دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانی مقتدرہ بار بار ناکام کیوں ہو جاتی ہے؟اور آئندہ بھی کیوں ناکام ہو گی؟ راجہ سعد خان
No image ͏اگر آپ مجھے عرصے سے فالو کر رہے ہیں تو میں اکثر یہ کہتا ہوں کہ سماجی قوانین بھی اپنی جگہ ایک خاص منطق کے تحت کام کرتے ہیں۔ یہ فزکس کے قوانین کی طرح کام کرتے ہیں-ان سے ایک اہم سبق ضرور لیا جا سکتا ہے: اگر آپ حقیقت کی بنیادی حرکیات کو نظرانداز کریں گے تو آپ کی مرضی کے نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔
پاکستانی مقتدرہ بار بار اسی بنیادی غلطی کا شکار ہوتی ہے۔ وہ سماج کو اپنی خواہش کے مطابق چلانے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ سماج اپنی داخلی تضادات، مفادات، طبقات، اداروں اور عوامی شعور کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔
پہلا اصول یہ ہے کہ غلط طریقے سے کیا گیا درست کام بھی بالآخر غلط نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ مقاصد چاہے کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں، اگر انہیں مسلط کرنے کا طریقہ حقیقت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو تو نتیجہ الٹا نکلتا ہے۔اور نکلتا رہے گا-
پوری انسانی تاریخ میں شخصی آمریت نے عارضی کامیابیاں تو حاصل کی ہیں، مگر دیرپا سیاسی استحکام پیدا نہیں کیا۔ طاقت کے زور پر کیا گیا فیصلہ بظاہر نافذ ہو سکتا ہے، لیکن وہ لازماً ردِعمل بھی پیدا کرتا ہے۔ جبر خاموشی پیدا کر سکتا ہے، رضامندی نہیں۔
دوسرا اصول ہے: طاقت حقیقت کو مستقل طور پر تبدیل نہیں کر سکتی، جب تک وہ سماجی تضادات کو حل نہ کرے۔
آپ کسی سیاسی قوت کو دبائیں، لیکن اگر اس کے پیچھے موجود معاشی، سماجی یا سیاسی محرکات باقی ہیں تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا؛ صرف اپنی شکل تبدیل کرتا ہے۔ ایک آواز دبائی جائے گی تو دوسری آواز پیدا ہو گی۔ ایک جماعت ختم کی جائے گی تو اس کے سیاسی مطالبات کسی دوسری شکل میں واپس آ سکتے ہیں۔تضاد ختم نہیں ہوتا، وہ حرکت پیدا کرتا ہے۔
تیسرا اصول یہ ہے کہ مقدار ایک خاص مقام پر پہنچ کر کیفیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
تھوڑی سی زبردستی شاید برداشت ہو جائے، تھوڑا سا دباؤ شاید قبول کر لیا جائے، لیکن جب دباؤ مسلسل بڑھتا جائے، جب اداروں پر اعتماد مسلسل کم ہو، جب معاشی مشکلات بڑھتی جائیں اور جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں، تو ایک مقام آتا ہے جہاں معمولی سا واقعہ بھی بڑے سیاسی ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
چوتھا اصول یہ ہے کہ کسی بھی نظام کو صرف اوپر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
ریاست، معیشت، سیاست اور معاشرہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظام ہیں۔ اگر معیشت کمزور ہو، روزگار محدود ہو، تعلیم کا معیار گرے، سیاسی نمائندگی متنازع ہو اور اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے تو صرف انتظامی طاقت بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
یہاں سماجی قوانین کا ایک بنیادی سبق سامنے آتا ہے: مادی حالات، معاشی مفادات اور سماجی تعلقات کو نظرانداز کرکے صرف سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے سے پائیدار تبدیلی نہیں آتی۔( اس بات کو دو تین بار غور سے پڑھیں)
پاکستانی مقتدرہ کی سب سے بڑی غلطی شاید یہی ہے کہ وہ اکثر سماج کو ایک مشین سمجھتی ہے جسے اوپر بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
لیکن سماج مشین نہیں ہے۔
سماج زندہ ہے، اس میں مفادات ہیں، تضادات ہیں، طبقات ہیں، خواہشات ہیں، محرومیاں ہیں اور سب سے بڑھ کر تاریخی حافظہ ہے۔آپ اسے کچھ عرصے کے لیے خاموش کر سکتے ہیں، لیکن اس کے تضادات کو ختم نہیں کر سکتے۔
اور تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:
جو طاقت سماج کی داخلی حرکیات کو سمجھنے کے بجائے صرف اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے، وہ بالآخر اپنے ہی پیدا کردہ ردِعمل کی زد میں آ جاتی ہے۔اور بار بار ناکامی مقدر ھے- مسئلہ یہ نہیں کہ مقتدرہ کے پاس طاقت کم ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ طاقت کو سماجی حقیقت کا متبادل سمجھ لیا گیا ہے-
واپس کریں