہوجائے تو سیاست اخلاق سے جدا ہوجاتی ہے۔‘‘
نوجوان نے پوچھا: ’’کیا قدرت بھی انسانوں میں فرق کرتی ہے؟‘‘
’’زلزلہ پاسپورٹ نہیں دیکھتا۔ سیلاب مذہب نہیں پوچھتا۔ بیماری دولت کی پرچی نہیں مانگتی۔ موت عہدہ نہیں دیکھتی۔ قدرت کے سامنے انسان کی بنیادی بے بسی ایک جیسی ہے۔ مگر ہمارے بنائے ہوئے نظاموں میں انسان کی قدر برابر نہیں رہی۔ یہی تہذیب کا سب سے بڑا تضاد ہے۔‘‘
’’تو کیا ترقی بھی ناکام ہوگئی؟‘‘
’’نہیں۔ ترقی ناکام نہیں ہوئی؛ ہماری اخلاقی رہنمائی کمزور ہوئی ہے۔ علم بذاتِ خود نجات نہیں دیتا۔ طاقت بذاتِ خود خیر نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ علم کس مقصد کے لیے اور طاقت کس کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘‘
نوجوان نے آہستہ سے کہا: ’’تو شاید دنیا کو مزید طاقتور انسانوں کی نہیں، ذمہ دار انسانوں کی ضرورت ہے۔‘‘
مفکر مسکرایا۔ ’’اب تم خود جواب دینے لگے ہو۔‘‘
’’ایسا انسان جو طاقت رکھتا ہو مگر کمزور کو نہ کچلے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’جو اختلاف کرے مگر دوسرے کی عزت باقی رکھے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’جو اپنے لیے آسائش چاہے مگر دوسروں کی محرومی سے بے خبر نہ ہو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’جو ظلم دیکھ کر یہ نہ کہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں؟‘‘
مفکر نے کہا: ’’کیونکہ یہی جملہ ظلم کا سب سے خاموش ساتھی ہے۔‘‘
کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔ پھر نوجوان نے پوچھا: ’’اگر میں کسی ایک انسان کی مدد کروں تو کیا واقعی اس سے انسانیت بدل سکتی ہے؟‘‘
’’پوری انسانیت شاید نہیں، مگر اس ایک انسان کی پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ اور کبھی کبھی یہی پوری انسانیت کے مفہوم کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘
’’پھر انسان ہونے کی سب سے بڑی گواہی کیا ہے؟‘‘
مفکر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ رات مکمل ہوچکی تھی۔
’’یہ نہیں کہ تم کتنے طاقتور تھے۔ یہ ہے کہ تمہاری طاقت سے کتنے کمزور محفوظ ہوئے۔ یہ نہیں کہ تم نے دنیا سے کتنا حاصل کیا؛ یہ ہے کہ دنیا کے درد سے تم نے کتنا وفا کا رشتہ قائم رکھا۔ اور یہ نہیں کہ تم نے کتنے بڑے کارنامے انجام دیے؛ کبھی کبھی صرف اتنا کافی ہے کہ جب پوری دنیا نے کسی انسان کو تنہا چھوڑ دیا، تم نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔‘‘
نوجوان نے کہا: ’’تو انسان ہونا ایک اعزاز نہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر کیا ہے؟‘‘
’’ایک امانت۔ ایک عہد۔ ایک قرض۔‘‘
’’اور یہ قرض کب ادا ہوگا؟‘‘
مفکر نے کہا: ’’جس دن تم کسی اجنبی کے درد کو اپنا درد سمجھ کر اس کے لیے کھڑے ہوجاؤ گے، اس دن اس قرض کی ایک قسط ادا ہوگی۔ مگر یاد رکھو، یہ قرض ایک دن میں ادا نہیں ہوتا۔ انسان کو ہر صبح اپنے کردار سے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ واقعی انسان ہے۔‘‘
صبح ابھی بہت دور تھی، مگر مشرق کے افق پر روشنی کی ایک نہایت باریک لکیر نمودار ہوچکی تھی۔
شاید وہ سورج نہیں تھا۔
شاید وہ انسانیت کا چراغ تھا۔
اور شاید پوری تہذیب کا مستقبل اسی سوال پر منحصر ہے کہ ہم اسے بجھنے دیتے ہیں یا اپنے عمل سے روشن رکھتے ہیں۔
واپس کریں