دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سوشل میڈیا اور شعور کی نئی لہر
No image وہ دن گئے جب عوام کی خاموشی کو حکمت یا احترام سمجھا جاتا تھا اور سیاست دانوں یا ریاست کی غلط پالیسیوں پر بھی زندہ باد کے نعرے بلند کیے جاتے۔ ستر اور اسی کی دہائیوں میں عوام، خاص طور پر نوجوان، روایتی دباؤ، محدود معلومات اور ایک طرفہ پروپیگنڈا کے زیر اثر رہتے تھے۔ غلط بات یا عوام کش پالیسیوں کو بھی صحیح اور درست کہنے کا رجحان عام تھا کیونکہ متبادل آوازیں کم تھیں، تنقید کا خوف اور ریاست کا ڈر زیادہ تھا اور معلومات تک رسائی بہت محدود جبکہ آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ سوشل میڈیا اور بڑھتے ہوئے شعور کی بدولت عوام، بالخصوص نوجوان نسل، دو ٹوک بات کرنے لگی ہے۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی ہمت پیدا ہو گئی ہے۔سوشل میڈیا نے معلومات کی تقسیم کو جمہوری بنا دیا ہے۔
پہلے صرف چند اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن ہی حقیقت بیان کرتے تھے یا بیان کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اب ہر فرد کے ہاتھ میں ایک پلیٹ فارم ہے۔ نوجوان ٹیوٹر، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپنی رائے بلا جھجک رکھتے ہیں۔ وہ حکومتی یا ریاستی فیصلوں، سماجی روایات، مذہبی تفسیر، اقتصادی پالیسیوں اور سیاسی بیانات پر براہ راست تنقید کرتے ہیں۔ کسی بڑے نام یا ادارے کا دباؤ اب اتنا مؤثر نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔
اب ایک عام نوجوان بھی حقائق کی بنیاد پر سوال اٹھاتا ہے اور اس کا سوال لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں عوام تک منٹوں میں پہنچ جاتا ہے۔اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ تعلیم اور شعور کی وسعت ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا بھر کی معلومات کو گھر گھر پہنچا دیا ہے۔ نوجوان اب صرف مقامی یا سرکاری بیانیے پر انحصار نہیں کرتے بلکہ عالمی تناظر، تاریخی حقائق اور مختلف نقطہ نظر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ اندھی تقلید سے بالاتر ہو کر منطقی سوچ اختیار کر رہے ہیں۔ غلط کام کو محض اس لیے قبول نہیں کرتے کہ وہ کسی بڑے شخصیت یا پارٹی سے منسوب ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں، ثبوت مانگتے ہیں اور جواب طلب کرتے ہیں اور یہ رویہ جمہوریت کی بنیادی روح کے عین مطابق ہے۔
ماضی میں ”زندہ باد“ کے نعروں کا رجحان جذباتی تھا، نہ کہ منطقی۔ سیاسی جلسوں، مذہبی اجتماعات یا سماجی تقریبات میں لوگ بغیر سوچے سمجھے زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے اور غلط پالیسیاں بھی تعریف کا حصہ بن جاتی تھیں کیونکہ متبادل آوازیں دبائی جاتی تھیں یا انہیں غداری کا الزام لگا کر خاموش کر دیا جاتا تھا۔ آج نوجوان اس رجحان کو مسترد کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غلط غلط ہے، چاہے وہ کسی بھی طرف سے ہو۔ یہ دو ٹوک رویہ بعض اوقات سخت لگتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صحت مند تنقید کی بنیاد ہے۔
اس تبدیلی کے مثبت اثرات واضح ہیں۔ حکمرانوں اور اداروں کو اب عوامی رائے کا خیال رکھنا پڑے گا کیونکہ بدعنوانی، ناانصافی یا من پسند فیصلوں پر فوری ردعمل سامنے آتا ہے۔ نوجوان نسل جسے جن زی کا نام دیا گیا ہے، نے بہت سے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہوا ہے۔
وقت واقعی بہت بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور بڑھتے شعور نے نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایا ہے جو اب غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ یہ ستر یا اسی کی دہائی نہیں، یہ بلکل نئی دہائی ہے جہاں خاموشی کی بجائے حقیقت پسندی اور دو ٹوک اظہار کی قدر کی جاتی ہے۔اسی باعث ماضی قریب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیماری پر ہمدردی کا اظہار کرنے والا قومی اور ایک اہم ریاستی میڈیا ہاوس اے آر وائے بھی اگر آج اگر سابق وزیر اعظم عمران خان کی بیماری پر ہمدردی کا اظہار کر رہا ہے تو اس پر تعجب کی کوئی بات نہیں۔ شعور کی نئی لہر اسی کو کہتے ہیں۔
ویسے بھی اب کچھ بھی قالین کے نیچے چھپایا نہیں جا سکتا۔
واپس کریں